حکومت کا پھانسیوں کا عمل شروع کرنے کا اعلان

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکومت کا پھانسیوں کا عمل شروع کرنے کا اعلان

حکومت پاکستان نے ملک بھر میں پھانسیوں پر عائد غیر اعلانیہ پابندی ختم کر دی۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے وزارت داخلہ نے چاروں صوبائی حکومتوں، گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر حکومتوں کو آگاہ کر دیا ہے۔ غیر اعلانیہ پابندی ختم ہونے سے 1000 سے زائد مجرموں کو پھانسیاں دی جائیں گی۔
معاشرے میں برپا فساد، قتل و غارت اور افراتفری کا تب تک خاتمہ ناممکن ہے جب تک قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہو گی۔ 16 دسمبر 2014ء کے سانحہ پشاور کے بعد حکومت پاکستان نے چند دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکایا تو دہشت گرد اور انکے سہولت کار بھاگ گئے اور وقتی طور پر ملک میں امن قائم ہو گیا لیکن جیسے ہی حکومت نے سزائے موت پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی تو دہشت گردوں کو پھر حوصلہ ملا اور انہوں نے شکارپور، پشاور اور راولپنڈی کی امام بارگاہوں میں خون کی ہولی کھیلی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے پھانسیوں پر غیر اعلانیہ پابندی کیوں عائد کی تھی؟ جب مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا اعلان کیا گیا تو پھر اس پر قائم رہتے ہوئے قانون شکنوں، قاتلوں اور فساد برپا کرنے والوں کی سزائوں پر عملدرآمد یقینی ہونا چاہیے تھا۔16 دسمبر کے بعد حکومت نے دہشت گردی کے 22 مجرموں کو سزائے موت دی۔ اگر اسی طرح سلسلہ جاری رہتا تو آج تک کافی مجرم اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے۔ اب 1000 کے قریب مجرموں کی سزائوں پر عملدرآمد ہو گا تو اس سے یقینی طور پر دہشت گردی‘ فرقہ واریت اور جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ حکومت بلاتاخیر گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں میں سزائے موت پر عمل شروع کرکے ملک کو محفوظ بنائے اور قوم کو تحفظ فراہم کرے۔