توہین عدالت سے بچنے کیلئے حکومت اور الیکشن کمیشن مزید ٹال مٹول کے بغیر بلدیاتی الیکشن کرادیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
 توہین عدالت سے بچنے کیلئے حکومت اور الیکشن کمیشن مزید ٹال مٹول کے بغیر بلدیاتی الیکشن کرادیں

سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے کنٹونمنٹس بورڈ میں 25 اپریل، خیبر پی کے میں 30 مئی 2015ء کو جبکہ سندھ اور پنجاب میں 20ستمبر 2015ء کو انتخابات کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے 10 مارچ کو تحریری شیڈول طلب کرلیا۔ عدالت نے مزید کہا ہے کہ ان تاریخوں سے پہلے بھی انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنانے کیلئے کوشش کی جائے جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر دو عدد جدید پرنٹنگ مشینیں دستیاب ہوں تو سندھ اور پنجاب میں 20 ستمبر2015 ء کو بیک وقت انتخابات منعقدکرا سکتے ہیں، جسٹس جواد نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کا دنیا بھر میں ماسوائے انتخابات کے کوئی اور کام نہیں ہے، الیکشن کمیشن انتخابات کے انعقاد کے بعد ہر سال ووٹر لسٹوں کو اپ ڈیٹ کرنے کا پابند ہے، لیکن الیکشن کمیشن کے عمل سے صاف ظاہر ہے کہ آئین کہتا ہے تو کہتا رہے ہم نے انتخابات نہیں کروانے ہیں، بس مہلت دے کر مزید تاخیر کی جائے مگر اب انتخابات میں مزید تاریخیں دینے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔

گراس روٹ لیول تک اقتدار کی منتقلی کیلئے بلدیاتی اداروں کا فعال ہونا ضروری ہے۔ اس سے عوام کے بنیادی مسائل آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کی عدم موجودگی میں یہی کام ایم این ایز اور ایم پی ایز سے لیا جاتا ہے۔ ان کیلئے فنڈز میں بڑی کشش ہے۔ جس کو حکومت فنڈز دیتی ہے وہ فرمانبردار بھی رہتا ہے‘ اس لئے ’’جمہوری حکمرانوں‘‘ کو بلدیاتی الیکشن سوٹ نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ سال سے بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے گئے۔ سندھ اور پنجاب کی حکومت بار بار مہلت مانگتی رہی۔
جسٹس افتخار محمد چودھری بلدیاتی الیکشن کیس کی سماعت کرتے رہے۔ بادی النظر میں وہ اپنے دور کے آخر تک بلدیاتی الیکشن کرانے کیلئے کوشاں رہے۔ کبھی الیکشن کمیشن کے نمائندوں کی پیشی ہوتی اور کبھی اٹارنی جنرل اور سرکاری وکلاء طلب کئے جاتے۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر 2014ء میں الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا باقاعدہ شیڈول بھی جاری کر دیا جس کے مطابق پاک فوج کی معاونت سے سندھ میں بلدیاتی انتخابات 27نومبر اور پنجاب میں 7 دسمبر کو ہونا تھے۔یہ شیڈول قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین جیلانی کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کے اجلاس میں جاری کیا گیا۔اس شیڈول پر تو الیکشن نہ ہوسکے۔ پنجاب حکومت مزید مہلت کیلئے سپریم کورٹ چلی گئی جہاں الیکشن کمیشن خم ٹھونک کر سامنے آیا اور الیکشن کے انعقاد کی ذمہ داری قبول کرلی۔ پنجاب حکومت کی استدعا پر سپریم کورٹ نے مہلت دیدی اور پنجاب کی حد تک نیا شیڈول جاری کرایا گیا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے پنجاب کا شیڈول جاری کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 30جنوری 2014ء کو ہونگے ،22 سے 27 دسمبر تک کاغذات نامزدگی جمع ہونگے۔30 دسمبر سے 4 جنوری تک جانچ پڑتال ہو گی۔ سندھ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان 13 دسمبر کو کیا جائیگا تاہم وہاں انتخابات سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 18 جنوری کو ہی ہوں گے۔
اس شیڈول کے مطابق الیکشن نہیں ہو سکے تھے۔ سندھ اور پنجاب حکومت دراصل جسٹس افتخار محمد چودھری کی ریٹائرمنٹ کی منتظر تھی۔ سپریم کورٹ میں حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کو اپ ڈیٹ کرنے کا جواز پیش کرکے ایک نئے شیڈول پر سپریم کورٹ کو قائل کرلیا گیا۔ جو دراصل عدلیہ کو چکر دینے کے مترادف تھا۔ نیت صاف اور جمہوری اقدار کا پاس ہوتا تو بلدیاتی اداروں کے خاتمے پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو چکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن نے خودکو جمہوری حکومتوں کا کاسہ لیس ثابت کیا ہے۔ حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کی تیاری نئے ووٹرز کا اندراج الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری اور اسکے علاوہ اس کا کوئی اور کام بھی نہیں ہے۔ مگر جمہوری حکومتوں کی خواہش پر الیکشن کمیشن اپنے فرائض سے مجرمانہ غفلت کا مرتب ہوتا رہا۔ اب بھی اس کا رویہ مثبت نظر نہیں آتا۔ اس نے خود نومبر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ ایک دو روز قبل جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں بینچ کے سامنے مارچ 2014ء تک تین مراحل میں الیکشن کرانے کا مؤقف اختیار کرلیا۔ جسٹس خواجہ نے پوچھا کہ تین مراحل میں کیوں؟ تو اہلکار کا جواب تھا کہ اسے اس بارے میں کوئی علم نہیں۔ افسروں نے عدالت کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا‘ سو وہ پیش ہو گیا۔ اس سے الیکشن کمیشن کی غیرسنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن شیرافگن نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا ہے کہ اگر ان کو دوعدد جدید پرنٹنگ مشینیں مل گئیں تو 20 ستمبر کو بیک وقت پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرادینگے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ الیکشن کمیشن نے پرنٹنگ پریس لگانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے اور حکومت کو ایک ایکڑ پلاٹ الاٹ کرنے کی درخواست بھی بھیج دی ہے جس پر ٹریننگ اکیڈمی بھی کھولی جائیگی۔ الیکشن کمیشن لگتا ہے حکومت سے ایک ایکڑ پلاٹ لے کر اس پر دو جدید پرنٹنگ مشینیں نصب کرکے بیلٹ پیپر چھاپنا چاہتا ہے۔ یہ کوئی میٹرو منصوبہ نہیں کہ حکمران ہتھیلی پر سرسوں جما کر دکھا دیں۔ الیکشن کمیشن کی پلاننگ اسکے تیوروں کو ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے۔ پانچ سال میں پلاٹ کا حصول اس پر اپنی پرنٹنگ مشینوں کی تنصیب‘ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی کے مترادف ہے۔ عین موقع پر الیکشن کمیشن پرنٹنگ مشینوں کی عدم دستیابی کا جواز پیش کر سکتا ہے۔ اسے ابھی سے ہی پرانی مشینوں سے کام چلانے کا پابند کر دیا جائے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ اگست میں چیف جسٹس بنیں گے‘ ان کا دور ایک ڈیڑھ ماہ پر محیط ہو گا۔ حکومتیں اور الیکشن کمیشن لگتا ہے ماضی کی طرح ان کا یہ دور بھی وعدوں اور لاروں میں گزار دینا چاہتا ہے۔ اس میں شاید یہ لوگ کامیاب بھی ہو جائیں مگر یہ آئین کی خلاف ورزی ہی نہیں‘ آئین کا مذاق اڑانے کے بھی مترادف ہے۔ یہ بلدیاتی الیکشن سے گریز ہی نہیں‘ انکار بھی سمجھا جائیگا جس پر آئین کے آرٹیکل 6 کا اطلاق ہوتا ہے۔ ضروری نہیں الیکشن کمیشن کے اہلکار اور حکمران عدلیہ کو ہر بار چکمہ دینے میں کامیاب ہو جائیں۔ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس جواد ایس خواجہ کا مسئلہ نہیں‘ اس سے ان کا کوئی ذاتی مفاد بھی وابستہ نہیں ہے۔ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئین کی ضرورت اور عوام کے عین مفاد میں ہے۔ سندھ اور پنجاب کے حکمران آخر کب تک بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے راہ فرار اختیار کرتے رہیں گے۔ اب سپریم کورٹ میں جو وعدہ کیا ہے۔ اس پر عمل کرتے ہوئے 20 ستمبر کو بلدیاتی الیکشن کرادیں۔ حکومت کی کمٹمنٹ 25 اپریل کو کنٹونٹمنٹ کے انتخابات سے واضح ہو جائیگی۔ 10 مارچ کو جو شیڈول سپریم کورٹ میں جمع کرایا جارہا ہے‘ وہ حتمی ہونا چاہیے۔ نجانے حکمران کس زعم میں ایک آئینی تقاضے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ حالانکہ ان کو علم ہے کہ ایک وزیراعظم کو توہین عدالت پر گھر جانا پڑا تھا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے اس معاملے میں دس وزرائے اعظم کو بھی گھر بھجوانا پڑاتو پروا نہیں کرینگے۔ یہ ریمارکس حکمرانوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہونا چاہئیں۔