روہنگیا کے مسلمانوں کے لیے کمیٹی نہیں ایکشن کی ضرورت ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
روہنگیا کے مسلمانوں کے لیے کمیٹی نہیں ایکشن کی ضرورت ہے

وزیراعظم میاں نواز شریف نے میانمر اور روہنگیا کے مسلمانوں کی نسل کشی سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے اور انہیں ریلیف کی فراہمی کیلئے تجاویز کیلئے کابینہ کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ دوسری طرف بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے روہنگیا کے مسلمانوں کے لئے 10 کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ برما میں عورتوں اور بچوں کی عصمت دری اور قتل عام پر بے حس اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت امت مسلمہ کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ اقوام متحدہ کتوں اور بلیوں کے حقوق کی بات کرتی ہے لیکن اسے برما کے مسلمانوں کا قتل عام نظر کیوں نہیں آ رہا۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اس کی فوج دنیا کی مانی ہوئی فوج ہے۔ اس کے پاس طاقت ہے۔ اس کے باوجود ہمارے حکمرانوں نے بھی اس مسئلے پر مجرمانہ چپ سادھ رکھی ہے۔ میاں نواز شریف نے ایک کمیٹی بنا دی ہے حالانکہ ہمارے ہاں کمیٹی ہر اس کام کے لیے بنائی جاتی ہے جس سے حکمرانوں نے صرف نظر کرنا ہوتا ہے۔ برما کے مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جا رہا ہے اور ہم صرف کمیٹیوں پر اکتفا کر رہے۔ اس ظلم پر فوری ایکشن کی ضرورت ہے۔ 57 اسلامی ممالک کو یک زبان ہو کر اس کے حل کیلئے میدان میں آنا چاہئے لیکن چند مٹھی بھر شرپسندوں نے پوری مسلم امہ کو چیلنج کر رکھا ہے۔ معصوم بچوں کو جس طرح ذبح کر کے خون نکالا جا رہا ہے ایسا ظلم اگر کسی اور اقلیت کے ساتھ ہوتا تو دنیابھر کے میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا لیکن آج ہمارا میڈیا بھی اس ظلم و ستم پر خاموش ہے۔ جماعت اسلامی ایک واحد جماعت ہے جس نے برما کے مسئلے کو اٹھایا ہے جبکہ دیگر مذہبی جماعتوں کی خاموشی بھی کسی ظلم سے کم نہیں ہے۔ اسلام کے نام پر ووٹ لیکر ٹھیکیداری کرنے والے نام نہاد مْلا آج اس ظلم پر کیوں خاموش ہیں۔ انہیں بھی اپنے گریبان میں جھانک کر کچھ سوچنا چاہیے۔ ملک ریاض نے برما کے مسلمانوں کے لیے 10 کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے۔ حکومت کو بھی امداد کا اعلان کرنا چاہیے۔ بلکہ امدادی سامان وہاں پہنچایا جائے۔ کچھ دن پہلے امدادی سامان کے حصول میں بھی کافی لوگ جان کی بازی ہار گئے تھے۔ حکومت کو اس سلسلے میں فی الفور کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔ حکومت پاکستان سمندر کے ساحل پر کشتیوں میں پھنسے مسلمانوں کو نکال کر کسی محفوظ مقام پر پہنچائے۔