بجٹ میں عوام کیلئے صرف طفل تسلیاں

ایڈیٹر  |  اداریہ
بجٹ میں عوام کیلئے صرف طفل تسلیاں

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بجٹ کو حقیقت پسندانہ قرار دیدیا۔ بجٹ کی آڑ میں چیزیں مہنگی ہونے نہیں دیں گے‘ اسحاق ڈار۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیرخزانہ کی صحافیوں سے تلخ کلامی۔ بجٹ کا اعلان ہوتے ہی سبزیاں اور پھل مہنگے ہو گئے۔ ٹرانسپورٹروں نے کرائے بڑھا دیئے۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی طرف سے موجودہ بجٹ کو حقیقت پسندانہ قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بجٹ ان دونوں کی مرضی اور منشاء کے مطابق بنایا گیا۔ دنیا بھر میں حکومتیں بجٹ عوام کو ریلیف کیلئے بناتی ہیں اور ہمارے ملک میں بجٹ غیرملکی امدادی اداروں کی مرضی سے بنایا جاتا ہے تو ظاہر ہے اس میں غریب عوام کو دینے کیلئے کچھ نہیں البتہ ان سے لینے کیلئے بہت کچھ ہوتا ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا یہ کہنا کہ ’’بجٹ کی آڑ میں چیزیں مہنگی ہونے نہیں دیں گے‘‘ طفل تسلی کے سوا اور کچھ نہیں کیونکہ بجٹ کا اعلان ہوتے ہی سبزیاں،دالیں اور پھل مزید مہنگے ہو گئے جبکہ ٹرانسپورٹروں نے بھی کرائے میں اضافہ کر دیا۔ ان چیزوں کا تمام تر بوجھ غریب عوام پر ہی پڑے گا جو پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں۔ پٹرول‘ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نے ان کی کمر توڑ رکھی ہے۔ عام آدمی یا تنخواہ دار طبقے کیلئے اس بجٹ میں کوئی خوشخبری نہیں‘ صرف وعدے اور تسلیاں ہیں۔ وزیرخزانہ نے نہایت مہارت سے ایک بار پھر تمام بوجھ انہی کچلے ہوئے طبقات پر ڈالا ہے۔ اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقات کو ہر قسم کے اضافی ٹیکس اور بوجھ سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے پی ایس اور پی ایز کی تنخواہوں میں دوگنا اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے شاید صحافیوں کو بھی اپنا پی ایس سمجھ کر ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کی جس پر صحافیوں نے تو وہی کیا جو کیا جانا چاہئے تھا۔ وہ تو شدید احتجاج اور بائیکاٹ پر آمادہ تھے کہ ڈار صاحب کی ٹون دھیمی پڑ گئی۔ اسحاق ڈار ’’عزت کرو اور عزت کرائو‘‘ کے فارمولے پر عمل فرمائیں۔