خورشید شاہ کا ڈیمز کی افادیت کا اعتراف کالاباغ ڈیم کو بھی قبول کرلیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
خورشید شاہ کا ڈیمز کی افادیت کا اعتراف کالاباغ ڈیم کو بھی قبول کرلیں

اپوزیشن لیڈر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کو دعا ئیں دو جو تین ڈیم بنا گئے، مستقبل میں پانی پر جنگیں لڑی جائیں گی، ماضی میں مارشل لا نہ لگتے تو مزید ڈیم بنتے۔ سندھ اور بلوچستان کو پورا پانی نہیں مل رہا، دریائے سندھ میں اتنا کم پانی کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے غیر رسمی اجلاس میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں شاید چھ دن بعد پانی نہیں ہوگا۔ سیکرٹری آبی وسائل شمائل خواجہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال پانی کے ذخیرے میں57 ہزار ملین ایکڑ فٹ کمی آئی۔
قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ اسی لئے کہا تھا کیونکہ پاکستان میں استعمال کا زیادہ تر پانی کشمیر ہی سے آتا ہے۔ یہ پانی قومی زندگی میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ قائداعظم ہر صورت دشمن کے پنجے سے پاکستان کی شہ رگ چھڑانا چاہتے تھے۔ مسئلہ کشمیر حل ہو جاتا ہے تو پاکستان کے پانی کے مسائل حل ہو سکتے ہیں مگر بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف نہیں آرہا۔ یہ مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے یہ ایک الگ ایشو ہے تاہم پانی کے مسائل ممکنہ حد تک حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے بھارت نے پاکستان کے حصے کے پانی پر دسترس حاصل کر رکھی ہے۔ پاکستان کی طرف سے پانی کے تنازعات متعلقہ عالمی فورمز پر اٹھائے گئے ہیں۔ اندرونی طور پر پانی کی کمی دور کرنے کیلئے ناگزیر اقدامات اٹھانے سے بھی گریز دیکھا گیا ہے۔ بھارت کے ساتھ پانی کے تنازعات کی تو سمجھ آتی ہے صوبوں کے مابین روئیے کبھی کبھی ناقابل برداشت ہو جاتے ہیں۔ سندھ کی طرف سے پنجاب پر پانی کی کمی کا الزام سامنے آتا رہا ہے اب بلوچستان نے سندھ پر اپنے حصے کا پانی چوری کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اب تو پانی کی اس حد تک کمی ہو گئی ہے کہ خورشید شاہ کو بھی ڈیموں کی تعمیر کا احساس ہوا ہے۔ ایک کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے پانی کے مسائل کافی حد تک حل ہو سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں اس حد تک چلی گئی کہ اپنے دورِ حکومت میں اسے مردہ گھوڑا قرار دے دیا۔ حالیہ ہفتوں خورشید شاہ نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کالاباغ ڈیم پر چیئرمین واپڈا کی بریفنگ سننے سے انکار کر دیا تھا۔ اب دریائے سندھ خشک ہو رہا ہے اور کراچی میں 5 دن کی ضرورت کا پانی دستیاب ہے۔ گویا آج کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی کسی بھی دور سے زیادہ ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے فصلوں کی تباہی اور پیاس سے انسانوں اور جانوروں میں بیماریوں کے اضافے اور اموات کا ظلم اپنے سر نہ لیں۔کالاباغ ڈیم پاکستان کی انتہائی ضرورت ہے اسکی تعمیر کیلئے ممدومعاون بنیں۔