کرپشن میں اپنی مزید ”ترقی“

عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے سال 2012-13ءکےلئے جو عالمی مسابقتی رپورٹ سامنے آئی ہے، اسکے مطابق پاکستان کرپشن اور ناقص طرز حکمرانی کے باعث 6 درجے تنزلی کے ساتھ 124ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان 118ویں نمبر پر تھا۔ مسابقتی میدان میں 144 ممالک کی فہرست میں اب صرف 20 ملک پاکستان سے نیچے رہ گئے ہیں۔ انفرا سٹرکچر، میٹرو اکنامک انوائرمنٹ، صحت بنیادی تعلیم اور مارکیٹ سائیز جیسے 12 مختلف شعبوں کا جائزہ لے کر پاکستان کو مسابقتی میدان میں نئی درجہ بندی دی گئی ہے جس کےمطابق چند ایک شعبوں کے علاوہ پاکستان باقی تمام شعبوں میں پیچھے رہ گیا ہے۔ پاکستان کی اقتصادی صورتحال اور معاشی ترقی کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی رپورٹیں ایک طرف جہاں موجودہ حکمرانوں اور انکے اتحادیوں کی ’حسن کارکردگی‘ کا منہ بولتا ثبوت ہیں جنہوں نے اپنے طرزِ حکمرانی سے ملک میں لاقانونیت، افراتفری اور انتشار کی فضا پیدا کر کے ملک کی صنعت، زراعت اور معیشت کو تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے‘ وہاں دہشت گردی کےخلاف دوسروں کی لاحاصل جنگ میں پاکستان کی شمولیت کا شاخسانہ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے ہماری معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تاجر برادری کےلئے ملک میں تجارت کرنے کےلئے سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے جبکہ حکومت انکے تحفظ اور حقوق کے حوالے سے م¶ثر قانون سازی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اپنی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے اپنے زیر زمین وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت تھی لیکن بدقسمتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے تمام منصوبے م¶خر کر کے اپنے تمام وسائل بہت سستے داموں غیر ملکی سرمایہ داروں کے حوالے کر دئیے اور خود کمیشن کھری کر کے محض تماشائی بن کر رہ گئے۔ نئے انتخابات سر پر ہیں، توقع کی جا سکتی ہے کہ عوام کے ووٹوں سے جو تبدیلی آئےگی، آنےوالے دنوں میں اسکے ہماری معیشت اور اقتصادی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہونگے اور ہماری درجہ بندی زیادہ بہتر ہو گی۔