حزب اقتدار یا حزب اختلاف، متحدہ واضح لائحہ عمل اختیار کرے

وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے اہم رہنما شہباز شریف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک کو بیروزگاری، بدامنی، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ہم بھی نائن زیرو جا سکتے ہیں جبکہ ہمارے دروازے ایم کیو ایم کیلئے کھلے ہیں پیپلز پارنی نے بلدیاتی انتخابات کیلئے جو شوشہ چھوڑا ہے وہ سیاسی ہے مخلصانہ نہیں۔متحدہ قومی موومنٹ ایک طرف پٹرولیم مصنوعات میں اضافے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینٹ سے احتجاج کرتی ہے دوسری طرف اسی حکومت کی اتحادی بھی ہے جس نے تیل کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ تیل کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کو بھی معمول بنا لیا ہے۔ ایسے فیصلے جن پر شدید عوامی رد عمل متوقع ہو اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے ہونے چاہئیں۔ اگر حکومت اپنے اتحادیوں سے مشورہ نہیں کرتی تو ان کا حکومت کی طرف سے ساتھ دینے کیلئے کوئی جواز نہیں رہتا۔ ایم کیو ایم نے اس سب کے باوجود حکومت سے علیحدگی تو اختیار نہیں کی البتہ اپوزیشن کے ساتھ رابطے بڑھا دیئے ہیں۔ دو روز قبل دونوں پارٹیوں کے وفود کے مابین اسلام آباد کے پنجاب ہاﺅس میں بات چیت ہوئی۔ سیاسی پارٹیوں کے مابین سیاسی اختلافات کے باوجود رابطے جاری رہنے چاہئیںتاہم ان کیلئے خلوص ضروری ہے۔ کسی پارٹی کو خود کسی کے مفادات کیلئے استعمال ہونا چاہیے نہ دوسری کو استعمال کرنا چاہیے۔ شہباز شریف خوشی سے ن لیگ کو نائن زیرو لے جائیںبلکہ خود بھی لاہور والے نائن زیرو سے اٹھ کر کراچی والے نائن زیرو چلے جائیں۔ ساتھ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ پی پی والے بلدیاتی الیکشن کرانے کی بات ایم کیو ایم کے پرزور مطالبے پر ہی کر رہے ہےں۔ شہباز شریف نے موجودہ حکمرانوں کو جن مسائل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ان کے ساتھی اور اتحادی بھی عوام کو درپیش مسائل سے بری الذمہ نہیں۔ متحدہ خود کو اپوزیشن بھی کہلواتی ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت سے نکل کر اصل اپوزیشن کا حصہ بنے۔ کچھ حلقوں میں تاثر ہے کہ متحدہ اپنی اہمیت کو دو چند کرنے کیلئے ن لیگ سے رابطے بڑھا رہی ہے۔ اس تاثر کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک متحدہ بیک وقت حکومت اور اپوزیشن کی کشتیوں میں سوار رہے گی۔ متحدہ گومگو کی کیفیت سے نکل کر اپنے حزب اقتدار میں یا حزب اختلاف میں ہونے کا واضح لائحہ عمل اختیار کرے۔