جعلی دستاویزات پر غیرملکی دہشت گرد پاکستان داخل کرنےکی سازش کا انکشاف اور یوم دفاع کے تقاضے ہم اپنے دفاع و سلامتی میں کسی کمزوری کے متحمل نہیں ہو سکتے

غیرملکی دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر پاکستان میں داخل کرانے کی سازش بے نقاب ہو گئی ہے‘ اس سلسلہ میں ”وقت نیوز“ کی خصوصی رپورٹ میں امیگریشن ڈیٹا غائب کرنے اور ایئرپورٹس کے سی سی ٹی وی کیمرے بند کرنے کا انکشاف کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ غیرملکی دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل کرانے کیلئے مختلف ممالک سے پاکستان کے جعلی ویزے جاری کئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے بعض اہلکار بھی اس سازش کا حصہ ہیں۔ رپورٹ میں غیرملکی ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے جال بچھا رہی ہیں جو اپنے کارندوں اور دہشت گردوں کو مختلف طریقوں سے پاکستان میں داخل کرا رہی ہیں اور ہر کام امیگریشن اور ایف آئی اے حکام کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ اس سلسلہ میں ”وقت نیوز“ کو موصول ہونیوالی دستاویزات کے مطابق جعلی پاکستانی ویزے پر پاکستان آنیوالوں کے نام نہ صرف امیگریشن ڈیٹا سے غائب کر دیئے گئے بلکہ ایئرپورٹ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی دانستہ بند کرکے ان لوگوں کی شناخت چھپانے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ میں پی آئی اے کی پرواز پی کے 222 کے ذریعے جعلی ویزوں پر دبئی سے بہاولپور بذریعہ فیصل آباد پہنچنے والے افراد سے متعلق تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
اس وقت جبکہ ہم دشمن کی سازشوں میں گھرے ملک کے دفاع و سلامتی کے حوالے سے انتہائی تشویشناک حالات سے دوچار ہیں اور گزشتہ روز یوم دفاع پاکستان کے موقع پر بھی 6 ستمبر 1965ءکی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ملکی اور قومی دفاع کو مضبوط تر کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کر چکے ہیں‘ بیرونی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان میں جعلی ویزوں اور دستاویزات پر دہشت گردوں کو بھجوانے کی بے نقاب ہونیوالی سازش نہ صرف ملکی اور قومی دفاع کے حوالے سے عسکری‘ دفاعی اور دوسرے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کے بارے میں ایک سوالیہ نشان ہے بلکہ لمحہ¿ فکریہ بھی ہے۔ ملک کے حالات تو اس امر کے متقاضی ہیں کہ ملکی دفاع میں کوئی ہلکی سی لغزش بھی پیدا نہ ہونے دی جائے مگر اسکے برعکس ملکی اور قومی دفاع و سلامتی سے متعلق اداروں‘ اہلکاروں اور حساس مقامات پر رونما ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات میں سیکورٹی لیپس کی ہی نشاندہی نہیں ہوئی بلکہ دہشت گردوں کو متعلقہ اداروں کے اندر سے معاونت حاصل ہونے کے انکشافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں جی ایچ کیو راولپنڈی‘ مہران ایئربیس کراچی اور کامرہ ایئربیس پر ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات ہماری سیکورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات کی چغلی کھاتے نظر آتے ہیں۔
بدقسمتی سے امریکی نائن الیون کے بعد اس خطہ میں دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کرکے ہمارے سابقہ جرنیلی اور موجودہ منتخب جمہوری حکمرانوں نے خود ہی ملک کی سلامتی کو متعدد بیرونی خطرات سے دوچار کیا۔ اس جنگ میں امریکہ کو اپنے جاسوسوں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو پاکستان بھیجنے اور یہاں اپنا جاسوسی کا نیٹ ورک پھیلانے کی سہولت ملی تو اس سے ہماری سلامتی کے درپے بھارتی ایجنسی ”را“ افغان ایجنسی ”خاد“ اور اسرائیلی ”موساد“ کو بھی ہماری دھرتی پر کھل کھیلنے کا آسان موقع دستیاب ہو گیا اور افغانستان کی سرزمین ہماری دھرتی کےخلاف تیار ہونیوالی سازشوں کا محور بن گئی جس کی نشاندہی سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے بھی گزشتہ روز ”نوائے وقت“ کو اپنے انٹرویو میں کی ہے کہ پاکستان میں تمام فتنہ افغانستان سے پھیلایا جا رہا ہے۔ انکے بقول افغانستان میں بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کام کر رہا ہے جسے امریکی‘ برطانوی اور اسرائیلی ایجنسیوں کی مدد حاصل ہے۔ یہ جاسوسی نیٹ ورک صرف پاکستان کی سلامتی کیخلاف سازشوں میں مصروف ہے اور ہمارے انٹیلی جنس اداروں کے پاس یہ مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ افغانستان کے راستے سے پاکستان کی چیک پوسٹوں پر ہونیوالے دہشت گرد حملوں میں اسی بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کا عمل دخل ہے۔ اس سلسلہ میں پاکستان کی جانب سے کٹھ پتلی کرزئی حکومت اور نیٹو کمانڈروں سے باضابطہ احتجاج بھی کیا جا چکا ہے مگر افغان سرحدوں پر تعینات نیٹو اہلکاروں کی موجودگی میں مسلح دہشت گردوں کا گروہ کی صورت میں پاکستان میں داخل ہونے اور دہشت گردی کی واردات کے بعد پوری سہولت کے ساتھ افغانستان واپس جانے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ قیام پاکستان کو پہلے دن سے تسلیم نہ کرنےوالے بھارت کی جانب سے ہی ہمیشہ ہماری سالمیت کو خطرات لاحق رہتے ہیں جو ہم پر تین جنگیں مسلط کر چکا ہے اور ہمیں سقوط ڈھاکہ کے سانحہ سے دوچار کر چکا ہے۔ چنانچہ یوم دفاع پاکستان کے موقع پر جہاں بھارتی جارحیت اور سازشوں کے نتیجہ میں وطن عزیز کے دولخت ہونے پر ہمارے زخم ہرے ہوتے ہیں‘ وہیں ملکی دفاع اور سلامتی کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت کا احساس بھی اجاگر ہوتا ہے۔ تاہم ہماری سیکورٹی کے معاملات ایسے ہی رہے جیسے ملکی سلامتی سے متعلق حساس اداروں پر ہونیوالی دہشت گردی وارداتوں کے موقع پر بدترین سیکورٹی لیپس کی صورت میں سامنے آئے اور اب بیرونی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے دہشت گردوں کو جعلی ویزوں پر پاکستان بھجوانے کی بے نقاب ہونےوالی سازش کی صورت میں ہمارے پیش نظر ہیںتو اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری سلامتی کےخلاف دشمن کی ماضی جیسی کسی جارحیت کے ارتکاب کی صورت میں ہم کہاں کھڑے ہونگے اور ہمارے دفاع و سلامتی کے تقاضے کیسے پورے ہو پائیں گے؟
جعلی پاسپورٹوں اور ویزوں کے ذریعے دہشت گردوں کو پاکستان بھجوانے کی غیرملکی سازش میں اگر فی الواقع ہمارے امیگریشن اور ایف آئی اے حکام ملوث ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر پاکستان آنیوالے متعلقہ افراد کا امیگریشن کا انٹری ڈیٹا غائب کیا اور انکی شناخت ناممکن بنانے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے بند کرائے تو یہ متعلقہ اداروں کا محض سیکورٹی لیپس نہیں بلکہ ملکی سلامتی کےخلاف بدترین سازش کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس سازش کے بے نقاب ہونے پر بھی روایتی طور پر معاملہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا جبکہ سب سے پہلے متعلقہ اداروں کے متعلقہ افراد کو گرفت میں لینا ضروری ہے تاکہ انہیں کہیں فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ انکوائری میں انہی افراد سے ہی اصل معلومات حاصل ہونگی کہ انہیں بیرون ملک کی کس ایجنسی کی معاونت حاصل تھی اور ان لوگوں کو جعلی دستاویزات پر پاکستان بھجوانے کے اصل مقاصد کیا تھے۔ اسی طرح جعلی دستاویزات پر اب تک پاکستان آنیوالے افراد کی گرفت بھی ضروری ہے‘ چاہے وہ جہاں بھی ہوں۔ ہمارے سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے اداروں کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ وہ ملکی سلامتی کے تقاضوں کو نبھاتے ہوئے نہ صرف سرحدوں پر مستعد و چوکس رہیں بلکہ ملکی اور قومی سلامتی سے متعلق اداروں اور تنصیبات کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں تاکہ دشمن کو اپنی کسی سازش کے تحت ملک کی سلامتی سے کھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔ وفاقی کابینہ نے دہشت گردوں سے روابط پر متعلقہ افراد کی جائیداد ضبط کرنے اور انکے اکاﺅنٹس منجمد کرنے سے متعلق مسودہ¿ قانون کی گزشتہ روز منظوری دی ہے تو اس قانون کے حوالے سے امیگریشن اور ایف آئی اے حکام کی معاونت سے دہشت گردوں کو پاکستان بھجوانے کی بے نقاب ہونیوالی سازش کو ٹیسٹ کیس بنایا جانا چاہیے اور دہشت گردی کے اب تک کے واقعات میں جہاں جہاں بھی سیکورٹی لیپس کی نشاندہی ہوئی ہے‘ اس پر قابو پا کر ملک کی سلامتی کو مستحکم اور یقینی بنایا جائے ورنہ دشمن تو ہماری سلامتی کو ملیامیٹ کرنے کیلئے چاروں جانب سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔