مسلم لیگی رہنما اختلافات کو انا کا مسئلہ نہ بنایا کریں

ایڈیٹر  |  اداریہ
مسلم لیگی رہنما اختلافات کو انا کا مسئلہ نہ بنایا کریں

وزیراعظم نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے اندرونی اختلافات ختم کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم اور چودھری نثار کی بات چیت صبح 10 بجے شروع ہوئی دو مرحلوں میں سہ پہر چار بجے جاری تک رہی۔ وزارت دفاع خزانہ کے روئیے ‘ مشرف کو ملک سے باہر نہ جانے دینے اور کاﺅنٹر ٹیررزم اتھارٹی کے اختیارات نہ دئیے جانے پر نثار کے تحفظات تھے۔
کسی بھی پارٹی میں رہتے ہوئے رہنماﺅں کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن ان اختلافات کوانا کا مسئلہ بنا کر پارٹی کو نقصان پہنچانا درست نہیں۔ چودھری نثار ایک سینئر مسلم لیگی ہیں ان کی خدمات اپنی پارٹی کے لئے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اگر ان کا وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے کوئی اختلاف تھا تو پارٹی سربراہ کی ذمہ داری تھی کہ اس اختلاف کا بروقت نوٹس لے کر گھر کی بات گھر میں ختم کرا دی جاتی لیکن وزیراعظم میاں نوازشریف نے بھی اس اختلاف کو اہمیت نہ دی اوریوں رہنماﺅں میں دوریاں پیدا ہو گئیںجس سے دوسرے سیاستدانوں کو باتیں کرنیکا موقع ملا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ عمران خان نے بھی کہا کہ اگر چودھری نثار ان کی پارٹی میں آتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔ جب اختلاف کی نوبت یہاں تک پہنچی تو میاں نوازشریف نے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو اختلاف ختم کرانے کا ٹاسک دیاجو انہوں نے بخوبی نبھایا۔ چودھری نثار اس وقت وزیر داخلہ ہیں شمالی وزیرستان آپریشن کے تناظر میں داخلی معاملات کو کنٹرول کرنا ان کا فرض ہے۔ انہیں اب فعال کردار اداکر کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہئے۔ میاں نوازشریف اگر شروع میں ہی اس اختلاف کو سنجیدہ لیتے تو معاملات اس قدر نہ بگڑتے اور مخالفین کو باتیں کرنے کا موقع نہ ملتا وزیراعظم کو بحیثیت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کے پارٹی رہنماﺅں کے کسی بھی اختلاف رائے کو سنجیدہ لے کر اصلاح احوال کے اقدامات اٹھانا چاہئیں۔ اس سے ان کی پارٹی مضبوط ہو گی۔