حکمران عوام کے روٹی روزگار کے مسائل حل کر کے خود بھی تو جمہوریت کاتحفظ کریں

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکمران عوام کے روٹی روزگار کے مسائل حل کر کے خود بھی تو جمہوریت کاتحفظ کریں

 قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈران کا جمہوریت کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہ بننے کا اعلان

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ انقلاب لانے کی باتیں کرنے والے جمہوریت کو ختم کرنے کیلئے انقلاب لانا چاہتے ہیں تو پیپلز پارٹی جمہوریت کے تحفظ کیلئے آگے کھڑی ہو گی۔ گذشتہ روز سکھر ائر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایسی گندی سیاست کا حصہ نہیں بنے گی اور طاہر القادری جمہوریت ختم کرنے کیلئے انقلاب لائیں گے تو پیپلز پارٹی ان کے مدمقابل آئے گی۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کسی احمقانہ سیاست کی تائید نہیں کرے گی۔ ہم نے کبھی بے وقوفانہ سیاست نہیں کی۔ دوسری جانب سینیٹ کے قائد حزب اختلاف چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ 11 مئی کے انتخابات میں ”مہا دھاندلی“ ہوئی مگر ہم جمہوریت کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔ کینیڈا سے جوتے، کپڑے اور جرابیں سمیت سب کچھ واپس لانے کا دعویٰ کرنے والے طاہر القادری بتائیں کہ انہوں نے کینیڈین پاسپورٹ پھاڑا ہے یا نہیں۔ انہوں نے گذشتہ روز لاہور پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا انقلاب ہے جو چودھری برادران اور شیخ رشید کے ساتھ مل کر آ رہا ہے۔ لگتا ہے یہ انقلاب جلد ٹورنٹو واپس چلا جائے گا جبکہ عمران خان کا ایجنڈہ ہی ابھی واضح نہیں ہے۔
جمہوریت کے تحفظ و دفاع اور اس کے خلاف کسی جرنیلی شب خون کی مزاحمت کے حوالے سے عدلیہ اور سیاستدانوں کا ماضی یقیناً تابناک نہیں ہے اورعدلیہ کی جانب سے ماضی میں نظریہ ضرورت کی اختراع نکال کر جبکہ سیاستدانوں کی جانب سے مفاداتی سیاست کے تحت مارشل لا کی چھتری کے نیچے آ کراور ماورائے آئین اقدام کرنے والوںکو اپنا کندھا فراہم کرنے کی روایت ڈال کر جرنیلی آمروں کو آئین توڑنے، سسٹم کو رگیدنے اور فردِ واحد کی ماورائے آئین حکمرانی قائم کرنے کی راہ دکھائی جاتی رہی ہے نتیجتاً وطن عزیز کے 34 برس ماورائے آئین اقتدار کا خناس رکھنے والوں کی طاقت و اختیار کی اندھی ہوس کی نذر ہو گئے اور جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہ مل سکا۔ بدقسمتی سے جرنیلی آمریتوں کے عرصہ اقتدار میں ہی وطن عزیز دولخت ہُوا اور باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوئے۔ اس تناظر میں ایوب خان سے جنرل مشرف تک کی جرنیلی آمریتوں کے دوران ملک پر آسیب کے سائے منڈلاتے رہے ہیں، بلوچستان میں علیحدگی پسند سوچ نے تقویت حاصل کی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر جرنیلی آمریت کے دور میں ہی امریکی مفادات کی جنگ ہم پر مسلط کر کے وطن عزیز کا انجر پنجر ہلا دیا گیا۔ اگر سیاسی قوتیں ماورائے آئین اقتدار کا خناس رکھنے والوں کے عزائم کو بھانپ کر شروع دن سے ہی جمہوریت کے تحفظ و دفاع کیلئے متحد ہو جاتیں تو اسی وقت اس سوچ کا راستہ روکا جا سکتا تھا جبکہ جرنیلی آمروں نے سیاستدانوں کی مفاد پرستیوں کو بھانپ کر ہی اپنے اپنے ماورائے آئین اقتدار کو طول دینے کی سہولت حاصل کی اور عدلیہ بھی یہ تصور کر کے جرنیلی آمروں کی معاون و محافظ بنی رہی کہ بندوق کی طاقت کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے۔
جرنیلی آمروں کے ہاتھوں جمہوریت کے بار بار ڈسے جانے کے عمل نے ہی باری باری اقتدار سے محروم ہونے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادتوں کو بالآخر ماورائے آئین اقتدار والوں کا راستہ روکنے کی بصیرت دکھائی اور ان دونوں جماعتوں نے اپوزیشن اتحاد اے آر ڈی کی دوسری جماعتوں کو ساتھ ملا کر باہمی اتفاق رائے سے میثاق جمہوریت کر لیا جس کے تحت ان سیاسی قوتوں نے عہد کیا کہ آئندہ اپنے اقتدار کی خاطر کسی منتخب جمہوری حکومت کو ختم کرانے کیلئے ماورائے آئین اقدام والوں کو اپنا کندھا پیش نہیں کیا جائے گا، خوش قسمتی سے عدلیہ میں بھی جسٹس افتخار محمد چودھری کے دور میں مثبت سوچ پیدا ہوئی اور جسٹس افتخار چودھری نے خود جرنیلی آمروں کے سامنے جرا¿تِ انکار کا مظاہرہ کر کے ماضی کی عدلیہ کے لاگو کردہ نظریہ ضرورت کو ٹھوکر مار دی جس کی جسٹس افتخار محمد چودھری ہی کے کیس میں سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے اپنے فیصلہ کے ذریعے توثیق کی۔ یہی وہ عرصہ ہے جب عدلیہ اور سیاستدانوں نے اپنی اپنی صفیں درست کیں اور اپنے عملی اقدامات کے ذریعے جمہوریت کے آگے ڈھال بن گئے جبکہ جمہوریت کے استحکام کیلئے پروان چڑھتی اس سوچ نے جنرل کیانی کے پروفیشنل ازم سے مزید تقویت حاصل کی اور ملک میں جمہوریت کی عملداری اور آئین و قانون کی حکمرانی کی فضا ہموار ہوتی نظر آئی۔
یہ صورتحال یقیناً ان عناصر کیلئے قابل قبول نہیں ہو سکتی جنہیں جمہوریت میں اپنی حکمرانی کا خواب شرمندہ¿ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا اس لئے ان عناصر کی جانب سے جمہوری ادوار میں عوام کے روٹی روزگار کے مسائل گھمبیر ہونے اور اس نوعیت کے دیگر عوامی مسائل کو اپنا ہتھیار بنا کر سسٹم کے خلاف سازشوں کے جال پھیلانا شروع کر دئیے گئے۔ ان میں زیادہ تر وہی عناصر شامل ہیں جو جرنیلی آمریتوں سے فیض یاب ہوتے، اقتدار اور مراعات کے مزے لوٹتے رہے ہیں جبکہ ملک سے باہر موجود بعض قوتوں کو بھی پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہوتی وارا نہیں کھاتی چنانچہ انہوں نے بھی جمہوری ادوار میں عوامی مسائل کے حل کے معاملہ میں پیدا ہونے والی خامیوں کو اپنے مہروں کے ذریعے اُچھال کر پہلے پیپلز پارٹی کے دور کی جمہوریت کا مُردہ خراب کرنے کی کوشش کی اور یہی عناصر اب مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں جمہوریت کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان ایسی ہی کسی جمہوریت مخالف تحریک کے آلہ کار بن کر جمہوریت کو اکھاڑنے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جس کی کامیابی کی راہ پھر سے ماورائے آئین اقدام والوں کو اپنا کندھا پیش کر کے ہی ہموار کی جا سکتی ہے۔ اس لئے اس معاملہ میں کوئی ابہام نہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کی حکومت مخالف تحریک دراصل جمہوریت کو تاراج کرانے کی تحریک ہے جس کے نتیجہ میں جمہوریت ڈی ریل ہو گی تو پھر اسے پٹڑی پر چڑھانے کا شاید موجودہ سیاسی شخصیات کو اپنی زندگی میں موقع نہیں مل سکے گا۔
یقیناً اس احساس نے ہی سیاسی قوتوں میں جمہوریت مخالف سوچ کو شکست دینے کیلئے باہمی اتحاد و یکجہتی کا جذبہ پیدا کیا ہے جو بالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں سابقہ دور سے موجودہ دور تک ہم آہنگی کے قالب میں ڈھلا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دورکی آخری سہ ماہی کے دوران بھی جب ڈاکٹر طاہر القادری اپنا جمہوریت مخالف ایجنڈہ لے کر سیاسی افراتفری پیدا کرنے کیلئے کینیڈا سے پاکستان آئے اور پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے تو اس وقت بھی حکومت اوراپوزیشن میں موجود تمام سیاسی قوتوں نے ایک پلیٹ فارم پر آ کر جمہوریت مخالف ایجنڈے کی مزاحمت کا اعلان کیا، اس وقت میاں نواز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر مدبرانہ کردار ادا کرتے ہوئے بلوچستان کے قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئی کو اپنے ساتھ ملایا اور پھر تمام سیاسی قوتیں مل کر جمہوریت کے دفاع کیلئے حکمران پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ اس اتحاد کی بدولت ہی ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنا ایجنڈہ ادھورا چھوڑ کر کینیڈا واپس جانا پڑا تھا جبکہ عمران خان اس وقت بھی ڈاکٹر طاہر القادری کے سسٹم مخالف ایجنڈے پر ان کا ساتھ دینے کو آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ اب جمہوریت کی عملداری میں اپنے اقتدار کی آئینی میعاد کا بمشکل ایک سال پورا کرنے والی حکمران مسلم لیگ (ن) کو بھی ویسے ہی حالات کا سامنا ہے جو جمہوریت دشمن قوتوں نے اپنے ایجنڈے کے تحت پیپلز پارٹی کے دور میں پیدا کئے تھے اور یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ آج بھی جمہوری سیاسی قوتیں جمہوریت کے تحفط اور اس کے خلاف ہونے والی سازشوں کی مزاحمت کیلئے باہم متحد ہونے کا پیغام دے رہی ہیں۔ گذشتہ ماہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جمہوریت کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی اور جمہوریت مخالف عناصر کی سازشوں کا توڑ کرنے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس یا کل جماعتی کانفرنس بلانے کا تقاضہ کیا۔ پھر سینیٹ کے سابق اپوزیشن لیڈر رضا ربانی نے جمہوریت کے دفاع کیلئے سیاسی قوتوں کے اکٹھے ہونے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ اب سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈران جمہوریت کے دفاع کیلئے میدان میں آ گئے ہیں، اس سوچ سے یقیناً جمہوریت دشمن عناصر کے ایجنڈے کو مات دی جا سکے گی مگر حکمرانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ روٹی روزگار، مہنگائی، غربت اور امن و امان سے متعلق مسائل کو گھمبیر بنا کر جمہوریت کے بطور نظام ناکام ہونے کا پراپیگنڈہ کرنے کا جمہوریت دشمن عناصر کو موقع فراہم نہ کریں اور جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچائیں، محض جمہوریت کے دفاع کا عہد کرنے سے وہ اضطراب ختم نہیں ہو سکتا جو گھمبیر مسائل کی بنیاد پر سسٹم کے خلاف عوام کے دلوں میں پنپ رہا ہے۔ سسٹم کے دفاع کیلئے سیاسی قوتوں کا اتحاد یقیناً نیک فال ہے مگر حکمرانوں کو خود بھی عوام کو جمہوریت سے وابستہ رکھنے کی ذمہ داری نبھانا ہو گی جو گوناں گوں مسائل پر عوام کو مطمئن کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اگر آج شیخ رشید یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ موجودہ حکمرانوں کے صرف 15 دن باقی ہیں اور اسی طرح عمران خان 14 اگست کا سونامی لانے کیلئے تُلے بیٹھے ہیں جبکہ طاہر القادری اور الطاف حسین انقلاب کے نام پر فوج کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دیتے نظر آ رہے ہیں تو حکمرانوں کو ان تمام محرکات کا سدباب کرنا ہو گا جو جمہوریت مخالف سوچ کو پروان چڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر مسائل کے ستائے عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر آ گئے تو جمہوریت دشمن ایجنڈہ رکھنے والوں کو انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی سہولت مل جائے گی، اس صورتحال میں عوام کو مطمئن کر کے ہی جمہوریت کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ حکمرانوں کو قوم کو بتانا چاہئے کہ عوام کے روٹی روزگار کے مسائل کے حل کیلئے انہوں نے اب تک کیا ٹھوس پالیسی مرتب کی ہے۔