شمالی وزیرستان اور ہرنائی میں دہشت گردی اور کور کمانڈرز کانفرنس

ایڈیٹر  |  اداریہ
شمالی وزیرستان اور ہرنائی میں دہشت گردی اور کور کمانڈرز کانفرنس

آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت کور کمانڈرز کی کانفرنس ہوئی جس میں افغانستان سمیت خطے میں امن اور داخلی سلامتی کیلئے کوششوں کو جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔ نیز کانفرنس میں بلوچستان میں امن سلامتی اور معاشی اعتبار سے ترقی کیلئے شروع کئے گئے حالیہ پروگرام ’’خوشحال بلوچستان‘‘ کے حوالے سے بھی غور ہوا۔ دوسری طرف گزشتہ روز ہی شمالی وزیرستان اور ہرنائی میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید اور 4 زخمی ہوگئے۔
پاک فوج کے دہشتگردوں کیخلاف کئی کامیاب آپریشنز کے بعد ایسے اکا دکا حملے اور خودکش دھماکے راکھ سے اڑتی چنگاری کے مترادف ہیں ورنہ اپریشن ضرب عضب‘ اپریشن ردالفساد اور اپریشن خیبر 4 سے پہلے ملک کے طول و عرض میں دہشتگردوں کے حملے تواتر سے جاری تھے۔ فوجی اپریشنز کے بعد اب صورتحال کافی بدل گئی ہے‘ کراچی کا امن اور روشنیاں بحال ہوچکی ہیں‘ بلوچستان میں شورش پسندوں کی بڑی حد تک کمر توڑ دی گئی ہے۔ اب ہونیوالے واقعات کا ارتکاب زیادہ تر را کے ایجنٹ اور اسکے ایماء پرافغانستان سے آنیوالے دہشتگرد کررہے ہیں۔ ایسے سانحات کی روک تھام صرف اسی صورت ممکن ہے کہ افغانستان سمیت خطے میں امن اور داخلی سلامتی کیلئے کوششوں کو جاری رکھا جائے۔ اگرچہ افغانستان‘ پاکستان کی خیر خواہی کی قدر کم ہی کرتا ہے اور وہ وہی کریگا جو اسے نئی دہلی ڈکٹیٹ کرائے گا لیکن اپنی سی کوشش کردیکھنے میں کیا حرج ہے۔ شاید افغانستان میں کوئی ایسا ’’رجل رشید‘‘ موجود ہو جو پاکستان کی امن و سلامتی کی پکار پر کان دھرے۔ اسی طرح حالیہ دہشتگردی کی زیادہ وارداتیں بلوچستان میں ہورہی ہیں اور اس کا مؤثر حل یہ ہے کہ ’’خوشحال بلوچستان‘‘ پروگرام پر عملدرآمد کی رفتار تیز کردی جائے۔ خوشحالی بذات خود ہرقسم کے جرائم، شدت پسندی اور دہشتگرد کیخلاف باڑ ہے۔