یوم تاسیس: پیپلز پارٹی کو ساکھ کی بحالی کیلئے بہت کچھ کرنا ہو گا

ایڈیٹر  |  اداریہ
یوم تاسیس: پیپلز پارٹی کو ساکھ کی بحالی کیلئے بہت کچھ کرنا ہو گا

پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کل بھی زندہ تھے اور آج بھی زندہ ہیں۔ انہوں نے عمران خان، جنرل مشرف اور میاں نواز شریف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بالترتیب کہا: جعلی خان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی، مشرف چھپا بیٹھا ہے جبکہ گاڈ فادر نے ملک کنگال کر دیا ہے انہیں نہیں بچائیں گے۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوریت ہی ملک کو متحد رکھ سکتی ہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ۔ ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ یہ جمہوریت ہی کا کرشمہ ہے کہ فوجی آمریت کے آٹھ سالہ سیاہ دور کے بعد سے پاکستان پیپلز پارٹی پانچ سال اقتدار میں رہی اور اب مسلم لیگ ن اپنی آئینی مدت پوری کرتی نظر آ رہی ہے۔ آصف زرداری سے زیادہ شاید ہی کسی کو مفاہمت کی سیاست کا ادراک ہو۔ کرپشن کے الزامات کی زد میں وہ خود بھی رہے ہیں آج میاں نواز شریف کو کڑے احتساب کا سامنا ہے۔ احتساب کی مخالفت نہیں ہو سکتی۔ احتساب کی چھلنی سے بلاامتیاز عہدوں اور اداروں سے تعلق کے سب کو گزارا جانا چاہئے۔ احتساب اور جمہوریت کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ بڑے لیڈروں سے توقع ہی نہیں کی جا سکتی کہ وہ کسی کو احتساب سے بچانے میں ممد و معاون ہونگے البتہ جمہوریت کی مضبوطی کے یک نکاتی ایجنڈے سے آصف زرداری، میاں نواز شریف، عمران خان سمیت سب کو متحد ہونا ہو گا۔ بلاول بھٹو نے بجا طور پر یہی مشورہ دیا ہے۔ زرداری اور بلاول نے یوم تاسیس پر ایک بھرپور جلسہ کرکے پیپلز پارٹی کی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ بلاشبہ بھٹو کل بھی زندہ تھے اور آج بھی بہت سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں مگر پیپلز پارٹی کے گزشتہ پانچ سالہ دور میں عوام نے اسکی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا اور 2013ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔بلدیادتی اور ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت زمین بوس ہی نظر آئی۔ اب عام انتخابات میں محض چند ماہ بچے ہیں۔ پی پی پی کو اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت پانے اور انتخابات میں بہتر کارکردگی دکھانے کیلئے رابطہ عوام مہم بھرپور طریقے سے چلانے اور مایوس و ناراض جیالوں کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔