الیکشن ٹربیونل کا حلقہ این اے 125 کا انتخاب کالعدم قرار دینے کا فیصلہ اورحکمران مسلم لیگ کا جذباتی ردعمل----- حکومتی پارٹی دوبارہ انتخاب کا چیلنج قبول کرے اور منظم دھاندلی کے الزام سے خود کو بچائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
الیکشن ٹربیونل کا حلقہ این اے 125 کا انتخاب کالعدم قرار دینے کا فیصلہ اورحکمران مسلم لیگ کا جذباتی ردعمل----- حکومتی پارٹی دوبارہ انتخاب کا چیلنج قبول کرے اور منظم دھاندلی کے الزام سے خود کو بچائے

الیکشن ٹربیونل نے لاہور کے حلقہ این اے 125 اور حلقہ پی پی 155 کے انتخابات کالعدم قرار دے کر قومی اور صوبائی اسمبلی کے ان دونوں حلقوں میں 60 روز کے اندر اندر ازسرنو انتخابات کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ مئی 2013ء کے انتخابات میں حلقہ این اے 125 میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعدرفیق اور حلقہ پی پی 155 میں مسلم لیگ (ن) ہی کے میاں نصیراحمد منتخب ہوئے تھے۔ خواجہ سعدرفیق کے انتخاب کو پی ٹی آئی کے حامد خان نے الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیا جبکہ عمران خان کی جانب سے لاہور کے جن چار حلقوں کے تھیلے کھولنے کا تقاضا کیا گیا‘ ان میں حلقہ این اے 125 بھی شامل تھا۔ الیکشن ٹربیونل کے جج جاوید رشید محبوبی نے 80 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ حلقہ این اے 125 میں ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن کے عملہ نے فرائض درست طریقے سے سرانجام نہیں دیئے جبکہ ریٹرننگ افسر نے غیرمصدقہ نتائج کو ہی حتمی نتیجہ قرار دے دیا۔ ٹربیونل نے قرار دیا کہ اس حلقہ کے متعدد پولنگ سٹیشنز کے ریکارڈ میں فارم 14 اور 15 بھی غائب تھا جبکہ درجنوں کائونٹر فائلز پر دستخط بھی موجود نہیں تھے۔ اسی طرح جن پولنگ سٹیشنوں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی‘ اس میں متعدد کا ریکارڈ بھی مکمل نہیں تھا۔ ٹربیونل نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ درخواست گزار حامد خان اس حلقہ میں دھاندلی کا الزام ثابت نہیں کر سکے تاہم سات پولنگ سٹیشنوں کے تھیلے کھلنے کے بعد اس حلقہ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جبکہ نادرا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان پولنگ سٹیشنز میں ایک ایک ووٹر نے اوسطاً چھ چھ ووٹ کاسٹ کئے۔ ٹربیونل نے فرائض سے غفلت برتنے پر ریٹرننگ افسر اور متعلقہ انتخابی عملہ کیخلاف کارروائی کا حکم بھی دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ ان سے الیکشن کمیشن سے وصول کئے گئے اخراجات بھی واپس لئے جائیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے چونکہ انتخابی دھاندلیوں کے الزامات کی بنیاد پر ہی گزشتہ سال 14 اگست سے حکومت مخالف دھرنا تحریک شروع کی گئی جو 126 دن تک اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر جاری رہی اس لئے حلقہ این اے 125 بھی چیلنج کئے گئے دیگر حلقوں کی طرح پی ٹی آئی کیلئے ٹیسٹ کیس تھا جبکہ دھرنا تحریک کے دبائو پر عمران خان حکومت سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ تسلیم کرانے میں بھی کامیاب ہوئے۔ جوڈیشل کمیشن کے روبرو عمران خان کے منظم دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں اور کمیشن نے فریقین بشمول عمران خان سے منظم دھاندلی کے ثبوت طلب کر رکھے ہیں‘ اسکے جواب میں عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ منظم دھاندلی کے ثبوت انتخابی تھیلوں میں موجود ہیں۔ اگرچہ حکومتی پارٹی کے عہدیداروں کی جانب سے عمران خان کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا گیا تاہم اب حلقہ این اے 125 میں الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد لامحالہ عمران خان کے اس الزام کو تقویت حاصل ہوئی ہے کہ منظم دھاندلی کے ثبوت تھیلوں میں موجود ہیں۔ الیکشن ٹربیونل نے بھی اپنے فیصلہ میں یہی قرار دیا کہ جب اس حلقہ کے متعدد پولنگ سٹیشنوں کے تھیلے کھولے گئے تو کئی بے ضابطگیاں سامنے آئیں جن کی ٹربیونل کے فیصلہ میں نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ابھی حلقہ این اے 120 اور 122 میں بھی الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ آنا ہے۔ اگر ان حلقوں میں بھی ایسی بے ضابطگیاں ثابت ہو گئیں تو اس سے یقیناً منظم دھاندلی سے متعلق پی ٹی آئی‘ پیپلزپارٹی‘ اے این پی‘ جماعت اسلامی کے الزامات کو تقویت حاصل ہو گی جس سے جوڈیشل کمیشن میں بھی ان کا کیس مضبوط ہو گا اس لئے حکمران مسلم لیگ (ن) کو الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ پر جزبز ہونے‘ کوئی ہنگامہ کھڑا کرنے اور اپنی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے پوری دانشمندی اور سیاسی فہم وبصیرت کے ساتھ حالات کا سامنا کرنا چاہیے۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ خواجہ سعدرفیق نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ جب ٹربیونل کے روبرو ہم پر دھاندلی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا جس کا ٹربیونل کے فیصلہ میں بھی تذکرہ کیا گیا ہے تو پھر ان کا انتخاب کالعدم قرار دینے کا کیا جواز ہے۔ انکے بقول انکی لیڈ انکے مدمقابل حامد خان سے 40 ہزار ووٹوں کی تھی اس لئے اگر بے ضابطگیوں کی بنیاد پر متعلقہ ووٹ مسترد بھی کئے جاتے ہیں تو بھی انکی لیڈ برقرار رہتی ہے اس لئے ٹربیونل کی جانب سے اس حلقہ کا انتخاب ہی کالعدم قرار دینا منصفانہ نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر ٹربیونل کے فیصلہ کیخلاف متذکرہ حلقہ میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے اور ٹریفک بند کی جس پر پولیس کے ساتھ انکی ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف نے ٹربیونل کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
اس وقت چونکہ ٹربیونل کے فیصلہ سے عمران خان کو اپنی احتجاجی سیاست کے حوالے سے تقویت حاصل ہوئی ہے اور کراچی ضمنی انتخاب اور کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے نتائج سے دفاعی پوزیشن پر آئی پی ٹی آئی کو پھر اپنے پائوں پر کھڑا ہونے اور اس سال کو انتخابات کا سال قرار دینے کا موقع مل گیا ہے اس لئے حکمران مسلم لیگ (ن) کو جذبات میں آنے اور سیاسی میدان میں اپوزیشن جیسا طوفان اٹھانے کے بجائے موجودہ صورتحال کا سیاسی فہم و بصیرت سے مقابلہ کرنا چاہیے‘ بصورت دیگر بلیم گیم کی سیاست میں اب حکومتی مخالفین کا پلڑا بھاری رہے گا۔
الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ آنے کے بعد خواجہ سعدرفیق کو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسی وقت وفاقی وزارت کے منصب سے الگ ہونے کا اعلان کر دینا چاہیے تھا جس سے انکے سیاسی قد میں اضافہ ہوتا اور سیاسی میدان میں انکے فائٹر ہونے کے دعوے پر مہر تصدیق ثبت ہوتی مگر وہ تاحال وزارت کے منصب سے سبکدوش نہیں ہوئے حالانکہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ کی رو سے اب وہ قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے تاوقتیکہ وہ اپیلٹ کورٹ سے رجوع کرکے الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ کیخلاف حکم امتناعی حاصل نہ کرلیں۔ یقیناً ایسے چیلنجز ہی کسی کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہوتے ہیں جو بہترین سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کے متقاضی ہوتے ہیں مگر خواجہ سعدرفیق کی ذات کی حد تک ہی نہیں‘ پوری حکمران مسلم لیگ الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ پر اشتعال میں آتی دکھائی دیتی ہے جس کے باعث اس سے کوئی بھی ایسا غلط فیصلہ ہو سکتا ہے جو اسکے سیاسی مستقبل کیلئے سودمند نہیں ہوگا۔ چونکہ اس وقت جوڈیشل کمیشن کی کارروائی بھی جاری ہے جس میں پورا انتخابی عمل دائو پر لگا ہوا ہے‘ اس لئے حکمران مسلم لیگ (ن) کو تو اب ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا اور ہر فیصلہ ممکنہ سودوزیاں کو پیش نظر رکھ کر کرنا چاہیے جس سے فی الوقت وہ عاری نظر آتی ہے۔
اگر تو حکمران مسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنا چاہتی ہے تو الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ ہی اس کیلئے ٹیسٹ کیس ہے‘ وہ اس حلقے کے دوبارہ انتخابات کا چیلنج قبول کرے اور اس کیخلاف اپیلٹ کورٹ میں جانے سے ہر ممکن گریز کرے۔ بصورت دیگر پی ٹی آئی اور دوسرے حکومتی مخالفین کے منظم دھاندلی کے الزامات نہ صرف برقرار رہیں گے بلکہ انہیں تقویت بھی حاصل ہو گی جبکہ ضمنی انتخاب میں خواجہ سعدرفیق یا مسلم لیگ (ن) کے نامزد کوئی دوسرے امیدوار منتخب ہو جاتے ہیں تو اس سے دھاندلیوں کے الزامات خود ہی کمزور ہو جائینگے اور حکمران مسلم لیگ (ن) اس حوالے سے سرخرو ہو جائیگی کہ الیکشن ٹربیونل کی بیان کردہ انتخابی بے ضابطگیوں میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ البتہ اب انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے متعلقہ انتخابی عملہ (آراوز) سے یہ پوچھا جانا ضروری ہو گیا ہے کہ یہ بے ضابطگیاں انکی روایتی غفلت کا نتیجہ ہیں یا انہیں حکومتی سرکل یا مقتدر حلقوں کی جانب سے ایسی بے ضابطگیوں کی ہدایت ملی تھی۔ بے شک مسلم لیگ (ن) کا ان بے ضابطگیوں میں کوئی عمل دخل نہیں ہو گا مگر ان کا فائدہ تو بہرصورت اس پارٹی کو ہی ملا جس سے حکومتی مخالفین کو اس پر منظم دھاندلی کے الزامات لگانے کا موقع ملا۔ اس معاملہ میں اب یقیناً جوڈیشل کمیشن نے ہی فیصلہ کرنا ہے اس لئے الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن کو خود ہی متعلقہ آراوز کو طلب کرلینا چاہیے تاکہ انکے بیانات کی روشنی میں اصل حقائق کھل کر سامنے آسکیں۔ اس موقع پر فریقین کو ایک دوسرے کیخلاف عامیانہ الزام تراشی اور بلیم گیم سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے جو جمہوریت کی بقاء و استحکام کیلئے کبھی سودمند ثابت نہیں ہوتی۔ اس معاملہ میں زیادہ ذمہ داری تو حکمران مسلم لیگ (ن) پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اسکی قیادت صبروتحمل کے ساتھ صورتحال کا سامنا کرے اور اپنے ووٹرز کے جذبات کنٹرول میں رکھے ورنہ منظم دھاندلی ثابت ہو گئی تو اس کا سارا ملبہ بھی حکمران مسلم لیگ (ن) پر ہی آگرے گا۔