الطاف کے جرائم ناقابل معافی حکومت معاملہ عدالت میں لائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
الطاف کے جرائم ناقابل معافی  حکومت معاملہ عدالت میں لائے

خیبر پی کے اسمبلی میں الطاف حسین کے بیان کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اور قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ الطاف کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔ سندھ اسمبلی میں مسلم لیگ (فنکشنل)، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے فوج کیخلاف بیان کی مذمت کیلئے قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف نے الطاف حسین کی پاک فوج پر تنقید کیخلاف مذمتی قرارداد جمع کرا دی ہے۔ بلوچستان اسمبلی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پہلے ہی الطاف حسین کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کر چکی ہے۔
الطاف حسین نے اپنی تقریر کے دوران جہاں فوج کیخلاف ہرزہ سرائی کی وہیں اپنے کارکنوں کو جنگی تربیت پر بھی اکسایا اور را سے مدد بھی مانگی۔ یہ دونوں ناقابل معافی جرائم ہیں۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے مجموعی طور پر الطاف حسین کی تقریر پر شدید ردعمل آیا، اسکی طرف سے بلوچستان خیبر پی کے میں قرارداد کی حمایت کی گئی، پنجاب اسمبلی میں بھی مذمتی قرارداد اتفاق رائے سے منظور ہو سکتی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کا رویہ مفاہمت نہیں بلکہ منافقت پر مبنی ہے۔ کیا اس کو فوج کی توقیر اور الطاف کی اپنے کارکنوں کو دریائے سندھ خون سے بھرنے کی ترغیب سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ سندھ اسمبلی سے قرارداد آنے سے کوئی فرق تو نہیں پڑیگا تاہم اس سے پیپلز پارٹی کی کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے میں عدم دلچسپی واضح ہو جاتی ہے۔ متحدہ پر پابندی لگوانے کے بھی قانونی راستے موجود ہیں جس کیلئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی قراردادوں کی روشنی میں سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے جبکہ الطاف حسین کو فوج کیخلاف بدزبانی، نوجوانوں کو جنگی تربیت پر اکسانے اور ’را‘ سے مدد مانگنے کے اقدام پر کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے۔ متعلقہ آرٹیکل کے تحت حکومت فوری طور پرمعاملہ عدالت میں لے جائے۔