حریت قائدین پر سفری پابندیاں بھارت کے مذموم عزائم عیاں

ایڈیٹر  |  اداریہ
حریت قائدین پر سفری پابندیاں بھارت کے مذموم عزائم عیاں

کشمیر انتخابات کا مسئلہ ہے۔ یا حق خودارادیت کا ؟ عالمی کشمیر کانفرنس پیر کے روز اسلام آباد میں شروع ہوئی۔ کانفرنس کا اہتمام امریکہ میں کشمیریوں کی تنظیم کشمیر امریکن کونسل نے کیا۔ اس میں شرکت کیلئے مقبوضہ کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین سید علی گیلانی‘ میر واعظ ‘ شبیر شاہ ‘ یاسین ملک اور آسیہ اندرابی کو بھارت نے سفری دستاویزات دینے سے انکار کر دیا ہے۔
کشمیری عوام 66 سال سے بھارت سے حق خودارادیت مانگ رہے ہیں۔ جبکہ بھارت اپنی 6 لاکھ فوج کے بل بوتے پر مقبوضہ کشمیر پر قبضہ جمائے ہوئے ہے کشمیریوں کی تنظیم کشمیر امریکن کونسل نے کشمیری عوام کے اصل مطالبے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کیلئے ’’کشمیر انتخابات کا مسئلہ ہے یا حق خودارادیت‘‘ کے موضوع پر عالمی کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ اس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر کی کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین کو بھی مدعو کیا ہوا تھا۔ لیکن سیکولر کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت نے حریت قائدین کو کانفرنس میں شرکت کیلئے سفری دستاویزات دینے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت اوچھے ہتھکنڈوں کے باعث کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبے کو دبا نہیں سکتا۔ کشمیری عوام نے بھارت کے انتخابی ڈرامے کو بھی بری طرح مسترد کرکے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ کشمیری عوام اپنا حق خودارادیت حاصل کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ بھارت کشمیری عوام کے سامنے لاکھ رکاوٹیں کھڑی کرے۔ لیکن کشمیریوں کے حوصلوں کو پست کر سکتی ہے نہ ہی ان کے حق خودارادیت کے مطالبے کو دبا سکتی ہے۔ امریکن حکومت نے بھی بھارت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حریت رہنما ڈاکٹر غلام نبی فائی کو بھی کانفرنس میں شرکت کرنے سے روک دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں نہ جانے اب کیوں خاموش بیٹھی ہیں۔ کیونکہ آزادانہ نقل و حرکت ہر انسان کا بنیادی حق ہے جبکہ بھارت کشمیری عوام کو اس حق سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر ادارے کا اس کا نوٹس لیں۔