افغان سرحد پار سے فائرنگ‘ جوان شہید‘ بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان کو طالبان سے نمٹنے کا مشورہ… ‘ مہاراج! طالبان پاکستان کا اندرونی معاملہ ‘ بھارت کشمیر پر بات کرے

ایڈیٹر  |  اداریہ
افغان سرحد پار سے فائرنگ‘ جوان شہید‘ بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان کو طالبان سے نمٹنے کا مشورہ… ‘ مہاراج! طالبان پاکستان کا اندرونی معاملہ ‘ بھارت کشمیر پر بات کرے

 باجوڑ ایجنسی میں افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں سرحد پار سے کی گئی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ واضح نہیں کہ فائرنگ افغان فورسز نے کی یا وہاں سرحد پار موجود عسکریت پسندوں نے کی۔ سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور سکیورٹی اہلکار کی شہادت پر پاکستان نے افغانستان سے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے برداشت نہیں کیا جائیگا۔ دریں اثناء بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر پر اپنا حق جتانے کی بجائے طالبان سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی ترتیب دے۔  انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں اب بھی ہزاروں جنگجو تیار بیٹھے ہیں جو بھارت پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔
 افغان سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے پہلے بھی متعدد مرتبہ فائرنگ اور مارٹر گولے فائر کئے جاتے رہے ہیں، گزشتہ برس ستمبر میں افغان افواج کی جانب سے سرحدی علاقے اور بلوچستان کے ضلع ژوب کے ایک گائوں میں فائرنگ سے پانچ افراد جاں بحق اور 25 زخمی ہوگئے تھے۔ سلالہ چیک پوسٹ پر شدت پسندزمینی حملے کرتے رہے ہیں تاہم سلالہ چیک پوسٹ اس وقت پوری دْنیا میں مشہور ہوگئی جب چھبیس نومبر سنہ دو ہزار گیارہ کو نیٹو کے ہیلی کاپٹرز اور جنگی طیاروں نے اس کو نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں چوبیس پاکستانی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ اسکے بعد پاکستان امریکہ تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ پاکستان نے نیٹو سپلائی بند کر دی اور پاکستانی ایئربیسز سے جاری ڈرون اپریشن بند کرادیئے۔امریکہ کو اپنے ڈرون افغانستان منتقل کرنا پڑے تھے۔ کافی عرصہ کے بعد امریکہ کی طرف سے معافی مانگنے پر کشیدگی ختم ہوئی۔
باجوڑ سرحد پر حملے میں ایک فوجی شہید اور ایک زخمی ہوا‘ حملے کی سنگینی کو جانی نقصان سے نہیں ناپا جاتا‘ اس ایکشن پر نوٹس لیا جاتا ہے جو دوسرے ملک کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرکے کیا گیا۔ اس فائرنگ میں مزید جانی نقصان بھی ہو سکتا تھا۔ پاکستانی سپاہ کے ایک ایک سپوت کی جان انمول ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ایک شہادت پر بھی پاکستان کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار اور احتجاج کیا گیا ہے۔
امریکہ رواں سال افغانستان سے انخلاء کررہا ہے۔ افغانستان میں انتخابی عمل جاری ہے۔ امریکہ کے افغانستان کے عمل دخل میں کوئی کمی نہیں آئی۔ امریکی افواج کی کمانڈ میں افغان نیشنل گارڈ کام کرتے ہیں۔ دونوں طالبان کیخلاف اپریشن  میں حصہ لیتے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے ابھی تک واضح نہیں کیا کہ حملہ افغان فوج کی طرف سے ہوا یا شدت پسندوں نے کیا‘ دونوں صورتوں میں امریکہ اور افغان انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جائیگا۔ افغان فوج کی طرف سے حملے کے جو بھی مقاصد ہوں‘ اس سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ افغانستان میں امریکہ و افغان فوج کیخلاف برسر پیکار گروپ پاکستان میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں‘ مگر پاکستان سے بھاگے ہوئے شدت پسندوں کو افغان انتظامیہ کی سرپرستی حاصل ہے۔ کالعدم طالبان تحریک کے امیر ملا فضل اللہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں اپنے ساتھی عسکریت پسندوں کی معاونت کرتے ہیں۔ پاکستان میں طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں۔ دوسری طرف انکی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ ان کا پاک افواج نے گھیرا تنگ کیا ہوا ہے۔ غیرملکی شدت پسندوں کی راہ فرار بھی پاک فوج نے مسدود کر دی ہے۔ اس تناظر میں ہو سکتا ہے کہ افغان انتظامیہ کی آشیرباد سے انکی پناہ میں موجود پاکستان سے بھاگے ہوئے شدت پسندوں نے باجوڑ میں حملہ کیا ہو۔ افغان انتظامیہ ایک طرف امریکی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتی ہے دوسری طرف بعض معاملات میں امریکی مفادات کو بھی زک پہنچانے سے گریز نہیں کرتی۔ اسکی ایک مثال امریکہ کا لطیف اللہ محسود کو افغان انتظامیہ سے اس وقت چھین لینا ہے‘ جب اسے پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کیلئے سیف ہائوس میں پہنچایاجا رہا تھا۔ لطیف اللہ محسود امریکہ کو2010ء میں ہونیوالے ٹائم سکوائر دھماکے میں مطلوب تھا‘ امریکہ کو ابھی پاکستان کی ضرورت ہے اورشاید انخلاء کے تناظر میں پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس موقع پر امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا اپنا دفاع اور مفاد اسی طرح عزیز ہے جس طرح امریکہ کو اس کا۔ یہ امریکہ کا فرض ہے کہ وہ اس حملے کی مکمل تحقیقات کرکے پاکستان کو آگاہ کرے۔ اس میں جو بھی ملوث ہو‘ اس کیخلاف اسی طرح کا ایکشن لیا جائے جیسا امریکہ اپنی خودمختاری پر زد پڑنے پر لیتا ہے۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان سے دوچار ہوا ہے‘ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان امریکہ اور افغانستان ایک دوسرے پر اعتماد کرکے لڑتے تو دہشت گردی کا مسئلہ کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ پاکستان کا اخلاص اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسکی افواج نے امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کی مجموعی ہلاکتوں سے بھی زیادہ قربانی دی ہے۔ افغان حکمرانوں کی گھٹی میں پاکستان دشمنی بھری ہوئی ہے۔ موجودہ انتظامیہ نے پاکستان میں دہشت گردی کے سرغنوں کیلئے افغانستان کو پناہ گاہ بنا دیا ہے۔ اس عمل میں امریکہ کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکہ پاکستان میں امن کا خواہاں ہے تو اسے افغانستان میں موجود پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کے سر سے افغانستان انتظامیہ کا دست شفقت اٹھوانا ہو گا۔ دوسری صورت میں امریکہ پاکستان تعلقات میں مزید تلخی تو آئیگی ہی‘ بارڈر جھڑپوں کا سلسلہ تیز ہو کر بدترین صورت اختیار کر سکتا ہے۔آج پاک فوج شدت پسندوں کیخلاف سختی سے نمٹ رہی ہے۔ ان کو بیرونی امداد اور مغربی بارڈر کے دوسری جانب سے آکسیجن نہ ملے تو وہ قومی دھارے میں شامل ہونے پر مجبور ہونگے۔ امریکہ کو یہ امداد اور آکسیجن بند کرنا ہو گی۔ پاکستان کے مطالبے پر امریکہ نے ڈرون حملے بند کر دیئے‘ اب پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے افغانستان میں موجود پاکستان کیخلاف سرگرم عمل دہشت گردوں پر شکنجہ کس دے۔
بلاشبہ پاکستان میں شدت پسندوں نے امن کو برباد کر دیا ہے۔ فوج انکے ساتھ برسرپیکار ہے‘ وہ مذاکرات کی میز پر آچکے ہیں۔ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اپریشن آخری آپشن ہو گا۔ افواج کے طالبان کے مدمقابل آنے کا یہ مطلب نہیں کہ ملکی سرحدوں سے مسلح افواج صرفِ نظر کرلیں۔ آج مسلح افواج ضیاء الحق کے اس فلسفے کی قائل نہیں رہیں جس کے تحت کہ افغان وار کے باعث انڈیا کی سیاچن پر قبضے کی مزاحمت نہیں کی گئی۔ انڈیا میں آزادی و خودمختاری کی درجن بھر تحریکیں چل رہی ہیں۔ کئی صوبوں میں پاکستان سے زیادہ دہشت گردی ہوتی ہے۔ پاکستان کو پہلے طالبان سے نمٹنے کے مشورے دینے والے سلمان خورشید بھی اپنے ملک میں دہشت گردی سے نمٹیں‘ پھر پاکستان کو کوئی مشورہ دیں۔
پاک افواج جغرافیائی سرحدوں سے غافل نہیں ہیں۔ اس کا ثبوت ایل او سی پر بھارتی گولہ باری کا بھرپور جواب دیکر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندرونی حالات جیسے بھی ہوں‘ فوج اور پاکستانیوں کی کشمیر کازسے کبھی سردمہری دیکھنے میں نہیں آئی۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے کشمیر پر بیان پر بھارت میں کھلبلی مچ گئی۔ اس پر شدت اور شرپسند مودی تلملا اٹھے اور اس بیان پر یاوہ گوئی کرتے ہوئے اسے بھارتی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ مہاراج! طالبان کے مسئلے سے آپکو کیا لینادینا‘ طالبان پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے‘ بھارت کشمیر پر بات کرے۔ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہی پاکستان کا دیرینہ اور اصولی موقف ہے۔ بھارت نے اسے تسلیم کیا اور اب اس سے انحراف کرکے بے اصولی کر رہا ہے۔