پاکستان ایک بار پھر آئی ایم ایف کے چنگل میں؟

ایڈیٹر  |  اداریہ

پاکستان نے سرکاری اداروں کی نجکاری، یکساں ٹیکس نظام کے نفاذ اور سبسڈیز کے بتدریج خاتمہ کی آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کر لیں جس کے بعد آئی ایم ایف سے قرض کا معاہدہ طے پا گیا۔ اسکے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو تین سال کیلئے 5 ارب 30 کروڑ ڈالر قرضہ دیگا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آئی ایم ایف کے عہدیدار جیفری فرینک نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ معاہدے کا اعلان کیا۔
حکومت آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کیلئے چند روز سے مذاکرات کر رہی تھی۔ متعدد بار حکومتی مذاکراتی ٹیم کی طرف سے شرائط نہ ماننے کا تاثر دیا تھا۔ لیکن فائنل راﺅنڈ میں یہ جان کر عوام کو مایوسی ہوئی کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے اقتدار میں آنے کے بعد صرف ایک ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں تین بار اضافہ ہوا، سبسڈی کے خاتمے پر ایک بار پھر ہو گا۔ یوں ایک اور مہنگائی کے طوفان کا خدشہ ہے، ایسے میں عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا پاکستان پھر آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنس گیا ہے۔ اداروں کی نجکاری سراسر گھاٹے کا سودا ہے خسارے میں چلنے والے اداروں کی اصلاح کی جانی چاہئے ان کو بیچ کھانا حکومت کی اہلیت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرض بہ امر مجبوری لیا گیا ہے اب حکومت کوشش کرے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کا عام پاکستانی پر بوجھ کم سے کم پڑے اور اداروں کی اونے پونے فروخت سے گریز کیا جائے۔