وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب کے دورہ چین میں توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے معاہدے

ایڈیٹر  |  اداریہ

 چین کو خارجہ تعلقات کا محور بنانا موجودہ حکومت کا قابلِ تحسین اقدام ہے

وزیراعظم میاں نوازشریف اور چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کی ملاقات میں دونوں ممالک میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقات کیلئے وزیراعظم میاں نواز شریف بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں پہنچے تو وزیراعظم چین نے خود ان کا استقبال کیا جبکہ چینی فوج کے دستے نے انہیں سلامی دی۔ بعدازاں دونوں قائدین کی ون آن ون ملاقات میں اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہوا اور پاکستان میں سرمایہ کاری اور مواصلات کا نیٹ ورک بچھانے پر بھی گفتگو کی گئی جبکہ وزیراعظم پاکستان کی درخواست پر وزیراعظم چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے چین کی جانب سے ریاستی گارنٹی میں چھوٹ دینے اور پاکستان سے انشورنس کی رقم وصول نہ کرنے کا اعلان کیا جس سے پاکستان کو کروڑوں ڈالر کی چھوٹ ملے گی۔ وزیراعظم چین نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مضبوط تعلقات کے خطے پر مثبت اثرات پڑیں گے۔ ہم پاکستان چین دوستی کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان چین دوستی سمندروں سے گہری‘ ہمالہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے تعلقات کو نئے دور میں لے جانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ گزشتہ روز انکی چین کے صدر شی چن پنگ سے ملاقات بھی مثبت رہی ہے۔ پاک چین وزراءاعظم کی میٹنگ میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے معاملات طے کرنے کیلئے پاک چین اقتصادی ٹاسک فورس کے سربراہ کو پاکستان بھجوانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورہ¿ چین کے موقع پر دونوں ممالک کے مابین آٹھ مختلف معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اقتصادی راہداری کے معاہدے کے تحت گوادر سے کاشغر تک سڑکوں اور ریلوے کا نیٹ ورک تعمیر کیا جائیگا‘ راولپنڈی سے خنجراب تک 440 ملین ڈالر کی لاگت سے فائبر آپٹک نیٹ ورک تین سال کے عرصے میں بچھا دیا جائیگا جبکہ کوئلے سے چلنے والے تین ہزار میگاواٹ کے پلانٹ کی تعمیر بھی ان معاہدوں کا حصہ ہے۔ اسکے علاوہ پولیو کے خاتمہ‘ اقتصادی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون اور ایکسچینج اور کارپوریشن کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے جبکہ پنجاب حکومت اور چین کے مابین شمسی توانائی کے منصوبے پر معاہدہ ہوا ہے‘ ان معاہدوں کی رو سے چینی کمپنیاں پاکستان میں توانائی کے تھرکول‘ بھاشا ڈیم‘ ونڈ پاور اور سولر منصوبوں پر سرمایہ کاری کرینگی۔ چین کی اورینٹ کمپنی کے صدر نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے دوران پاکستان ایران گیس پائپ لائن کو چین تک پہنچانے کی پیشکش بھی کی اور پاکستان میں ایک ہزار میگاواٹ بجلی کے زیر تعمیر منصوبے کو 18 ماہ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستان چین دوستی محض روایتی اور الفاظ کی حد تک نہیں‘ بلکہ خطے میں باہمی مفادات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہونے کے باعث بھی اور بھارت کی جانب سے جارحیت کے یکساں خطرے کی بنیاد پر بھی پاکستان اور چین ایک دوسرے کی ضرورت بن چکے ہیں۔ چین نے پاکستان بھارت جنگوں سے لے کر سیلاب اور زلزلے کی شکل میں آنیوالی قدرتی آفات تک ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی عملی معاونت کی ہے اور اسے کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔ پاکستان چین دوستی کی بنیاد 1949ءمیں چین کی آزادی کے وقت سے ہی رکھی گئی تھی جب اقوام متحدہ میں سب سے پہلے پاکستان نے اسکے حق میں ووٹ دیکر اسکی آزاد اور خودمختار حیثیت کو تسلیم کیا۔ اس وقت سے آج تک پاکستان چین دوستی میں کوئی دراڑ پیدا نہیں ہو سکی۔ بیشک دونوں ممالک میں حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں‘ مگر پاک چین دوستی سے متعلق پالیسی کبھی تبدیل نہیں ہوئی چنانچہ آج دونوں ممالک خطے میں بااعتماد دوست اور اچھے پڑوسی کی حیثیت سے دنیا میں ایک مثال بن چکے ہیں۔ کشمیر ایشو ہو یا کسی ممکنہ بیرونی جارحیت سے پاکستان کی سالمیت کو کسی قسم کے خطرے سے عہدہ برا¿ ہونے کا معاملہ ہو‘ چین نے ہمیشہ بروقت اور دوٹوک پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور وہ اسکے ساتھ کھڑا نظر بھی آیا۔
افغان جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کرنے سے اگرچہ پاکستان کے خارجہ تعلقات کی ترجیحات میں تبدیلیاں رونما ہوئیں‘ مگر چین نے پھر بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں اپنی ترجیحات تبدیل نہ کیں اور اسکی ایٹمی ٹیکنالوجی کا بھی دفاع کیا۔ اسی بنیاد پر پاکستان کی سالمیت کے بارے میں جارحانہ عزائم رکھنے کے باوجود آج تک بھارت ہی نہیں‘ امریکہ کو بھی پاکستان کیخلاف کوئی جارحانہ اقدام اٹھانے کی جرا¿ت نہیں ہوئی۔ اس تناظر میں پاکستان کیلئے چین سے زیادہ مخلص پڑوسی ملک اور کوئی نہیں ہو سکتا جس کی جانب سے ہمیں ہمیشہ ٹھنڈی ہوا کہ جھونکے ہی آئے ہیں۔ یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ میاں نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی چین کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنے کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور انہوں نے اپنا پہلا بیرونی دورہ ہی چین کا شیڈول کیا جبکہ میاں نواز شریف کے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے پہلے چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ پاکستان کا دورہ کر چکے تھے جس کے دوران انہوں نے میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی اور انہیں توانائی کے شعبے سمیت تمام شعبوں میں تعاون کا یقین دلایا چنانچہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد میاں نوازشریف نے اپنی پہلی ہی تقریر میں بالخصوص توانائی کے بحران سے نجات کیلئے چین کا تعاون حاصل کرنے کا اعلان کیا اور قوم کو بتایا کہ چین کی مدد سے وہ ملک میں ایٹمی دھماکے کے بعد اقتصادی دھماکہ کرنے کی پوزیشن میں ہونگے جس کیلئے انہوں نے گوادر پورٹ کے منصوبے کا بطور خاص ذکر کیا۔ اب وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورہ¿ چین کے موقع پر چین کے ساتھ توانائی کے متعدد منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے ہیں‘ جن پر کام شروع ہونے سے توقع کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کو توانائی کے سنگین بحران اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سے جلد نجات حاصل ہو جائیگی۔ یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف بھی دورہ¿ چین پر میاں نوازشریف کے ہمراہ ہیں‘ جو اپنے سابق دور حکومت میں بھی ملک کو توانائی کے بحران سے نجات دلانے کیلئے چین کے ساتھ معاہدوں کی فضا ہموار کرتے رہے ہیں۔ اب انہوں نے خود بھی حکومت پنجاب کی جانب سے چینی کمپنی سے پنجاب میں کوئلے کے پلانٹ سے بجلی پیدا کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں جبکہ میاں نوازشریف چین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے معاہدے کر رہے ہیں جن میں چین کی جانب سے دوستی کا حق نبھاتے ہوئے مختلف رعایات کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان چین وزرائے اعظم ملاقات کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ بھی دونوں ممالک کی جانب سے باہمی تعلقات کو فروغ دینا‘ اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنایا گیا ہے جس کی بنیاد پر یقیناً دونوں ممالک ایک دوسرے کی سالمیت کے دفاع کیلئے بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آئینگے جس سے علاقے میں طاقت کا توازن بھارت کے حق میں کرنے کی عالمی سازشوں کو پنپنے کا بھی موقع نہیں مل سکے گا اور بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بھی بند باندھا جا سکے گا۔ اس سلسلہ میں امریکہ بھارت ایٹمی تعاون کے معاہدے کا توڑ پاکستان چین ایٹمی تعاون کے معاہدے سے کیا گیا ہے جبکہ چین کی مدد سے گوادر پورٹ کی تکمیل سے پاکستان کیلئے اقتصادی ترقی کے کئی نئے راستے کھلیں گے اور گوادر کے ذریعے دوسرے ممالک کو تجارتی راہداری ملنے سے پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ بھی اقتصادی تجارتی مراسم استوار ہونگے جس سے ہماری بدحال معیشت کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے میں مدد ملے گی چنانچہ اس صورتحال میں جب دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں اور دہشت گردوں کی جنونی کارروائیوں سے جانی اور مالی نقصان اٹھاتے ہماری معیشت ایڑیاں رگڑتی زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہے‘ اسے چین کی بے لوث امداد سے نئی زندگی مل جائیگی۔ میاں نواز شریف نے ملکی معیشت کیلئے پیدا ہونیوالے مشکل ترین حالات کا ادراک کرتے ہوئے ہی چین کے ساتھ تعلقات کا استحکام اپنی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح بنایا ہے اس لئے انکے موجودہ دورہ¿ چین سے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی راہیں کھلتی نظر آرہی ہیں۔ پاکستان چین دوستی سمندروں سے گہری‘ ہمالہ سے بلند اور شہد سے میٹھی ہے تو اس میں دونوں ممالک کی قیادتوں اور عوام کا خلوص شامل ہے جبکہ اس خلوص میں کمی کے ہم کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتے۔