لاپتہ افراد کی بازیابی اور خفیہ ادارے

ایڈیٹر  |  اداریہ

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان کی 2012ءکی جاری کردہ رپورٹ پیش کر دی گئی۔ کمیٹی نے خفیہ اداروں کو قانون کے دائرہ کار میں لانے پر زور دیا تاکہ لاپتہ افراد کے مسائل حل کئے جا سکیں جبکہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے بارے میں عدالت کو معلومات نہ دینے والے خفیہ اداروں کے اہلکاروں پر مقدمات بنیں گے۔
لاپتہ افراد کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کو تلاش کرنے کیلئے عدالت کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں جبکہ لاپتہ افراد پر عدالتی احکامات کو خفیہ اداروں کے اہلکار ہَوا میں اُڑا رہے ہیں۔ عدالت نے لاپتہ افراد بارے کمشن بھی تشکیل دیا ہے لیکن وہ بھی کوئی خاطر خواہ رزلٹ نہیں دے رہا۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی یہ تجویز مثبت ہے کہ خفیہ اداروں کو قانون کے دائرہ کار میں لایا جائے اگر اس پر عمل ہو جاتا ہے تو لاپتہ افراد کے مسائل حل کرنے میں کافی مدد ملے گی کیونکہ اس وقت خفیہ ادارے اپنے آپ کو قانون سے ماورا سمجھتے ہیں اگر انہیں قانون کے دائرہ کار میں لایا جائے تو صاف ظاہر ہے وہ وزارت داخلہ کو جواب دینے کے پابند ہوں گے اس سلسلے میں آرمی چیف سے مشاورت کر کے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے درست کہا ہے کہ خفیہ اداروں کے اہلکار جو لاپتہ افراد کے بارے عدالت کو معلومات نہیں دے رہے ان پر مقدمات قائم کئے جائیں گے۔ بہرحال جس طرح بھی ہو لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائے۔ اگر ان میں کوئی مجرم ہے تو قانون کے مطابق اس پر مقدمہ چلایا جائے تاکہ قانونی تقاضے تو پورے کئے جا سکیں۔