رابطہ مہم کیلئے مسلم لیگ ن کے اہم فیصلے پارٹی آئین کا احترام بھی ضروری

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
رابطہ مہم کیلئے مسلم لیگ ن کے اہم فیصلے پارٹی آئین کا احترام بھی ضروری

نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں رابطہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری طرف ناراض رہنمائوں کو منانے کی کوششیں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں میاں نوازشریف نے جاوید ہاشمی سے ملاقات کی جبکہ مریم نوازشریف نے غوث علی شاہ کو فون کر کے پارٹی میں واپس آنے کی دعوت دی۔
عام انتخابات میں 6 سات ماہ باقی ہیں۔ اس وقت مسلم لیگ ن کا ستارہ گردشوں میں ہے جبکہ انتخابات میں جانے کیلئے ایک مضبوط پارٹی کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ ن کے مد مقابل پارٹیاں کئی ماہ سے انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ جلسے ہو رہے ہیں۔ انتخابی امیدواروں کے ٹکٹوں کو فائنل کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن نے عوام سے بڑے بڑے وعدے کئے تھے ان میں اگر مکمل کامیابی نہیں ہوئی تو ناکامی بھی نہیں ہوئی۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے سے عوام یک گو نہ سکون محسوس کر رہے ہیں۔ مگر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی کا طوفان بھی اٹھ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور مہنگائی میں اضافے کا بیلنس لے کر عوام کے پاس نہیں جانا‘ مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنا ہو گا۔ لوڈشیڈنگ سردست ختم ہو گئی ہے حکومت اس کا بجا کریڈٹ لے رہی ہے مگر ترسیلی سسٹم جو ہوا کے جھونکے اور بارش کے پہلے قطرے سے بیٹھتا چلا آ رہا ہے اس میں اصلاح نہ کی گئی تو مخالفین پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کرینگے۔ رابطہ عوام مہم چلانے اور ناراض لیڈروں کو منانے کا فیصلہ درست ہے جو پارٹی کے استحکام کا باعث ہو گا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایسے حالات ہی پیدا نہ ہوتے کہ لیڈر ناراض ہوتے۔ اب مسلم لیگ ن نے سنٹرل ورکنگ کمیٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 27 ارکان پر مشتمل بااختیار فورم کی پارٹی کے آئین میں گنجائش نہیں۔ ایک طرف آپ ناراض لیڈروں کو منا رہے ہیں۔ دوسری طرف سرتاج عزیز، سکندر حیات اور زعیم قادری کو عہدوں اور ایگزیکٹو کمیٹی سے نکال دیا گیا۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ سندھ اور کے پی کے کے گورنروں کو ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل کرکے پارٹی عہدے دے دیئے گئے جو ملکی ٰآئین کے تحت بھی سیاست میں آنے کے مجاز نہیں۔ لیگی قیادت ملک اور پارٹی کے آئین سے ماورا فیصلے کر کے اپنے لئے مستقبل میں مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔ جو لیڈر پارٹی آئین کو خاطر میں نہیں لاتے مخالفین ان پر آئین پاکستان کے احترام کے بارے میں سوال اٹھا سکتے ہیں۔