پولیو کے خاتمے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
پولیو کے خاتمے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے

قومی ادارہ صحت کے مطابق پولیو کے 8 کیسز سامنے آنے پر پاکستان میں پولیو کیسز کا 14 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ ملک بھر میں پولیو کیسز کی تعداد 202 ہو گئی۔
ہمارے لوگ مذہب سے لگا¶ رکھتے ہیں اور علماءکرام کی باتوں کو بڑی اہمیت بھی دیتے ہیں اور جن علاقوں میں پولیو کے کیسز زیادہ سامنے آرہے ہیں وہاں کے باسی تو زیادہ ہی علماءکرام کا عزت و احترام کرتے ہیں علماءکرام‘ میڈیا‘ سکولز کے اساتذہ شعراءاور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم چلانی چاہئے کیونکہ جس تیزی کے ساتھ پولیو کا مرض پھیل رہا ہے۔ یہ ایک نسل کو اپاہج بنا دیگا۔ یہ موذی مرض بتدریج دنیا سے ختم ہو رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ پولیو مہم کی ناکامی کے بہت سارے اسباب ہیں۔ جن میں معاشرتی بے علمی اور غلط پروپیگنڈہ بھی شامل ہے۔ پولیو مہم گھر گھر چلائی جاتی ہے لیکن م¶ثر آگاہی کے توازن اور معاشرے کی بگڑتی صورتحال نے حکومت کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ حکومت نے علماءکرام کی خدمات تو حاصل کی ہیں انکے دستخطوں سے ایک اشتہار بھی جاری کیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اخبار پڑھنے والے لوگوں کا تناسب کیا ہے۔ علم و فہم رکھنے والے لوگ تو پہلے ہی قطرے پلاتے ہیں جبکہ دیہات اور پسماندہ‘ علاقوں سے تعلق رکھنے لوگ اسے ضرررساں سمجھتے ہیں۔ حکومت شہروں کی بجائے دیہات اور پسماندہ علاقوں کے علماءکرام اساتذہ اور دانشوروں کو ساتھ لیکر وہاں موثر مہم چلائے۔ مساجد کے اماموں کو خطبہ جمعہ میں پولیو قطرے پلانے بارے خطبات کرنے کا کہا جائے اور وزارت صحت جید علمائے کرام سے مضامین لکھوا کر چھوٹے علما کو دے اور وہ اسے خطبہ میں بیان کریں۔ تاکہ پولیو سے بچا¶ کیلئے لوگوں میں شعور پیدا ہو۔ حال ہی میں پاکستانی شہریوں کیلئے ویزہ حاصل کرنے کیلئے پولیو سرٹیفکیٹ کی شرط رکھی گئی ہے اگر حکومت نے اس پر قابو نہ پایا تو پھر سرٹیفکیٹ سے بات آگے بڑھ جائیگی۔ ہم پر سفری پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں لہٰذا حکومت ہوش کے ناخن لے اور جنگی بنیادوں پر پولیو کے خاتمے کے اقدامات کرے۔