عالمی امداد کی تقسیم میں شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت

ایڈیٹر  |  اداریہ
عالمی امداد کی تقسیم میں شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت

آئی ڈی پیز اور سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ڈونر ممالک کی طرف سے بھرپور مدد کی یقین دہانی


 آپریشن ضربِ عضب سے بے گھر ہونیوالے آئی ڈی پیز اور سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے عالمی امداد حاصل کرنے کی خاطر ہونیوالی ڈونر کانفرنس میں مختلف ممالک کے سفیروں نے پاکستان کو اس سلسلے میں بھرپور مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کی بحالی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ وزیر خزانہ نے اجلاس میں سفیروں اور دوسرے شرکاءکو بتایا کہ آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے 2 بلین ڈالر کی ضرورت ہے‘ آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے حکومت اور پاکستانی عوام کا ساتھ دینا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی ابتدائی تخمینہ رپورٹ مل گئی ہے‘ سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے ضروریات کے بارے میں اکتوبر کے اختتام پر آگاہ کیا جائیگا۔ اجلاس میں حکومت پنجاب کے نمائندہ نے سیلاب کے نقصانات کے بارے میں بتایا۔ نمائندہ نے کہا کہ سیلاب 50 سالہ تاریخ میں تباہ کن تھا‘ 3450 دیہات تباہ ہو گئے‘ پانی اترنے کے بعد ہی نقصانات کا حقیقی تخمینہ لگایا جا سکے گا۔ اجلاس میں چین کے سفیر نے کا کہ چین پاکستان کو مدد دینے کیلئے صف اول میں ہو گا اور بحالی کے عمل میں حصہ لے گا۔ یورپی یونین کے نمائندے نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب پر پریشانی ہوئی ہے اور اس سلسلہ میں اقدامات کی ضرورت ہے۔ اے ڈی بی کے نمائندے نے کہا کہ بحالی کے اقدامات کیلئے میکنزم تیار کیا جائے۔ عالمی بینک کے نمائندے نے کہا کہ ادارہ مدد کیلئے تیار ہے۔ ترکی کے سفیر نے بھی اپنے ملک کی طرف سے مدد دینے کا اظہار کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ امداد کے مناسب اور شفاف انداز میں استعمال کیلئے میکنزم تیار کیا جائے گا‘ نگران کمیٹی بنائی جائیگی جس میں ڈونرز کے نمائندے بھی شامل ہونگے۔ متعلقہ اداروں کو نقصانات کی تفصیل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں ڈونرز کو تفصیلی بریفنگ دی جائیگی۔ اجلاس میں فرانس‘ کینیڈا‘ ارجنٹائن‘ آسٹریلیا‘ انڈونیشیا‘ کویت‘ ہالینڈ‘ روس‘ سپین‘ سعودی عرب کے سفیروں اور دیگر عالمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔شمالی وزیرستان میں اپریشن ضرب عضب کی کامیابی کیلئے نقل مکانی کرنیوالوں کی تعداد 20 لاکھ ہو چکی ہے۔ جب یہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر پاک فوج کی زیرنگرانی کیمپوں میں منتقل ہو رہے تھے تو اقوام متحدہ نے امداد کی پیشکش کی جو ہماری حکومت نے قبول کرنے سے معذرت کرلی۔ کہا گیا کہ ہم اپنے وسائل سے اپنے لوگوں کی مدد کرینگے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران بھی یہی مو¿قف دہرایا گیا۔ حکومت نے اعلان کیا کہ سیلاب متاثرین کیلئے غیرملکی امداد کی اپیل نہیں کی جائیگی۔ ایسے اعلانات سے قومی وقار اور خودداری کا جذبہ نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی لیکن حقیقت کو نظرانداز کر دیا گیا۔ قدرتی آفات کی صورت میں معاملات سنبھالنا آفت زدہ ملک کے بس میں نہ رہے تو عالمی برادری سے اپیل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ حکومت کو آئی ڈی پیز کی تعداد اور سیلاب زدگان کی مشکلات و مسائل کا ادراک پانی سر سے اونچا ہونے کے بعد ہوا۔ سیلاب کا سب سے زیادہ نقصان پنجاب میں ہوا‘ پنجاب میں یہ 50 سالہ تاریخ کا تباہ کن سیلاب تھا جس میں ساڑھے تین ہزار دیہات پانی کے ساتھ بہہ گئے اور ہلاکتوں کی تعداد پانچ سو سے زائد رہی جبکہ متاثرین کی تعداد 32 لاکھ ہے۔ شمالی وزیرستان سے 20 لاکھ بے گھر ہونیوالے افراد کو اپنے گھروں سے جس حد تک ممکن تھا سامان اور جانوروں لے جانے کا موقع مل گیا۔ گو دہشت گردوں کی بمباری میں نقل مکانی کرنیوالے بہت سے لوگوں کے گھر بھی متاثر ہوئے البتہ اکثر محفوظ رہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بقول اگر شمالی وزیرستان کے 20 لاکھ بے گھر افراد کی بحالی کیلئے دو ارب ڈالر درکار ہیں تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 32 لاکھ افراد کی بحالی کیلئے کس قدر رقم اور وسائل درکار ہونگے۔ ان میں سے اکثر کے گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ ان کو آئی ڈی پیز کی طرح منظم طریقے سے کیمپوں میں منتقل نہیں کیا گیا۔ اکثر کھلے آسمان تلے پڑے امداد کے منتظر ہیں۔ حکومت اپنے طور پر انکی امداد کیلئے کوشاں ضرور ہے لیکن نقصانات کے مقابلے میں یہ بہت کم ہے۔ حکومت پنجاب ہر خاندان کو 25 ہزار روپے کی پہلی قسط دے رہی ہے‘ اسے حکومتی وسائل کے مطابق تو کافی قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ متاثرین کے مسائل کے مطابق ناکافی ہے۔ اس امداد میں شفافیت بھی مفقود ہے۔ ہر جگہ وزیراعظم نوازشریف اور خصوصی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا پہنچنا ممکن نہیں۔ جہاں یہ پہنچتے ہیں‘ وہاں مقامی بیوروکریسی ڈرامے بازی کرتی ہے جس سے حکومت کیخلاف متاثرین میں نفرت پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امداد نہ ملنے پر کئی شہروں‘ قصبوں اور دیہات میں متاثرین حکومت کیخلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ ماضی میں زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات میں حکومتیں دوسرے ممالک سے امداد کی اپیل کرتی رہی ہیں۔ عالمی برادری بالخصوص چین‘ ترکی‘ سعودی عرب‘ عرب ممالک اور امریکہ جیسے ممالک نے کھل کر امداد دی تاہم اس کا معمولی سا حصہ متاثرین کو مل سکا‘ باقی امداد تقسیم کرنے کے ذمہ داروں نے مارکیٹ میں فروخت کردی جس سے حکومت اور اسکے اہلکاروں کی دیانت پر غیرملکیوں کی نظر میں ایک بڑا سوال کھڑا ہو گیا۔ اس کا اندازہ 2012ءکے سیلاب میں پیپلزپارٹی کی عالمی برادری سے اپیل کے حشر سے لگایا جا سکتا ہے۔ حکومت نے پورے زور شور سے اپیل کی لیکن کسی ملک نے دلچسپی نہ لی۔ آج سیلاب کی تباہ کاریاں پوری دنیا کے سامنے ہیں‘ آئی ڈی پیز کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ حکومت کا پھیلا ہوا ہاتھ دیکھ کر عالمی برادری 52 لاکھ متاثرین کی مدد کرنے کو تیار ہے جس طرح ڈونرز نے یقین دہانی کرائی ہے‘ امداد متاثرین کی ضرورت سے بڑھ سکتی ہے۔ اگر یہ امداد دیانتداری سے متاثرین تک پہنچائی جائے تو یقیناً ہر متاثرہ خاندان اور فرد اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو جائیگا۔ امداد کی تقسیم کے حوالے سے ماضی کے تجربات تلخ ہیں۔ ان کو دہرایا نہیں جانا چاہیے۔ امداد ایک سٹم وضع کرکے تقسیم کی جائے۔ اسحاق ڈار کی ڈونر کو کرائی جانیوالی یقین دہانی وقت کی ضرورت اور اعتماد بحال کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے کہ امداد کے مناسب اور شفاف انداز میں استعمال کیلئے میکنزم تیار کیا جائیگا۔ اسکی خاطر قائم کی جانیوالی نگران کمیٹی میں ڈونرز کے نمائندے بھی شامل ہونگے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کمیٹی میں وہ لوگ شامل کئے جائیں جن کی دیانت شک و شبہ سے بالاتر ہو۔ اگر آئی ڈی پیز کی بحالی میں کوتاہی کی گئی تو ان لوگوں کا جھکاﺅ دہشتگردوں کی طرف ہو سکتا ہے اور سیلاب متاثرین کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا تو حکمران الیکشن کے دوران اپنی حیثیت کا بخوبی تعین کر سکتے ہیں۔