جرگے عدالتوں کی معاونت تک درست ہیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
جرگے عدالتوں کی معاونت تک درست ہیں

وزیر اعظم میاں نواز شریف سے گزشتہ روز ممتاز علماءکرام و مشائخ کے وفد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ جرگہ بہترین مثال ہے۔ تنازعات کے حل کےلئے متبادل نظام بہترین ہے۔ اس سے عدالتوں پر بوجھ بھی کم ہو گا۔پنچائیت یا جرگے کے ذریعے فریقین کو بیٹھا کر جانبین کی بات سننا اور اسے لڑائی جھگڑے میں پڑے بغیر حل کرانے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے۔ لیکن یہ نظام عدالتوں کے مساوی نہیں ہونا چاہئیے۔ کوئی بھی پنچائیت یا جرگہ کسی بھی فریق کو سزا یا جزا دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ جرگہ پنچائیت ایک کونسل سنٹر کی صورت میں ہونے چاہئیں۔ جہاں پر وہ فریقین کی باتیں سن کر انہیںاپنے فیصلے کےلئے عدالت بھیجیں۔ سزا یا جزا کا کوئی فیصلہ عدالت کو کرنا چاہئیے یہ نظام گرچہ اچھے ہیں انہیں چلانے میں کوئی قباحت نہیں۔ لیکن پسماندہ علاقوں کی طرح ان فیصلوں کی آڑ میں ہر گلی محلے کی سطح پر عدالتیں نہیں لگنی چاہئیں۔ وہاں پر صرف مشاورت ہو۔ اور فریقین کو مسئلہ حل کرنے کی جانب مائل کیا جائے۔ سول سوسائٹی قانونی ماہرین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ علاقے کے معززین علماءکرام اور اساتذہ کو شامل کیا جائے۔ اور فریقین میں صلح کی کوشش کرائی جائے اور حتمی فیصلے کیلئے اسے عدلیہ کو ریفر کردیا جائے۔