مصر میں فوج کی مدد سے مرسی حکومت کا خاتمہ‘ عبوری حکومت کی تشکیل اور نئے انتخابات کا اعلان

کیا ایسے حالات جمہوری حکمرانوں کی آمرانہ سوچ کا شاخسانہ ہوتے ہیں؟
 مصری فوج نے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر آئین معطل کر دیا ہے‘ ملک میں نئے صدارتی پارلیمانی انتخابات کرائے جائینگے۔ عرب ٹی وی کے مطابق معزول صدر مرسی سمیت اخوان المسلمون کی حکومت کی اعلیٰ قیادت کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مصری آرمی چیف عبدالفتاح السیسی نے فوجی انقلاب کے بعد مصری عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام نے اس اقدام پر مجبور کیا ہے‘ ہم عوام کے ساتھ ہیں‘ دوبارہ الیکشن کرائیں گے۔ آئین عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے‘ ہم سیاست سے دور رہیں گے۔ انہوں نے مصری آئینی عدالت کے چیف جسٹس عادل منصور کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ مرسی عوام کی خواہشات پوری کرنے میں ناکام رہے تھے‘ ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مصر میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل حکومت قائم ہو گی اور تشدد کے واقعات سے سختی سے نمٹا جائیگا۔ انکے بقول مصری عوام نے ہمیں سپورٹ اور تحفظ کیلئے بلوایا ہے‘ اب عبوری حکومت کے سربراہ صدارتی پارلیمانی انتخابات کا اعلان کرینگے۔ فوج کی جانب سے محمدمرسی کو اقتدار چھوڑنے کیلئے بدھ کی شام تک کی مہلت دی گئی تھی‘ تاہم انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا اور جب ڈیڈ لائن ختم ہونے پر فوج نے صدارتی محل کی جانب پیش قدمی شروع کی‘ سرکاری ٹی وی کی عمارت پر قبضہ کیا اور اہم دستاویزات بھی قبضے میں لے لیں تو مرسی نے مذاکرات کی پیشکش کی جو مصری آرمی چیف نے قبول نہ کی اور انکی حکومت کا تختہ الٹ کر عبوری حکومت کا اعلان کر دیا۔ عرب میڈیا کے ذرائع کے مطابق محمد مرسی نے اقتدار چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا‘ جبکہ وہ اب بھی خود کو آئینی سربراہ حکومت قرار دے رہے ہیں اور انکے ترجمان کے بقول انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ برے نام سے یاد کئے جانے کے بجائے جمہوریت کیلئے جان دینے کو ترجیح دینگے۔ انہوں نے اپنی معزولی سے قبل ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کی حفاظت کا حلف اٹھایا ہے جسے وہ ضرور پورا کرینگے اور مرتے دم تک اپنے آئینی عہدے کی حفاظت کرینگے۔ دوسری جانب مصر کی اپوزیشن جماعتوں نے مرسی کے خطاب کو مسترد کرتے ہوئے اسے خانہ جنگی کا اعلامیہ قرار دیا جبکہ مصری آرمی چیف السیسی کے نام پر جاری کردہ مصری مسلح افواج کی سپریم کونسل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم خدا کی قسم کھا کر یقین دلاتے ہیں کہ ہم مصر اور اسکے عوام کی حفاظت کیلئے انہیں دہشت گردوں‘ بنیاد پرستوں اور بے وقوفوں سے بچانے کی خاطر اپنا خون بھی بہا دینگے۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق مرسی اور اخوان المسلمون کے دیگر رہنماﺅں پر ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل نے مصری آرمی چیف کو فون کرکے ان سے مصر کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی البتہ پینٹاگون کے ترجمان نے اس گفتگو کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا جبکہ امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ مصر کے معاملہ میں غیرجانبدار ہے۔ مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مصری آرمی چیف نے اپوزیشن لیڈر محمد البرادی‘ مصر کے چرچ کے پوپ توادروس اور جامعہ الازہر کے امام احمد الطیب سے مصر کے آئندہ روڈمیپ پر مشاورت کی‘ جنہوں نے فوج کے اقدامات کی تائید کی جبکہ سعودی حکومت کی جانب سے بھی مصر کے عبوری سربراہ کو مبارکباد دی گئی ہے۔ محمد مرسی جو مصر کے کم و بیش 30 سال تک سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے صدر حسنی مبارک کیخلاف طویل اور پرتشدد عوامی تحریک کے زور پر اس وقت کے مصری آرمی چیف فیلڈ مارشل حسین طنطاوی کو صدارتی انتخابات کے اہتمام پر مجبور کرکے عوامی طاقت کے زور پر گزشتہ سال 30 جون کو اقتدار میں آئے تھے اور انہوں نے التحریر چوک میں اپنے ہزاروں حامیوں کے سامنے صدر کے عہدہ کا حلف اٹھایا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے ہونگے کہ اپنے خلاف ایسی ہی عوامی تحریک کے نتیجہ میں انہیں ٹھیک ایک سال بعد خود بھی اقتدار سے جبراً الگ ہونا پڑیگا۔ اس تناظر میں عرب ریاستوں میں اٹھنے والی جمہوری تحریکوں کے بانیان کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ مصر میں عوامی تحریک کی قیادت کرنیوالی وہاں کی اسلامی انقلابی جماعت اخوان المسلمون کے جس صدارتی امیدوار نے اپنے مدمقابل صدارتی امیدوار احمد شفیق کے مقابلہ میں مجموعی طور پر 51 اعشاریہ 73 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی اور اپنی عوامی مقبولیت کے جھنڈے گاڑے‘ وہ ایک سال کے عرصہ میں ہی اپنے کن اقدامات اور فیصلوں کی بنیاد پر اتنے غیرمقبول ہو گئے کہ ان کیخلاف عوامی تحریک کے زور پر مصری فوج کے سربراہ کو انکی حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ مصری عوام گزشتہ سال انکے حامی انتخابات کے موقع پر نتائج میں کسی ممکنہ ہیرپھیر کو روکنے کی خاطر لاکھوں کی تعداد میں التحریر چوک میں دھرنا دیئے بیٹھے رہے اور محمد مرسی کو اقتدار کی منتقلی کیلئے فیلڈ مارشل حسین طنطاوی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرکے ہی اپنی تحریک ختم کی۔ مرسی بذات خود ایک ماڈریٹ شخصیت ہیں‘جنہوں نے کیلیفورنیا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی جبکہ مصر کے انقلابی لیڈر حسن البنیٰ کی قیادت میں 1928ءمیں تشکیل پانے والی اخوان المسلمون بھی آمریتوں کے مسلسل جبر اور قید و تشدد کی صعوبتیں برداشت کرتے 84 سال بعد مصر میں بے پناہ جمہوری کامیابی کی شکل میں اسلامی فلاحی جمہوری انقلاب کی علامت بنی تھی جس کے تمام لیڈران‘ عہدیداران اور کارکنان تک اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ اسی تناظر میں صدر مرسی کی زیر قیادت مصر میں قائم ہونیوالی اخوان المسلمون کی حکومت سے اسلامی دنیا کی قیادت کی توقع کی جارہی تھی اور اس پارٹی کے بارے میں یہ تصور پختہ ہو رہا تھا کہ صدر مرسی کی قیادت میں یہ پارٹی جدید دنیا کے تقاضوں اور اسلامی تعلیمات کو پیش نظر رکھ کر اصل اسلامی انقلاب لانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس حوالے سے یہ سوچنے والی بات ہے کہ مرسی کے اقتدار کے قلیل عرصہ بعد ہی آخر ایسے کیا حالات پیدا ہو گئے کہ انہیں اقتدار میں لانے والے مصری عوام ہی انکے گلے پڑ گئے اور ان سے گلوخلاصی کیلئے مصری فوج کا تعاون طلب کرنے پر مجبور ہوئے۔ مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مصری آرمی چیف نے چونکہ خود اقتدار میں آنے کے بجائے مصری چیف جسٹس کی قیادت میں عبوری حکومت بھی تشکیل دے دی ہے جسے ازسرنو صدارتی انتخاب کی ذمہ داری سونپی گئی ہے‘ اس لئے بادی النظر میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ مصری فوج نے اقتدار پر قبضہ کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ عوام کے تقاضے کا احترام کرتے ہوئے محمد مرسی کا تختہ الٹا ہے۔ اس بارے میں بعض سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ فوج کا کام اپنی منتخب حکومت کا تختہ الٹنا نہیں بلکہ وہ اس کیلئے اس وقت مجبور ہوتی ہے جب منتخب حکومت اپنے سسٹم سے انحراف کرتے ہوئے من مانی پالیسیاں اختیار کرتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے بقول ہمارے ملک کے فوجی انقلابات کا بھی ایسا ہی پس منظر ہے۔ جس طرح مصری وزیراعظم نے ایک طاقت ور آرمی چیف کو برطرف کرکے عبدالفتاح کو آرمی چیف بنایا تھا‘ اسی طرح سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے بھی فوج کی سنیارٹی کو نظرانداز کرتے ہوئے ضیاءالحق کو کئی سینئر فوجی افسروں پر ترجیح دیکر آرمی چیف بنایا اور پھر انہی کے ہاتھوں انکی حکومت کا خاتمہ ہوا جبکہ میاں نواز شریف نے بھی بطور وزیراعظم اسی روایت کو دہرایا‘ جنہوں نے جنرل جہانگیر کرامت کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کے بعد جنرل مشرف کو کئی سینئر فوجی افسروں پر ترجیح دیکر آرمی چیف بنایا اور پھر اس غلطی کا خمیازہ انہی کے ہاتھوں اپنی منتخب حکومت کی برطرفی اور جلاوطنی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ معزول مصری صدر محمد مرسی نے تو اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں اسلامی دنیا کے دل جیت لئے تھے‘ جس میں انہوں نے امریکہ کو اپنا ہی طے کردہ 1976ءکا کیمپ ڈیوڈ معاہدہ یاد کرایا اور اسکی روشنی میں فلسطین کی خودمختار ریاست کو تسلیم کرنے کا تقاضا کیا جبکہ انہوں نے فلسطینیوں کیلئے غزہ پٹی کھول کر بھی فلسطین کی آزاد مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ پھر انہوں نے امریکی استعمار کیخلاف ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے مو¿قف کی بھی حمایت کی۔ وہ اگرچہ گزشتہ سال اسلام آباد میں منعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس میں اپنی بہن کے انتقال کے باعث خود شریک نہ ہو سکے‘ تاہم انہوں نے اس کانفرنس میں اپنے پیغام کے ذریعے اسلام کی نشاة ثانیہ کے احیاءکی ضرورت پر زور دیا اور اپنی حکومت کی پالیسیاں بھی ایسی مرتب کیں جو اسلام مخالف استعماری قوتوں کو ہضم نہیں ہو سکتی تھیں۔ اس تناظر میں یہ تاثر پختہ ہو چکا تھا کہ مرسی کے صدر کا عہدہ سنبھالنے پر واشنگٹن میں مقیم بااثر اسرائیلی لابی کو سخت تکلیف پہنچی ہے۔ مرسی کا انتخاب اسلام مخالف استعماری قوتوں کو یقیناً ناگوار گزرا ہو گا مگر مصر کے عوام پہلے والے جذبے کے ساتھ انکی پشت پر موجود ہوتے تو انکے اقتدار کیخلاف کوئی اندرونی یا بیرونی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی تھی جبکہ صدر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے مصری فوج اور عدلیہ سے بیک وقت ٹکر لے کر اپنے لئے خود ہی مشکلات کھڑی کیں اور اس کشمکش میں وہ مصری عوام کی ان توقعات پر بھی پورا نہ اتر سکے جو انہوں نے حسنی مبارک کے دور آمریت میں اور پھر اسکے تسلسل پر مبنی فوجی عبوری حکمرانی کے دوران اپنے جمہوری حقوق کے سلسلہ میں ان سے وابستہ کی تھیں۔ اگر وہ اداروں کے ساتھ جارحانہ ٹکراﺅ کا راستہ اختیار نہ کرتے تو آج انکے ساتھ اخوان المسلمون کو بھی 84سال بعد ہاتھ آئے اقتدار سے محروم نہ ہونا پڑتا جبکہ محمدمرسی اپنے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریک کے مطالبات کے آگے سرتسلیم خم کرکے دوبارہ ان کا اعتماد حاصل کر سکتے تھے۔ اگر منتخب جمہوری حکمرانوں کے دلوں میں بھی آمرانہ خناس کا سودا سما جائے تو ان کا انجام وہی ہوتا ہے جو آج محمدمرسی اور انکی جماعت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مصر کے حالات بلاشبہ ہمارے منتخب جمہوری حکمرانوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہیں‘ وہ ان حالات سے بھی اور اپنے ملک میں مسلط ہونیوالی ماضی کی فوجی آمریتوں کے پس منظر سے بھی سبق حاصل کریں اور عوام کا اعتماد کسی صورت مجروح نہ ہونے دیں۔