عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے اے پی سی کا انعقاد خوش آئند ہے

وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کے سربراہوں کی آل پارٹیز کانفرنس 12 جولائی کو طلب کر لی ہے۔ اس اجلاس میں عسکریت پسندی کے خاتمہ کیلئے قومی حکمت عملی بھی بنائی جائیگی جبکہ عمران خان نے کہا ہے کہ دوغلی پالیسی قبول نہیں۔ حکومت ڈرون حملے رکوانے کے وعدے پورے کرے۔ امریکہ پاکستان کے احتجاج کے باوجود ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ڈرون حملوں سے قبائلیوں میں اشتعال پیدا ہوتا ہے اور دوسرا یہ پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے بھی خلاف ہیں۔ پاکستان متعدد مرتبہ امریکہ سے کہہ چکا ہے کہ وہ ہدف کی نشاندہی کریں ہماری فوج وہاں خود کارروائی کریگی لیکن امریکہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔ یہ کسی ایک جماعت کا احتجاج نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ڈرون حملوں کے باعث دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ کیا بھی شروع کیا جائے۔ عمران خان کا یہ کہنا بجا ہے کہ حکومت ڈرون بارے دوغلی پالیسی نہ اپنائے۔ مگر خیبر پی کے میں جہاں ڈرون حملے ہو رہے ہیں‘ انکی اپنی حکومت ہے۔ وہ ڈرون حملوں کیخلاف اپنی صوبائی حکومت کو بھی متحرک کریں اور محض سیاسی بان بازی پر اکتفا نہ کریں۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ایجنسیاں طالبان کی پشت پناہی کر رہی ہیں انہیں کھانے کے ڈبے بھیجے جاتے ہیں یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے، ایجنسیوں کو قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض منصبی ادا کرنے چاہئیں، عوام کو مارنے، خودکش حملے کرنے والوں کیساتھ اتنی بڑی خیر خواہی چہ معنی دارد؟