امداد میں کمی سے دہشتگردی کےخلاف جنگ متاثر ہو سکتی ہے

امریکی حکومت نے کانگرس کو پاکستان کی اقتصادی اور سکیورٹی امداد میں نمایاں کمی کیلئے کہا ہے۔ امریکی حکومت نے مالی سال 2014 کےلئے پاکستان کی امداد کی مد میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مانگے ہیں (اس میں کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم بھی شامل ہے) جب کہ 2012 میں ایک ارب 90 کروڑ ڈالر مانگے گئے تھے۔پاکستان دہشتگردی کےخلاف جنگ میں بھر پور حصہ لے رہا ہے،پاکستان نے تو اس جنگ کو اپنی جنگ قرار دیا ہے۔اس جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت زوا ل پزیر ہوئی ،پورا ملک دہشتگردی کی لپیٹ میں آگیا اور پانچ ہزار فوجیوں سمیت 40ہزار پاکستانی اس جنگ کا ایندھن بن گئے۔امریکہ نے سپورٹ فنڈ اور امداد کے ذریعے پاکستان کے معاشی نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کی ،دہشتگردی کیخلاف جنگ اور امریکی امداد کا سلسلہ ہنوز جاری ہے لیکن اب اس میں امریکی حکومت کٹوتی کا ارادہ رکھتی ہے جسے معروضی حالات میں مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا۔جس طرح دہشتگردی کی جنگ دنیا کی مشترکہ جنگ ہے اسی طرح اس جنگ کے فرنٹ لائن اتحادی کا نقصان بھی مشترکہ ہے جو عالمی برادری اور خصوصی طور پر جنگ کو لیڈ کرنیوالی ریاست امریکہ کو ہی پورا کرنا چاہیے۔پاکستان کی امداد میں اگر کٹوتی کی گئی تو پاکستان کی طرف سے اس جنگ کیلئے مطلوبہ وسائل میں کمی سے حریف غلبہ پانے کی پوزیشن میں آسکتا ہے جو اس موقع پر جب امریکہ افغانستان سے انخلا کی تیاری کررہا ہے، قابل برداشت نہیں ہوگا۔