”مودی کا وزیراعظم بننا تباہ کن ہو گا “

ایڈیٹر  |  اداریہ

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ معصوم لوگوں کے قتل کی پشت پناہی کرنے والا شخص وزیراعظم نہیں بننا چاہئے۔ مودی کا وزیراعظم بننا تباہ کن ہو گا اس سے ملک ٹوٹ سکتا ہے۔ بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیم بی جے پی نے گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو وزارتِ عظمیٰ کیلئے نامزد کیا ہے جبکہ مودی کا ماضی کا ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ مسلمانوں کا دشمن ہے۔ فروری 2002ءمیں مودی کی زیر نگرانی گجرات میں 2500 مسلمانوں کو بے رحمی سے قتل اور کچھ کو زندہ جلایا گیا، سینکڑوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ نریندر مودی نے بحیثیت وزیر اعلیٰ اس قتل و غارت کو نہیں روکا بلکہ بے رحم ہندو قاتلوں کو مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی کھلی چُھٹی دی جو نیزوں، تلواروں، پٹرول اور آہنی ہتھیاروں سے لیس ہو کر مسلمانوں کی بستیوں کو جلاتے تھے مودی نے ان افراد کی سرپرستی کی تھی، ایسا پُرتشدد اور متعصب ماضی رکھنے والا شخص اگر بھارت کا وزیراعظم بن جاتا ہے تو اس سے نہ صرف پورے خطے میں تباہی آئے گی بلکہ بھارت کے سیکولر ملک ہونے کا جواز بھی نہیں رہے گا۔ مودی کے وزیراعظم بننے سے نہ صرف بھارت کے ٹکڑے ہونے کے خطرات بڑھ جائیں گے بلکہ وہاں پر بسنے والی اقلیتوں کیلئے بھی یہ تباہ کن ہو گا۔ امریکہ نے مودی کے امریکی سفر پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ یورپی یونین بھی ایسے پُرتشدد شخص کے ساتھ چلنے سے گریز کرتی ہے لہٰذا بھارتی عوام اور بالخصوص مسلمان ایسے شخص سے بچیں جس نے ان کے پیاروں کو قتل کیا ہو۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے اپنے عوام کو آگاہ کر دیا ہے لہٰذا قتل کی پشت پناہی کرنے والے مودی سے بچنا اب بھارتی عوام کا کام ہے۔