یوتھ بزنس سکیم کی طرح دیگر محکموں میں بھی سفارش ختم کی جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں سفارش کے کینسر کو ختم کر کے میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانا ہو گا۔ نوجوانوں کو کاروباری قرضے میرٹ پر ملیں گے، میری سفارش بھی نہیں چلے گی۔ ملک میں سفارش کلچر عام ہو چکا ہے جس کے باعث غریب کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ غریب طلبہ سکولز کالجز اور یونیورسٹیوں میں بھاری فیسیں ادا کر کے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں لیکن جب ملازمت کی باری آتی ہے تو میرٹ کا قتل کر کے سفارش کے ذریعے سلیکشن کی جاتی ہے اور یوں تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کرنے والے غریب طلبہ مایوس ہو کر اور ڈگریاں ہاتھوں میں پکڑ کر سراپا احتجاج ہوتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرے لیکن ہمارے ملک میں پڑھے لکھے افراد سڑکوں پر مزدوریاں کر رہے ہیں جبکہ جاہل اور جعلی ڈگریوں والے ایوان اقتدار میں بیٹھ کر پڑھے لکھے افراد کی قسمت کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کے سابقہ دور میں بھی اقربا پروری کی گئی اور میرٹ کے برعکس لوگوں کو بڑے بڑے پُرکشش عہدوں پر بٹھایا گیا، اب اگر میاں نواز شریف رنگ، مذہب اور حسب ونسب سے بالاتر ہو کر میرٹ کو ترجیح دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو اس پر سختی سے کاربند رہیں۔ میرٹ صرف یوتھ بزنس سکیم تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ تمام سرکاری محکموں میں اس پر سختی سے عمل کیا جائے۔ اپنے ارکان اسمبلی اور وزراءسے بھی سفارش کلچر کو ختم کرنے کا حکم دیں اور تھانہ کچہری اور پٹوار خانے سے لیکر ہر سطح پر تمام شہریوں کے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر میرٹ پر کام ہونے چاہئیں تاکہ کسی کا بھی استحصال نہ ہو۔ جس طرح میاں نواز شریف یوتھ بزنس میں اپنی سفارش بھی نہ چلنے کا اعلان کر رہے ہیں تمام محکموں میں ایسا ہی اعلان کریں تاکہ بلاتفریق سب کے کام میرٹ پر ہوں اور سفارش کلچر کا خاتمہ ہو سکے۔