چین بھارت پر مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور ڈالے

ایڈیٹر  |  اداریہ

چین نے مسئلہ کشمیر کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی پر کمی لانے کیلئے دفاعی مذاکرات کے حامی اور ثالثی کیلئے تیار ہیں۔ چین دنیا کا واحد ملک ہے جو کشمیری عوام کو بھارتی پاسپورٹ نہیں بلکہ ایک سفید کاغذ کی درخواست پر ویزہ جاری کرتا ہے۔ چین کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی تحریک کی پُرزور حمایت کرتا ہے۔ چین کے دفتر خارجہ کے کی ترجمان نے کہا ہے کہ ہم پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہیں جبکہ بعض ذرائع کے مطابق ترکی کے وزیراعظم کے دورہ¿ پاکستان کے دوران وزیراعظم میاں نواز شریف نے طیب اردگان کو پاک بھارت تعلقات بہتر کرانے اور کشمیر پر ثالثی کرنے کا کہا تھا جس پرترکی کے وزیراعظم نے حامی بھری اور وہ عنقریب بھارت کا دورہ بھی کریں گے۔ میاں نواز شریف یاد رکھیں پاکستانی قوم اور کشمیری عوام مسئلہ کشمیر پر کسی بیک ڈور ڈپلومیسی کے حق میں ہیں نہ ہی کشمیر پر کسی ملک کو ثالثی کی ضرورت ہے بھارت مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر خود لیکر گیا تھا اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی موجود ہیں لہٰذا مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔ پاکستان کے دوست اور خیر خواہ ممالک ثالثی کی بجائے بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کریں۔ سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے دور میں تو بھارت کو کشمیر کیلئے بڑے آپشن دئیے تھے لیکن بھارت مقبوضہ وادی سے آگے بڑھ کر پورے کشمیر کو کنٹرول کرنے کے چکر میں ہے۔ لہٰذا حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر پر لچک دکھانے کی بجائے بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قائداعظم کے فرمان کے مطابق اپنی شہ رگ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔