ملک تک بات بڑھنے کے بیان پر سیاسی پارٹیوں کا شدید ردعمل ،متحدہ اور سندھ حکومت مذاکرات کا آپشن اختیار کریں....الطاف حسین واپس آجائیں تو مسائل حل اور کراچی میں امن ہوسکتا ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ سندھ میں اردو بولنے والوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اگر اردو بولنے والے سندھی پسند نہیں تو ان کا الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ صوبے میں ففٹی ففٹی کا مطالبہ پورا کر دو تو بات ہو سکتی ہے ورنہ بات آگے بڑھ کر ملک تک جا سکتی ہے۔ حیدرآباد میں جلسہ عام سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیبل پر بیٹھ کر بات کر لو اور شہری آبادی کو برابر کا حصہ دیا جائے۔ اردو اور سندھی بولنے والے سندھی ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں، سندھ کے شہری علاقے ہڑپہ، موہنجوداڑو کا نقشہ پیش کر رہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، طاقت کے بل پر عدالتی فیصلہ نہیں مانا گیا تو جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے۔ حکومت کو غنڈہ گردی کرنی ہے تو کرے جان دینا جانتے ہیں، ہم نے جانیں دی ہیں،بلدیاتی انتخابات سے فرار کے لئے حلقہ بندیوں کا شوشہ چھوڑا گیا، ایسی حلقہ بندیاں کی گئیں کہ پی پی ہر جگہ کامیاب اور ایم کیو ایم ہارے۔ وفاقی حکومت مہاجروں میں علیحدگی کے جراثیم پیدا کرنا چاہتی ہے۔ قائم علی شاہ کی حکومت نے کاٹ کر پھینک دیا ہے۔ نوازشریف سے کہتا ہوں کہ پاکستان کو بچا لو۔
 متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی چوتھی بڑی پارٹی اور الطاف حسین کی قیادت میں کسی بھی پارٹی سے زیادہ منظم ہے ہے یہ جن لوگوںکی نمائندگی کرتی ہے ان کے حقوق اور مفادات کا ممکنہ حد تک تحفظ اس کی قیادت کی ذمہ داری ہے جس سے کبھی پہلو تہی نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے قائد کی ایک کال پر متحدہ کے کارکن کراچی اور حیدرآباد کو بندکرادیتے اور پُر تشدد کارروائیوں سے بھی گریز نہیںکرتے۔متحدہ قومی موومنٹ سیاست میں آنے کے بعد زیادہ عرصہ اقتدار میں رہی۔2008ءکے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے ساتھ مرکز اور سندھ میں شیرو شکر رہی۔اس دوران اگر کسی معاملے پر اختلافات ہوئے تو مل بیٹھ کر حل کرلیے گئے۔اب مرکز اور سندھ میں الگ الگ پارٹی کی حکومت ہے شاید اس لئے متحدہ تذبذب کا شکار ہے یا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اس کو ساتھ ملانے پر تیار نہیں۔اپوزیشن میں بیٹھنا جمہوریت کا حصہ ہے۔متحدہ کو تو ابھی اپوزیشن میں سیٹیں سنبھالے6 سات ماہ ہوئے ہیں۔ ہمارے جمہوری سسٹم میں اصولی اپوزیشن کو گھاٹے کا سودا سمجھاجاتا ہے۔حکومتی پارٹی وسائل پر صرف اپنا حق ہی سمجھتی ہے۔اپوزیشن میں بیٹھ کر ووٹر کو مطمئن کرنا مشکل ہوجاتا ہے اب تو کراچی میں اپریشن بھی ہورہا ہے ایم کیو ایم سمجھتی ہے کہ اس میں اسے نشانہ بنایاجارہا ہے۔الطاف حسین کا برطانوی پولیس نے عرصہ حیات تنگ کیا ہواہے۔عمران فاروق قتل اور منی لانڈرنگ کیسز میں متحدہ کی قیادت الزامات کی زد میں ہے۔ایسے میں الطاف حسین کا جذباتی ہوجانا ایک فطری امر ہے لیکن جذبات میں بھی ایسی بات نہیں کی جانی چاہئے جو ملک کی اکثریتی آبادی کیلئے تکلیف کا باعث بنے۔ الطاف حسین کے بیان کی کسی دوسری پارٹی کی طرف سے حمایت نہیں کی گئی ہر پارٹی نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اورکئی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
 پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹر پر اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ہم مر جائیں گے مگر سندھ کسی کو نہیں دےنگے۔ سندھ ہماری دھرتی ہے باہر سے آنیوالے اس پر کیسے قابض ہو سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کوئی برداشت نہیں کرسکتا، الگ ملک کا مطالبہ پاکستان توڑنے کی سازش ہے۔ سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ ہم سندھ کے ایک انچ کے ٹکڑے کو بھی علیحدہ نہیں ہونے دینگے۔ الطاف حسین پرویز مشرف کے خلاف ہونیوالی کارروائی کا غصہ نکال رہے ہیں۔ اردو بولنے والے تمام لوگ ایم کیو ایم کے نہیں۔سب جانتے ہیں کہ غنڈہ گردی کون کرتا ہے۔ سندھی قومیت پرست رہنما ایاز لطیف پلیجو نے الزام عائد کیا کہ الطاف حسین عالمی طاقتوں کی سازش کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ سندھ کو توڑنے کی بات کرنے والوں کو ہم منہ توڑ جواب دینگے۔اگر آئندہ 48 گھنٹوں میں ایم کیو ایم کے الطاف حسین نے بیان واپس نہ لیا اور معذرت نہ کی تو 6 جنوری کو سندھ بھر میں ہڑتال کر دینگے۔ تحریک انصاف کی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری نے کہا کہ الطاف حسین نفرت کے سوداگر ہیں۔ان کا مطالبہ کسی سازش کا حصہ لگتا ہے۔ اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہاکہ ایم کیو ایم جب بھی اقتدار سے باہر ہوئی تو بلیک میلنگ شروع کردیتی ہے۔ زبان کی بنیاد پر صوبے کی تقسیم کا مطالبہ پاکستان توڑنے کی سازش ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے الطاف حسین کے الگ صوبے کے مطالبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مطالبہ انتشار پھیلانے اور ملک کے حصے بخرے کرنے کی سازش ہے۔ فنکشنل لیگ کے رہنما امتیاز شیخ نے کہاکہ الطاف حسین کا مطالبہ نہ صرف غلط ہے بلکہ اس سے سندھیوں کو تکلیف پہنچی ہے۔ تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز احمد چودھری نے کہاکہ الطاف ہوش و حواس کھو چکے۔ 24 سال سے بھاگے ہوئے الطاف اپنے جرائم کی وجہ سے وطن واپس آکر عدالتوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔ برطانوی حکومت الطاف حسین کو پاکستان کے حوالے کرے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ الطاف حسین کا بیان ملک توڑنے کی دھمکی ہے۔ پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے کہا کہ الطاف کا مطالبہ شرانگیز ہے۔
حالات ایسے نہیں ہوئے تھے کہ الطاف حسین نے تمام دروازے بند پاکر صوبے میں ففٹی ففٹی کا مطالبہ کردیا ورنہ بات ملک تک جانے کی دھمکی دیدی اس کے باوجود کہ سندھ میں 11 سال سے عشرت العباد خان گورنر ہیں جو وفاق سے زیادہ الطاف حسین کو جوابدہ ہیں۔ ہر معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے۔پاکستان کی کسی پارٹی نے ان کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ جہاں پیپلز پارٹی کے کردار کو بھی غیر متنازعہ قرار نہیں دیاجاسکتا ہے جس نے متحدہ قومی موومنٹ کی مرضی کے بلدیاتی سسٹم کا بل پاس کیا جس کی ہر پارٹی نے مخالفت کی۔ اب2013 کے انتخابات کے نتیجے میں سندھ میں حکومت قائم ہونے پر پیپلز پارٹی نیا بلدیاتی نظام لے آئی جس کی متحدہ نے مخالفت کی معاملہ ہائی کورٹ میں گیا تو اس نے لوکل باڈیز بل میں حکومت کی ترمیم اور حلقہ بندیاں کالعدم قرار دیدیں۔ گزشتہ روز سندھ حکومت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ اس پر بھی متحدہ گرمی کھا رہی ہے۔ متحدہ کی اشک شو ئی صرف سندھ حکومت کر سکتی ہے۔ وہ الطاف حسین کے لب و لہجے سے صرفِ نظر کرکے صوبے میں بھائی چارے کی فضاءپیدا کرنے کی کوشش کرے۔ الطاف نے کہا کہ مرکزی حکومت مہاجرین میں علیحدگی کے جراثیم پیدا کرنا چاہتی ہے۔ افسوسناک امر ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے الگ ملک پر ردّ عمل آیا نہ علیحدگی کے جراثیم پیدا کرنے پر کوئی وضاحت کی گئی۔اس خاموشی سے کیا مطلب لیا جائے الطاف نے درست کہا ہے؟الطاف حسین بڑے لیڈر اور ان کے کارکن ان پر جان تک نچھاور کرنے پر تیار رہتے ہیں آج کراچی جل رہا ہے۔بد امنی نے پاکستان کی معاشی ہب کو تباہی سے دوچار کردیا ہے۔گزشتہ روز ٹارگٹ کلنگ اور پُر تشدد واقعات میں 11 افراد مارے گئے۔ کراچی کو امن کا گہوارہ الطاف حسین ہی بناسکتے ہیں۔الطاف حسین ملک واپس آجائیں تو کراچی پھر روشنیوں کا شہر بن سکتا ہے۔ان کے الگ ملک کی بات کرنے میں اردو بولنے والوں کیلئے جیسا بھی خلوص ہو اس کی کوئی حمایت نہیںکرسکتاہے۔اندرونِ سندھ قومیت پسندوں نے احتجاج اور جلاﺅ گھیراﺅ شروع کردیا ہے۔ بہتر ہے کہ الطاف حسین الگ ملک کی بات واپس لے کر سندھ کو بد امنی سے بچائیں اور سیاسی پارٹیوں میں پیدا ہونیوالی بے چینی دور کریں۔الطاف حسین نے خود کہا ہے کہ سندھ کے باسی ایک ساتھ رہناچاہتے ہیں اس کیلئے ان کو سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان اگر کوئی دوری ہے تو اسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔