یوم یکجہتی ٔ کشمیر کے تقاضے …… کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا جذبہ سرد نہ ہونے دیں

ایڈیٹر  |  اداریہ

ریاست جموں و کشمیر پر 65 سال قبل بھارتی فوجوں کے ذریعے جبری قبضے اور تسلط کیخلاف آج 5؍ فروری کو آزاد اور مقبوضہ کشمیر اور پاکستان بھر بشمول گلگت‘ بلتستان میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں یہ دن سرکاری طور پر پورے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے چنانچہ آج ملک بھر میں عام تعطیل ہو گی اور کشمیری عوام سے یکجہتی کے اظہار کیلئے مختلف سیاسی‘ دینی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے ریلیوں‘ مظاہروں‘ سیمینارز اور دوسری مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جائیگا جبکہ قومی اخبارات آج یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے خصوصی ایڈیشن شائع کر رہے ہیں اور سرکاری و نجی الیکٹرانک میڈیا پر خصوصی پروگرام نشر اور ٹیلی کاسٹ ہونگے۔ اس دن کی مناسبت سے آج صدر ممنون حسین اور وزیراعظم میاں نوازشریف کشمیری قائدین سے ملاقاتیں کرینگے جبکہ وزیراعظم آج آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس میں خطاب بھی کرینگے۔ دریں اثناء کشمیری شہداء کی یاد میں صبح 9 بجے ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائیگی جبکہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا وفد یوم یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر اقوام متحدہ کے دفتر جا کر یادداشت پیش کریگا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کوہالہ کے مقام پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائیگی اور اسی طرح وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں بھی بڑی بڑی ریلیوں کے ساتھ انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی آج اسلام آباد میں اظہار یکجہتی کے کیمپ لگائے گی۔ اسی طرح آج جماعت الدعوۃ کے زیر اہتمام بھی یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا کشمیری کارواں لاہور میں مرکز القادسیہ چوبرجی سے مسجد شہداء مال روڈ تک جائیگا جبکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی کشمیر کارواں اور خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
کشمیری عوام نے گزشتہ  64 برس سے غاصب اور ظالم بھارتی فوجوں اور دوسری سیکورٹی فورسز کے جبر و تشدد کو برداشت کرتے‘ ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرتے اور متعصب بھارتی لیڈران کے مکروہ فریب کا مقابلہ کرتے ہوئے جس صبر و استقامت کے ساتھ اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے‘ اسکی پوری دنیا میں کوئی مثال موجود نہیں۔ اس خطۂ ارضی پر آزادی کی کوئی تحریک نہ اتنی دیر تک چل پائی ہے‘ نہ آزادی کی کسی تحریک میں کشمیری عوام کی طرح لاکھوں شہادتوں کے نذرانے پیش کئے گئے ہیں اور نہ ہی آزادی کی کسی تحریک میں عفت مآب خواتین نے اپنی عصمتوں کی اتنی قربانیاں دی ہیں‘ جتنی کشمیری خواتین اب تک ظالم بھارتی فورسز کے ہاتھوں لٹتے برباد ہوتے اپنی عصمتوں کی قربانیاں دے چکی ہیں۔ اسکی گواہی ریاست جموں و کشمیر کی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس موومنٹ نے بھی دوماہ قبل جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں دی ہے جس کے مطابق 1947ء سے 2013ء تک بھارتی افواج نے لاٹھی‘ گولی اور ظلم و تشدد کے دیگر حربے اختیار کرکے پانچ لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا‘ ہزاروں عفت مآب خواتین کی عزتیں پامال  کی ہیں اور ظلم کا کوئی بھی ہتھکنڈہ ایسا نہیں چھوڑا جو مظلوم کشمیری عوام پر آزمایا نہ گیا ہو۔ گزشتہ ماہ بھارتی آرمی چیف نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نے سیزفائر کی خلاف ورزی میں کبھی پہل نہیں کی جبکہ ہیومن رائٹس موومنٹ کی متذکرہ رپورٹ میں ہی باور کرایا گیا ہے کہ بھارت نے عالمی قوانین کو تہس نہس کرتے ہوئے گزشتہ دو سال کے دوران کنٹرول لائن کی 140 بار خلاف ورزی کی ہے اور پاکستان کی جانب اس عرصے میں تین ہزار سے زائد مارٹر گولے پھینکے گئے ہیں جن سے 60 ہزار افراد شہید ہوئے ہیں۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں ملنے والی چھ ہزار کے قریب گمنام قبریں بھی بھارتی مظالم کو بے نقاب کر رہی ہیں۔
کشمیر کی آزادی کی تحریک انسانی تاریخ کی بے مثال تحریک ہے جس کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں مستقبل کی منزل بھی متعین ہے‘ اس تناظر میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی درحقیقت پاکستان کی تکمیل اور استحکام کی جدوجہد ہے جس کا دامے‘ درمے‘ سخنے ہی نہیں‘ عملی ساتھ دینا بھی پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کی بنیادی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ تقسیم ہند کے ایجنڈے کے تحت مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہونا تھا جبکہ بانیٔ پاکستان قائداعظم نے کشمیر کی جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور جب اس شہ رگ پر 1948ء میں بھارت نے زبردستی اپنی فوجیں داخل کرکے تسلط جمایا تو قائداعظم نے افواج پاکستان کے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی کو دشمن سے شہ رگ کا قبضہ چھڑانے کیلئے کشمیر پر چڑھائی کرنے کا حکم بھی دیا جس کی جنرل گریسی نے اس جواز کے تحت تعمیل نہ کی کہ وہ برطانوی افواج کے سربراہ کے تابع ہیں اور انکی اجازت کے بغیر کشمیر کی جانب پیش قدمی نہیں کر سکتے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ کشمیر کا تنازعہ بھارت اور برطانیہ کی ملی بھگت سے پیدا ہوا جو درحقیقت پاکستان کو شروع دن سے ہی کمزور کرکے اسکے آزاد وجود کو ختم کرنے کی سازش تھی۔ بھارت اسی سازش کے تحت کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا مگر جب یو این جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اپنی الگ الگ قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور کشمیر میں استصواب کے اہتمام کا حکم دیا تو بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ وادی کو باقاعدہ اپنی ریاست کا درجہ دے دیا۔ بھارتی جبر کے انہی ہتھکنڈوں نے کشمیر کی تحریک آزادی کو مہمیز دی اور آزادی کیلئے کشمیری عوام کی تڑپ کبھی سرد نہیں ہونے دی۔ اسکے برعکس بھارتی فوجیں کشمیری عوام پر مظالم توڑتے توڑتے اب عاجز آچکی ہیں اور اس قضیے سے اپنی گلوخلاصی چاہتی ہیں جس کیلئے سابق بھارتی آرمی چیف اپنی حکومت کو مشورہ بھی دے چکے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کا طاقت کے استعمال کے بجائے کوئی سیاسی حل تلاش کیا جائے مگر وہ بھارتی لیڈران جو کشمیر پر قبضہ برقرار رکھ کر پاکستان کو کمزور کرنے کے متمنی ہیں اورکشمیری عوام کا حق خودارادیت تسلیم کرنے پر قطعاً آمادہ نہیں‘ وہ جہاد کشمیر کو عالمی فورموں پر دہشت گردی تسلیم کراکے اس مبینہ دہشت گردی کا پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی سازشی کوششوں میں مگن ہیں۔ اس بھارتی سوچ کے نتیجہ میں ہی آج تک کشمیر پر پاکستان بھارت مذاکرات کا کوئی ایک مرحلہ بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکا اور مذاکرات کی ہر میز کشمیر کا تذکرہ آتے ہی بھارت خود رعونت کے ساتھ الٹاتا اور مذاکرات کے دروازے بند کرتا رہا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ اس بھارتی رویے کے باوجود سابق جرنیلی آمر ہی نہیں سابقہ اور موجودہ منتخب جمہوری حکمرانوں نے بھی دو قدم آگے بڑھ کر بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے اور اسے گلے لگانے کی پالیسی کو فروغ دیا جبکہ وزیراعظم نوازشریف تو بھارت کے ساتھ ویزہ فری تجارت کا ارادہ بھی رکھتے ہیں اور پاکستان کی شہ رگ کشمیر پر جبری تسلط جمانے والے اس مکار دشمن سے بجلی درآمد کرنے کا منصوبہ بھی بنائے بیٹھے ہیں۔ اسکے برعکس بھارت آبی جارحیت کے ارتکاب سمیت ہماری سالمیت پر وار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اسی حوالے سے گزشتہ روز دفاع پاکستان کونسل کے عہدیداروں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف سے تقاضا کیا ہے کہ وہ بھارت سے یکطرفہ دوستی کے بجائے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں کیونکہ جب تک بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر اور پانی کے معاملات طے نہیں ہوتے‘ اسکے ساتھ دوستی بے سود ہو گی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے اور پاکستان کو سقوط ڈھاکہ کی شکل میں دو لخت کرنے کے بعد اب باقیماندہ پاکستان کی سالمیت کے بھی اعلانیہ درپے ہے اور گزشتہ دو سال سے وہ کنٹرول لائن پر سرحدی کشیدگی جاری رکھ کر پاکستان کو جنگ کی دھمکی بھی دے چکا ہے تو کیا اسے دوست سمجھ کر اسکے ساتھ اقتصادی تجارتی روابط قائم کرنا اور اسے موسٹ فیورٹ قرار دیکر یورپی منڈیوں تک بھی اسے رسائی کے آسان مواقع فراہم کرنا ہمارے مفاد میں ہے یا ملکی سالمیت کو خود ہی خطرات میں ڈالنے اور اپنی معیشت کو اسکے ہاتھوں تباہ کرانے کے مترادف ہے؟ یہ پالیسی تو طویل اور صبر آزما جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیری عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے بھی مترادف ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر حکمران باضابطہ طور پر کشمیر کی جدوجہد آزادی کا ساتھ نبھانے کا عہد کریں اور کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا جذبہ کبھی سرد نہ ہونے دیں۔ کشمیر کی آزادی ہی ہماری بقاء کی ضمانت ہے اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا ماٹو تکمیل پاکستان کی علامت ہے۔ آج یوم یکجہتی کشمیر اس جذبے کے ساتھ منایا جائے کہ کشمیری عوام کی آزادی کی منزل یقینی ہو جائے۔