حکومت ’’امن کو ایک اور موقع ‘‘ کب تک دے گی

ایڈیٹر  |  اداریہ

  حکومتی کمیٹی نے طالبان کی کمیٹی سے ملنے سے معذرت کرلی اور کچھ وضاحتیں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
 حکومت نے امن کو آخری موقع دینے کے نام پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کیا اور ایک چار رکنی کمیٹی قائم کردی۔ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی میں اکثریتی رائے اپریشن کی حمایت میں تھی۔ قومی سطح پر بھی اپریشن کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔مذاکرات کے حامی صرف تحریک انصاف اور جے یو آئی کے دونوں دھڑے تھے۔طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش تو کی گئی لیکن سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ مذاکراتی ٹیم کا اعلان اس میں شامل لوگوں کو اعتماد میں لئے بغیر کردیا۔ عمران خان بھی کمیٹی میں شامل تھے۔انہوں نے معذرت کرلی اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رستم شاہ مہمند حکومتی کمیٹی میں شامل تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے طالبان کمیٹی سے لا تعلقی ظاہر کردی جس سے جے یو آئی ف کے رہنما مولانا کفایت اللہ طالبان کمیٹی سے  الگ ہوگئے۔ اسکے ساتھ ہی طالبان نے قاری شکیل کی سربراہی میں بھی ایک 9رکنی کمیٹی قائم کردی۔ حکومتی کمیٹی میں کوئی پارلیمنٹرین نہیں اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنیوالی کمیٹی میں کوئی طالبان نہیں ہے۔ مزید برآں طالبان نے مذاکرات اور حکومتی کمیٹی سے اپنی کمیٹی کی پہلی اور غیر رسمی ملاقات سے قبل قیدیوں کی رہائی اور نفاذ شریعت کا مطالبہ کردیا ہے۔ گویا حکومت نے امن کو جو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا‘ فریق ثانی نے اس پر غیر سنجیدہ رویہ اپنایا ہوا ہے حکومت دونوں مطالبات ماننے کی پوزیشن میں نہیں۔ طالبان اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو اپنے لوگوں پر مشتمل کمیٹی بنائیں اور پیشگی شرائط سے گریز کریں۔ حکومتی رویے سے بھی مذاکرات کو وقت گزاری کیلئے استعمال کرنے کا تاثر ملتا ہے۔ کیا حکومت قیدیوں کو رہا اور جس طرح سے طالبان شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں کردیگی؟ اگر مطالبات قابل قبول نہیں تو پھر حکومت سمجھ لے کہ امن کو جو موقع دیا گیا اسے فریق ثانی نے سبو تاژ کردیا کیا حکومت امن کو ایک اور موقع دے گی یہ سلسلہ کت تک چلے گا؟