ایران گیس پائپ لائن پاکستان کی ڈیڈلائن میں توسیع کی کوشش

ایڈیٹر  |  اداریہ

 گیس پائپ لائن منصوبے پر پاکستان ایران مذاکرات تہران میں ختم ہو گئے۔پاکستان کی طرف سے  پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید نے کی۔ پاکستان نے گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ پاکستان معاہدے کے تحت گیس پائپ لائن دسمبر 2014ء  تک مکمل کرنے کا پابند ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ڈیڈ لائن میں توسیع پر پاکستانی تجاویز کا جائزہ لیں گے۔امریکہ اور ایران کے تعلقات معمول پر آتے دیکھ کر پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے کی تکمیل کی ایک امید پیدا ہوئی تھی لیکن امریکہ نے ایران پر لگی پابندیاں ہٹانے سے انکار کیا ہے جس کے تحت پاکستان ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر عمل نہیں کر سکتا۔ اس معاہدے کی تکمیل رواں سال کے آخر تک ہونا ہے۔ ایران اپنی طرف سے پائپ لائن تعمیر کر چکا ہے۔ پاکستان کے پاس اس لائن کی تعمیر کے لئے بجٹ ہے نہ ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں امریکی پابندیوں کے باعث سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔ ایران نے تعاون کی امید دلائی تھی اب وہ بھی تعاون پر تیار نہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ تو امریکی پابندیاں ہیں۔ جن کی وجہ سے مقررہ مدت میں لائن کی عدم تعمیر پر پاکستان 30 لاکھ ڈالر روزانہ جرمانے کا مستوجب ہو گا۔ عالمی قوانین کے تحت معاہدے سے انحراف ممکن نہیں۔ امریکہ نے تاپی معاہدے پر زور دیا ہے جس کی تکمیل سات سال میں ہو گی اور اس سے پاکستان پر جرمانہ بھی ساقط نہیں ہو گا۔ پاکستانی حکام جرمانے سے بچنے کے لئے پاک ایران گیس منصوبے میں توسیع چاہتے ہیں۔ ایران ایک نئی ڈیڈ لائن کے بغیر تو شایدمزید مہلت نہ دے اور امریکہ کی طرف سے ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا فی الحال امکان نظر نہیں آتا۔ ایسے میں ایک بہتر سفارتکاری سے امریکہ کو گیس پائپ لائن معاہدے کی مخالفت ترک کرنے پر آمادہ کیا جائے۔