رضاربانی کا اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے کا پھر صائب مشورہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
رضاربانی کا اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے کا پھر صائب مشورہ

چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ ریاست کو اندرونی و بیرونی خطرات لاحق ہیں۔ جاوید ہاشمی کی کتاب ’’زندہ تاریخ‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہو گا۔ اداروں کے درمیان محاذ آرائی وفاق کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گی۔
آئین میں اداروں کا کردار متعین کردیا گیا ہے۔ آئین ہی وہ دستاویز ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے آپس میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں‘ نہ کسی کیلئے اختیار سے تجاوز کرنے کی نوبت آتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں اداروں میںکشیدگی دیکھی گئی جس نے محاذ آرائی کی شکل اختیار کی اور حالات بغاوت پربھی منتج ہوتے رہے۔ اداروں کے ایک پیج پر ہونے کی خواہش کا اظہار عموماً کیا جاتا ہے۔ اداروں کے ایک پیج پر ہونے کی بحث بے معنی ہے۔ جب آئین نے اداروں کا کردار متعین کردیا۔ اختیارات اور فرائض سے بھی آگاہ کردیا تو ایک پیج پر ہونے کا کیا سوال رہ جاتا ہے؟ پارلیمان کی سپرمیسی میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ حکومت پارلیمان کی نمائندہ ہے‘ داخلہ‘ خارجہ اور دفاعی سمیت تمام پالیسیاں بنانے کا اسے اختیار ہے۔ جو بھی اس نے پالیسی بنا دی اس پر عمل متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ملک میں ہر شعبہ کے ایکسپرٹس موجود ہیں‘ وہ حکومت کی بجا طور پر رہنمائی کرسکتے ہیں۔ اداروں کو مشاورت کا حق تو ہے‘ ڈکٹیشن کا قطعاً نہیں۔ مشاورت بھی اگر حکومت کی طرف سے مانگی جائے تو تب۔حکومت کو یقینا اپنے اختیارات اور فرائض کا علم ہے۔ اہلیت اس پر سوا ہے‘ میرٹ کا اطلاق اعلیٰ سطح پر ناگزیر ہے۔ متعلقہ وزارتوں کے ذمہ داروں کا اداروں کے ساتھ کوآرڈی نیشن پالیسیوں کی کامیابیوں کیلئے ناگزیر ہے۔ آج ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات درپیش ہیں۔کسی بھی دور سے زیادہ آج قومی سطح پر یگانگت اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے نسخہ کیمیا ء اداروں کا اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہے۔ اس صائب رائے کا اظہار رضاربانی متعدد بار کرچکے ہیں۔