کراچی، جنوبی پنجاب اور ملک کے دوسرے شہروں میں مون سون کی بارشوں کی تباہ کاریاں اور حکومتی اداروں کی بے نیازی

ایڈیٹر  |  اداریہ

کیا حکمرانوں نے 2010ءکے سیلاب کی تباہ کاریوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟


بالائی علاقوں سمیت ملک کے طول و عرض میں جاری مون سون کی شدید بارشوں سے دریاﺅں میں طغیانی پیدا ہونے کے باعث سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس وقت دریائے سندھ، کابل اور راوی میں کہیں درمیانے اور کہیں نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقامات پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا ہے جبکہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ اس وقت دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کا اخراج 3 لاکھ 20 ہزار 300 کیوسک ہے اور کالا باغ کے مقام پر بھی طغیانی کی ایسی ہی صورتحال ہے۔ دریائے راوی میں اس وقت شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاﺅ 47 ہزار 500 کیوسک ہے۔
گذشتہ دو روز سے جاری مون سون کی بارشوں سے عروس البلاد کراچی کے مکین در بدر ہو گئے ہیں۔ کراچی کے علاقے سعدی ٹاﺅن، صفورو گوٹھ، گلشن معمار، بھٹائی آباد، گلستان جوہر، لیاری، امروہہ سوسائٹی اور ناظم آباد چاروں اطرف سے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور نکاسی آب کا نظام مو¿ثر نہ ہونے کے باعث کراچی کے مزید علاقے بھی زیر آب آ سکتے ہیں جبکہ ملیر ندی میں طغیانی کے باعث کورنگی کراسنگ کا راستہ بند ہو گیا ہے۔ ملیر ندی اور لیاری ندی کا پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے جس کے باعث لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں جبکہ پانی میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کیلئے پاک فوج اور رینجرز کے دستے بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں حکومتی تنظیمیں بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ کراچی کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے اور شہر میں اب تک کرنٹ لگنے اور مکانات کی چھتیں گرنے سے 20 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مون سون کی بارشوں کے نتیجہ میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریاں جنوبی پنجاب میں بھی جاری ہیں اور راجن پور، ڈیرہ غازی خان میں لوئی برساتی نالے سے بہنے والے سیلابی ریلے نے علاقے میں تباہی مچا دی ہے ۔60 سے زیادہ کچے مکانات پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ سیلابی ریلا کلاچی بائی پاس کو تین مقامات سے توڑتا ہُوا آبادی میں گھس آیا ہے۔ اس وقت ہارون آباد کالونی میں 6 فٹ پانی جمع ہو چکا ہے جس سے پختہ مکانوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ کمشنر ڈی جی خان چودھری محمد امین کے بقول راجن پور اور ڈی جی خان میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر کے تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور تونسہ شریف میں متاثرین سیلاب کیلئے 15 ریلیف کیمپ قائم کر دئیے گئے ہیں۔ مون سون کی بارشوں نے صوبائی دارالحکومت لاہور کو بھی تالابوں، کیچڑ اور دلدل میں تبدیل کر دیا ہے جہاں آئے روز کی بارشوں سے شہریوں کیلئے وبائی امراض سمیت معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے والے متعدد مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور نشیبی علاقوں میں کھڑے پانی نے ڈینگی کو بھی پھر سر اُٹھانے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اسی طرح صوبہ خیبر پی کے اور بلوچستان بھی ان بارشوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا جبکہ متوقع سیلاب سے نوشہرہ کے پھر ڈوبنے کا خطرہ بھی لاحق ہو چکا ہے۔
ہمارے ترقیاتی اداروں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ذمہ دار انتظامی مشینری کی روایتی غفلت اور کام چوری کا اس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون کی آمد سے تقریباً دو ماہ قبل مون سون کی معمول سے زیادہ بارشوں اور مون سون کی قبل از وقت آمد کی اطلاع دیدی گئی تھی، اسی طرح فلڈ کنٹرول سنٹر کی جانب سے دریاﺅں میں طغیانی کی نشاندہی کر دی گئی مگر متعلقہ محکموں اور اداروں کے افسران اور اہلکار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے، نہ نکاسی¿ آب کے سسٹم کی چیکنگ کی گئی اور نہ ہی مو¿ثر حفاظتی انتظامات کا سوچا گیا نتیجتاً جب ملک کے مختلف شہروں میں مون سون کی بارشوں سے دریاﺅں اور ندی نالوں میں طغیانی آنے سے عوام پر افتاد ٹوٹی تو انہیں فوری ریلیف پہنچانے والا کوئی ادارہ میدان میں نظر نہ آیا جبکہ امدادی کام بروقت شروع نہ ہونے سے بھی نقصانات زیادہ ہوئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
تین سال قبل 2010ئکے سیلاب نے ملک کے تین چوتھائی حصے کو متاثر کیا تھا جس سے ہونے والے نقصانات بیرونی اور اندرونی امداد ملنے کے باوجود آج تک پورے نہیں ہو سکے بالخصوص صوبہ خیبر پی کے، اندرون سندھ، بلوچستان کے بیشتر پسماندہ علاقوں اور جنوبی پنجاب میں سیلاب نے تباہی اور قیامتِ صغریٰ کے مناظر پیش کئے، اس وقت بھی حکمران عوام کو ریلیف دینے اور حفاظتی انتظامات کرنے کے معاملہ میں بے نیاز نظر آئے اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری عوام کو سیلاب میں ڈوبا چھوڑ کر اپنے بیٹے کی گریجویشن کی تقریب میں شمولیت کیلئے نجی دورے پر برطانیہ چلے گئے جبکہ اقتدار کے ایوانوں کی سطح پر عوام کے معاملات سے بے نیازی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ کراچی عملاً سیلابی پانی میں ڈوبا ہُوا ہے مگر وزیر اعلیٰ سندھ کی کسی متاثرہ علاقے میں تو کجا، وزیر اعلیٰ ہاﺅس میں بھی کوئی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی اور ان کی کابینہ کے ایک رکن اویس مظفر ٹپی عملاً وزیر اعلیٰ بن کر بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کرتے اور الٹے سیدھے احکام جاری کرتے نظر آتے ہیں۔ حکومتی سطح کی اس دوعملی سے یقینابیورو کریسی کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے جبکہ اس دوعملی کے نتیجہ میں ہی آج کراچی کے مکین بے یارو مددگار نظر آتے ہیں۔ اگر وہاں کوئی کام ہو رہا ہے تو سیاسی محاذ آرائی میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا ہو رہا ہے، ایم کیو ایم کے قائدین سندھ حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے کراچی بارشوں کے پانی میں ڈوبا ہے ۔اس تناظر میں ایم کیو ایم کو سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کی کارکردگی کے ڈھنڈورے پیٹنے کا موقع بھی مل گیا ہے۔
یقیناً بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے بھی شہریوں کیلئے بے پناہ مسائل پیدا ہوئے ہیں جس کا موجودہ حکومت کو احساس کرنا چاہئے اور بلدیاتی انتخابات کے جلد از جلد انعقاد کی کوشش کرنی چاہئے جس کا سپریم کورٹ نے حکم بھی دے رکھا ہے تاہم یہ جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ زیادہ بارشوں اور سیلاب کی پیشگی اطلاع ہونے کے باوجود متعلقہ محکموں اور ترقیاتی اداروں نے شہریوں کو جانی اور مالی نقصان سے بچانے کیلئے کیوں حفاظتی اقدامات نہ کئے اور انہیں قدرتی آفات کے تھپیڑوں کے آگے بے یارو مددگار چھوڑ دیا جبکہ اس وقت بھی متعلقہ انتظامی مشینری حرکت میں آتی نظر نہیں آ رہی۔ اب تک ملک کے مختلف علاقوں میں تسلسل کے ساتھ ہونے والی بارشوں سے ایک سو کے لگ بھگ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ مالی نقصان کا تخمینہ لگانا فی الوقت مشکل ہے۔ اگر دریاﺅں میں جاری طغےانی سے سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو عوام کو یقیناً 2010ءوالے سیلاب جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا جو ہمارے حکمران طبقات کیلئے باعثِ شرم ہے کہ انہوں نے تین سال پہلے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور عوام کو اب بھی اسی طرح بے یارو مددگار چھوڑا جا رہا ہے، کیا یہ مہذب معاشرے کا چلن ہے کہ قدرتی آفات کی زد میں آئے عوام کو کسی قسم کا ریلیف ہی فراہم نہ کیا جائے اور انکی امداد کیلئے اندرونِ اور بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والے عطیات کی بندر بانٹ کر لی جائے، حکمرانوں کا یہی طرزِ عمل عوام کو سسٹم سے بدگمان کرتا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے اور ملک میں ٹوٹنے والی افتاد کے پیش نظر اپنا دورہ¿ سعودی عرب مختصر کر کے ملک واپس آ جانا چاہئے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے سے بڑی عبادت اور کوئی نہیں ہو سکتی، وہ ملک میں بیٹھ کر حفاظتی اقدامات کی خود نگرانی کریں گے تو متعلقہ انتظامی مشینری بھی متحرک رہے گی ورنہ آنے والے دنوں میں سیلاب کے نقصانات کا جو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے وہ حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔