عالمی برادری بھارتی جنگی جنون کا نوٹس لے

ایڈیٹر  |  اداریہ

بھارتی وزیر دفاع کی صدارت میں بھارتی عسکری قیادت نے پاکستان سے ملحقہ کنٹرول لائن اور چین سے ملحقہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر دفاعی تیاریاں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت اس خطے کی سُپر پاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے اسی بنا پر وہ اسلحے کے ڈھیر لگا رہا ہے۔ سویڈن کی ایک تھنک ٹینک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت ایشیا میں سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والا ملک ہے صرف 2006ءسے 2010ءتک بین الاقوامی سطح پر ہونے والے اسلحے کے مجموعی کاروبار میں سے نو فیصد دفاعی ساز و سامان صرف بھارت نے خریدا اور بیاسی فیصد حصے کے ساتھ روس اس کا سب سے بڑا سپلائر رہا۔ بھارت کے ستر فیصد سے زیادہ آرڈر جنگی طیاروں کے ہیں۔ بھارت نے یہ اسلحے کے ڈھیر کس لئے لگائے ہیں۔ بھارتی وزیر دفاع کے زیر صدارت اجلاس میں جنگی تیاریاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بھارت خطے میں امن کا خواہاں نہیں ہے۔ کشمیر کنٹرول لائن اور چینی سرحد پر دفاعی تیاریوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔چین اور پاکستان کو بھارت کے جنگی جنون کو دیکھ کر دفاعی پوزیشن مضبوط کرنی چاہئے اور بھارت کی ایسی جنگی تیاریوں کا انہیں جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔