کالعدم تحریک طالبان کی مذاکرات سے پہلے ڈرون حملے بند کرانے کی شرط

ایڈیٹر  |  اداریہ

ڈرون حملے بند کراسکتے تو کراچکے ہوتے‘ طالبان کی نصیحت کے منتظر نہیں
کالعدم تحریک طالبان نے حکومت سے مذاکرات کیلئے ڈرون حملے بند کرانے کی شرط پیش کردی ہے۔ اس سلسلہ میں تحریک طالبان کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیزفائر میں امریکی ڈرون حملوں کی بندش کو بھی شامل کیا جانا چاہیے‘ صرف سکیورٹی فورسز کی طرف سے کارروائیاں بند کرنا کافی نہیں۔ اگر ڈرون حملے جاری رہے تو ہم جنگ بندی قبول نہیں کرینگے۔ ترجمان تحریک طالبان کے بقول حکومت مذاکرات کے عمل کو فی الواقع آگے بڑھانا چاہتی ہے تو اس کو سنجیدہ اقدامات اٹھانا ہونگے۔ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت حکومت کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے غور کر رہی ہے تاہم حکومت کی طرف سے خاطرخواہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اس قسم کا ماحول پیدا کرنے کیلئے مزید کئی ماہ درکار ہونگے۔ دوسری جانب وفاق المدارس العربیہ کے سیکرٹری جنرل حنیف جالندھری نے بتایا ہے کہ مقامی طالبان کی جانب سے جنگ بندی پر آمادگی کے اظہار پر علماء کا ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے تاکہ حکومت کی طرف سے بھی مثبت ردعمل کی صورت میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ گزشتہ روز امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ حکومت نے انہیں شدت پسندوں کے ساتھ رابطے کا مینڈیٹ دیا ہے تاہم علماء کی کوشش ہے کہ جنگ بندی کا معاملہ جلد سے جلد طے ہو تاکہ حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا آغاز ہو سکے۔ 
جب کسی مسلح تنظیم‘ گروپ یا فرد واحد کی جانب سے اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت حکومتی‘ ریاستی اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہوئے بندوق کے زور پر اپنی بات منوانے کی روش اختیار کی جائے تو اسکے ساتھ کسی قسم کی نرمی یا رعایت حکومتی رٹ کی کمزوری کے زمرے میں آئیگی جبکہ اس سے ہر ایک کو موقع ملے گا کہ وہ بندوق اٹھا کر حکومتی انتظامی مشینری سے جو چاہے منوالے۔ اس تناظر میں دہشت گردی میں ملوث عناصر یا کسی گروپ کے ساتھ امن مذاکرات کا ڈول ڈالنا ریاستی اتھارٹی کو اسکے سامنے سرنڈر کرانے کے مترادف ہو گا۔ طالبان کے مختلف گروپوں نے گزشتہ کم و بیش دس سال سے اپنی دہشت گردی‘ تخریبی وارداتوں اور خودکش حملوں کے ذریعے ملک میں دہشت و وحشت کی فضا بنا رکھی ہے‘ جس میں سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں سمیت ملک کے چالیس ہزار سے زائد شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں‘ سرکاری اور نجی املاک بھی تباہ ہوئی ہیں اور اربوں روپے کے نقصان سے ملکی معیشت بھی تباہی کے دہانے تک جا پہنچی ہے جس سے بیرون ملک بھی پاکستان کا تشخص خراب ہوا ہے۔ اسکے پیش نظر یہ دہشت گرد عناصر کسی حکومتی رعایت یا ہمدردی کے مستحق نہیں اور ملک کی عسکری قیادتیں بھی اسی تناظر میں دہشت گردی کے خاتمہ کو اپنی جنگ قرار دے کر اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے یکسو ہیں تاہم موجودہ حکومت نے دہشت گردی سے ملک و قوم کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کے باوجود طالبان کے ساتھ نرم گوشہ رکھتے ہوئے ان کیخلاف جنگ کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے آپشن کو بھی نظرانداز نہیں ہونے دیا جبکہ حکومت کے زیر انتظام سیاسی دینی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بھی اس مقصد کے تحت ہی طلب کی گئی جس کے مشترکہ اعلامیہ میں حکومت کی منشاء کے عین مطابق طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی گئی اور اس کیلئے کوئی شرط بھی عائد نہ کی گئی۔ 
حکومت کی اس نرم دلی کے باوجود طالبان اپنے ایجنڈے کے عین مطابق دہشت گردی کی کارروائیوں اور خودکش حملوں میں مصروف رہے اور بالخصوص ملک کی سکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کیا جانے لگا۔ اپردیر میں دہشت گردی کی واردات میں ایک میجر جنرل اور لیفٹیننٹ کرنل کی شہادت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قیام امن کے تصور کو باطل قرار دے دیا جبکہ دہشت گردی کی وارداتوں میں شدت پیدا کرکے اور پھر ان وارداتوں کی ذمہ داری قبول کرکے طالبان کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ انہیں حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول نہیں۔ پھر طالبان کی جانب سے مذاکرات کیلئے شرائط کا سلسلہ شروع ہو گیا جن میں دہشت گردی کی وارداتوں کے مرتکب خطرناک ملزموں کی رہائی اور پورے ملک میں شریعت کے نفاذ کے مطالبات بھی شامل تھے۔ حد تو یہ ہے کہ ان عناصر کی جانب سے شرائط بھی پیش کی جاتی رہیں اور ساتھ ہی ساتھ دہشت گردی کی وارداتیں بھی بڑھا دی گئیں۔ پشاور میں یکے بعد دیگرے ایک گرجا گھر‘ سرکاری ملازمین کی بس اور قصہ خوانی بازار میں سفاکانہ دہشت گردی کے ذریعے ڈیڑھ سو سے زائد بے گناہ انسانوں کی زندگیاں ختم کی گئیں جبکہ کم و بیش اتنے ہی افراد شدید زخمی ہو کر اپنے خاندانوں پر بوجھ بنے‘ چنانچہ وزیراعظم میاں نوازشریف کی سوچ میں بھی واضح تبدیلی پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنے دورۂ امریکہ کے موقع پر دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ طالبان کو ہتھیار ڈال کر حکومتی اتھارٹی اور ملک کے آئین کو تسلیم کرنا ہوگا۔ حتٰی کہ طالبان سے مذاکرات کے حامی عمران خان کی سوچ کا دھارا بھی تبدیل ہوا اور پشاور کی پے درپے وارداتوں کے بعد انہوں نے واضح اعلان کیا کہ طالبان آئین کو تسلیم نہیں کرینگے تو ان کیخلاف اپریشن ضروری ہو جائیگا۔ 
اس صورتحال کے باوجود حکومتی صفوں میں موجود بعض حلقوں کی جانب سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے کر یہ باور کرایا جانے لگا کہ طالبان سے مذاکرات کے بجائے ان کیخلاف اپریشن کا اقدام اٹھانا ہے تو اس کیلئے حکومت کو ایک نئی اے پی سی بلانا پڑیگی۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید تو اس معاملہ میں آج بھی پرامید نظر آتے ہیں جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کو ہی قیام امن کیلئے امرت دھارا سمجھ رہے ہیں۔ انکے تازہ ارشادات کے مطابق طالبان کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ میڈیا پر آنے کے باعث خراب ہو رہا ہے اس لئے تحریک طالبان کے ساتھ خفیہ طور پر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ انکی یہ سوچ انکی اپنی دانست میں درست ہو سکتی ہے مگر یہ قومی سوچ سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ دہشت گردی کی وارداتوں میں قوم کو جتنے صدمے اور جتنے جنازے اٹھانا پڑے ہیں‘ اسکے پیش نظر وہ دہشت گردی کے ہر صورت خاتمہ کی خواہاں ہے جبکہ اس معاملہ میں عسکری قیادتوں کی سوچ قومی سوچ سے ہم آہنگ ہے۔ 
اب تحریک طالبان کی جانب سے مذاکرات سے پہلے ڈرون حملے بند کرانے کا تقاضا سامنے لایا گیا ہے جس کی جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے بھی تائید کی ہے جبکہ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن بھی اب ہر صورت حکومت طالبان مذاکرات کے خواہش مند نظر آتے ہیں مگر یہ تقاضا بادی النظر میں مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھانے کے مترادف نظر آتا ہے کیونکہ امریکہ نے تو اپنے مفادات کے مطابق ڈرون حملے ہر صورت جاری رکھنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس کیلئے اس نے دنیا بھر سے آنیوالے دبائو کو بھی قبول نہیں کیا۔ یو این سیکرٹری جنرل کی تشویش کو بھی درخوراعتنا نہیں سمجھا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کی قراردادوں اور ڈرون حملوں کیخلاف سخت عوامی ردعمل کو بھی پرکاہ کی حیثیت نہیں دی اور ڈرون حملے اس وقت بھی جاری رکھے جب وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف یو این جنرل اسمبلی سے خطاب کیلئے نیویارک میں موجود تھے۔ 
جب حکومت کو خود ڈرون حملوں پر سخت تشویش ہے اور اسکی جانب سے ہر ڈرون حملے پر سخت احتجاج بھی کیا جاتا ہے‘ اسکے باوجود امریکہ ڈرون حملے بند کرنے کی بات ماننے پرآمادہ نہیں ہو رہا تو طالبان کی جانب سے ڈرون حملوں کی بندش کو مذاکرات کے ساتھ مشروط کرنا ایک تو اسکی جانب سے حکومت کو اسکی بے بسی کا احساس دلانے کے مترادف ہے اور دوسری جانب اس امر کا غماز ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں قطعاً سنجیدہ نہیں ہیں۔ 
اس صورتحال میں اب امریکہ کو ہی احساس کرنا ہو گا کہ وہ ڈرون حملے بند کرکے مذاکرات کیلئے طالبان کا پیش کردہ عذر ختم کر دے جس کے بعد طالبان کے پاس مذاکرات سے فرار کا کوئی راستہ نہیں رہے گا‘ بصورت دیگر حکومت ان کیخلاف قطعی اور ٹھوس اپریشن میں حق بجانب ہو گی۔ اگر امریکہ نیٹو افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد علاقائی امن و استحکام کا خواہاں ہے تو اسے ڈرون حملے بند کرکے خود ہی قیام امن کی راہ ہموار کرنی چاہیے کیونکہ ان ڈرون حملوں کی وجہ سے ہی جہاں بے گناہ انسانوں کا خون ناحق بہہ رہا ہے‘ وہیں قیام امن کے راستے بھی مسدود ہو رہے ہیں۔ طالبان خود اندازہ لگالیں‘ امریکہ کو حملے جاری رکھنے میں فائدہ ہے یا بند کرنے میں؟ وہ ایٹمی پاکستان کو مضبوط مستحکم چاہتا ہے یا کمزور؟ طالبان بھائی وہ کام کریں جس سے پاکستان ایٹمی رہے اور مضبوط!