نئے قرضوں کی بجائے خرچے کم کریں

ایڈیٹر  |  اداریہ

 نئے قرضے لینے کی روایت تبدیل نہیں ہوگی۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کی وفاقی حکومت رواں سال میں کثیر القومی دو طرفہ اور ڈونرز سے رواں مالی سال 2013-14 کے دوران ادائیگی کے توازن اور بجٹ سپورٹ کیلئے 8.33 ملین ڈالر کے قرضے حاصل کرے گی۔
 سابق حکومت نے قرض پر قرض لیکر عوام کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا رکھا تھا۔ موجودہ حکومت سے توقع تھی کہ وہ خود انحصاری کی طرف آئے گی اور اپنے اللوں تللوں پر قابو پا کر عوام کو قرضوں سے چھٹکارا دلوائے گی لیکن موجودہ حکومت عوامی امنگوںپر پورا اترتی نظر نہیں آرہی۔ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرکے قرضوں کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرناچاہئے اور اپنی چادر دیکھ کر پائوںپھیلانے چاہئیں۔ حکومت پہلے تو صرف آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضے لیتی تھی لیکن اب اس نے عالمی بنک اسلامی اور اسلامی ترقیاتی بنک کی طرف بھی قرضے کیلئے کشکول پھیلا دیا ہے۔حکومت اپنے اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کرکے  پرانے قرضوں کی ادائیگی کرے اور نئے مالی سال کے بجٹ کیلئے بھی بیرونی قرضوں پر تکیہ نہ کرے اور ٹیکس ادا کرنے کے قابل افراد کو ٹیکس نیٹ میں لائے۔ جب سرمایہ دار طبقہ ٹیکس دینا شروع کردیگا تو ہمارا بیرونی قرضوں پر انحصار بھی ختم ہو جائیگا۔