بجلی،تیل کی قیمتوں کیخلاف مظاہروں میں شدت

ایڈیٹر  |  اداریہ

بجلی و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف تیسرے روز بھی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ تحریک انصاف، جماعت اسلامی، بھٹو شہید ورکرز موومنٹ، شباب ملی، تاجر تنظیموں اور گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے مظاہرے کئے۔ آج سے جماعت اسلامی نے تین روزہ احتجاجی مہم کا اعلان کیا ہے۔ 
بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عذاب پوری طرح ٹلا نہیں ہے کہ ایک بار پھر اس کے نرخوں میں ناقابل برداشت حد تک یکمشت اضافہ کردیا گیا۔ اس پر عوام بلبلائے تو سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ غریب کو نہ ماریں‘ بجلی مہنگی کرنے کے نوٹیفکیشن میں قانونی تقاضے پورے نہیں ہوئے‘ اگلے روز حکومت کو نوٹیفکیشن واپس لینے کو کہا گیا۔ حکومت بڑی آسانی سے نیپرا سے منظوری لے کر قانونی تقاضے پورے کردیگی‘ اس سے عوام کو کیا فائدہ ہو گا؟ تیل کی قیمت عالمی منڈی میں کم ہو رہی ہے جبکہ ہمارے ہاں بڑھادی گئی جس سے عوام میں بڑی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ بھارت میں کمی ضرور ہوئی ہے‘ اسکے باوجود بھی ہمارے ہاں بھارت کے مقابلے میں تیل کی قیمتیں کم ہیں۔ بہرحال ہمارے ہاں بھی طے شدہ اصول کے مطابق عالمی منڈی کے مطابق قیمتیں کم ہونی چاہئیں۔ گو کہ منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی و بیشی روز کا معمول ہے‘ اس لئے حکومت کو فوری ریلیف میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی سیاسی جماعتیں عوام کو سڑکوں پر لا رہی ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ عوامی احتجاج اور مظاہروں میں شدت بڑھ رہی ہے۔اس لئے حکومت کی طرف سے عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف ضرور دینا چاہیے۔