پاکستان میں پولیو کی صورتحال پرعالمی ادارہ صحت کی تشویش

ایڈیٹر  |  اداریہ
پاکستان میں پولیو کی صورتحال  پرعالمی ادارہ صحت کی تشویش

عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں پولیو کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسداد پولیو سے متعلق عالمی اداروں کا ابوظہبی میں اجلاس ہوا۔ جس میں پاکستان پر سفری پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی بغیر پولیو سرٹیفکیٹ کے بیرون ممالک سفر نہیں کر سکتے۔
عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے جون 2014ء میں پاکستانیوں کے لئے بیرون ممالک سفر کرنے پر پولیو ویکسینیشن کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا تھا اور ساتھ ہی پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے پولیو کے خاتمے کے لئے اقدامات نہ کئے تو پھر سفری پابندی بھی عائد ہو سکتی ہے۔ لیکن پاکستانی حکومت نے اس وارننگ کو سنجیدہ لیا اور نہ ہی پولیو کے خلاف خاطر خواہ کوئی اقدامات نہیں کئے۔ گزشتہ روز ابوظہبی میں ہونے والے عالمی ادارہ صحت کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر مملکت افضل تارڑ نے کی تھی وہ بھی قوم کو بتائیں انہوں نے اس پابندی سے بچنے کے لئے وہاں کیا موقف اختیار کیا۔ اس اجلاس میں ان کا موقف کیا تھا۔ پولیو قطرے پلانے کی وہ ذمہ دار ہیں وہ بتائیں اس عرصے میں یہ موذی مرض پر کتنا قابو پایا گیا ہے؟ آج بھی پولیو قطرے پلانے والے اہلکاروں کی حفاظت کے لئے کوئی سکیورٹی انتظام نہیں کئے جاتے ایئرپورٹس پر بھی قطرے پلانے کا کوئی بہتر انتظام موجود نہیں ہے۔ خیبرپی کے میں صحت کا پروگرام حکومت اور اپوزیشن نے مل کر شروع کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود پولیو کے زیادہ کیسز ابھی تک وہیں سے سامنے آ رہے ہیں پشاور میں پینے کا پانی اس قدر آلودہ اور جراثیم سے بھرا ہوا ہے کہ وہاں پر مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ سکیورٹی نہ ہونے کے باعث بلوچستان اور سندھ میں بھی پولیو کے قطرے پلانے کے لئے کوئی ورکر تیار نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جب پہلی مرتبہ وارننگ ملی تو حکومت کو تب بھی جنگی بنیادوں پر اس موذی مرض کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہئے تھا۔ حکومت مساجد کے علما کرام کو اس بات پر قائل کر ے کہ وہ پولیو قطرے پلوانے کے فوائد سے عوام الناس کو آگاہ کریں۔ اور آنے والی نسل کو معذور ہونے سے بچائیں۔ لیکن حکومت نے اس جانب بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ پاکستان ان تین ملکوں کی صف میں ہے۔ جو ابھی تک اس موذی مرض پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ حکومت کو اس سلسلے میں موثراقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ہمارے شہری بیرون ممالک سفر پر پابندی سے بچ سکیں