فاٹا اورکراچی میں آپریشن میں 50 دہشتگرد ہلاک، پنجاب سے دہشتگردوں کے0 80 سہولت کار گرفتار----- دہشتگردوں کے سہولت کاروں پر ہاتھ ڈالنے میں مصلحت آڑے نہیں آنی چاہیے

ایڈیٹر  |  اداریہ
 فاٹا اورکراچی میں آپریشن میں 50 دہشتگرد ہلاک، پنجاب سے دہشتگردوں کے0 80 سہولت کار گرفتار----- دہشتگردوں کے سہولت کاروں پر ہاتھ ڈالنے میں مصلحت آڑے نہیں آنی چاہیے

فوج کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فضائی حملوں میں 44 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں فضائی کارروائی میں سولہ غیر ملکی دہشت گرد مارے گئے جبکہ خیبر ایجنسی ‘وادی تیراہ میں جیٹ طیاروں کی بمباری میں 28 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سکیورٹی فورسز کے مطابق تحصیل باڑہ کے بیشتر علاقے شدت پسندوں کے قبضہ سے واگزار کرا لئے گئے ہیں اور پاک فوج نے ان علاقوں میں پاکستانی پرچم لہرا دیا ہے۔دریں اثناء چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے خیبر ایجنسی میں تیراہ کے مقام پر شہید ہونیوالے پاک فوج کے کیپٹن قاسم کی نمازجنازہ میں شرکت کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کیاکہ چاہے ہمیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے پاک سرزمین سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔
ضرب عضب کا دائرہ شمالی وزیرستان سے قریبی شورش زدہ علاقوں سے ہوتا ہوا پورے ملک میں ان علاقوں تک پھیل چکا ہے جہاں دہشتگرد پہلے موجود تھے یا فرار ہو کر پہنچے ہیں۔ اب تک ضرب عضب میں 12 سو دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔ ان کا کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسلحہ ساز فیکٹریاں اور اسلحہ کے گودام بھی اڑا کے رکھ دیئے گئے ہیں۔ شکست خوردہ دہشتگرد راہ فرار اختیار کر رہے ہیں تاہم ان کو جہاں موقع ملتا ہے دہشتگردی سے گریز نہیں کرتے۔ گو ان کی کارروائیوں میں پہلے جیسی شدت اور نظم و ضبط نہیںہے۔ گزشتہ روز کراچی میں متحدہ کے خلاف دھواں دار پریس کانفرنس کرنیوالے ایس ایس پی رائو انوار پر دہشتگردوںنے دستی بم حملہ کیا۔ مقابلے میں مارے جانیوالے پانچ دہشتگردوں میں سے ایک اپنے حلیے سے کالعدم تحریک طالبان کا کارندہ لگتا ہے۔ ایک روز قبل ایس ایس پی رائو انوار کے ساتھی ڈی ایس پی عبدالفتح محمد کو ڈرائیور اور گن مین سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔ اسی روز جب رائو انوار پر حملہ ہوا رات گئے بلدیہ ٹائون کے علاقے میں انسداد دہشتگردی سیل کی کارروائی اور مقابلے کے دوران کالعدم تحریک طالبان سواتی گروپ کے 4 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ ان کے قبضے سے اسلحہ خودکش جیکٹس اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔
پاک فوج کی ضرب عضب آپریشن میں قربانیاں اور کامیابیاں مثالی ہیں۔ آرمی چیف آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ حکومت اور قوم دہشتگردوں کے خاتمے میں پاک فوج کے ساتھ ہے۔ اس جنگ کا منطقی انجام دہشتگردوں کا اور دہشتگردی کا جڑوں سے خاتمہ ہے۔ اس کاز کے لئے حکومت، قوم اور فوج کو سیسہ پلائی دیوار بننا ہو گا اور کسی طرف سے بھی مصلحت آڑے نہیں آنی چاہیے۔ بلاشبہ یہ جنگ صبر آزما ہے۔ گزشتہ روز کے آپریشن میںمارے جانیوالے 48 دہشتگردوں میں 16 غیر ملکی تھے۔ کراچی جیسے علاقوں میں دہشتگردی کرنیوالوں میں بھی غیر ملکی ملوث تھے۔ پولیس، سکیورٹی اداروں اور عام آدمی کی نظر سے کوئی بھی غیر ملکی کیسے اوجھل رہ سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں غیر ملکی دہشتگردوں کی پناہ میں ہو سکتے ہیں۔ شمالی وزیرستان سے اسلام آباد اور پھر کراچی تک یہ غیرملکی سلمانی ٹوپی پہن کر تو نہیںجاتے۔ ان کو دہشتگردوں کے گڑھ جواب پہلے کی طرح ان کے لئے محفوظ نہیں رہے، ان سے نکلتے ہی ان کی نشاندہی ہو جانی چاہئیے۔
دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔اس میں ضرب عضب میں مصروف فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار اہم ہے تاہم دہشتگردوں کا سوات سے کراچی پہنچ جانا ایجنسیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ ان کو اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہو گا۔
دہشتگردوں کے خاتمے کی جنگ بڑی پیچیدہ ہے۔ دہشتگردوں کے گڑھ ختم ہو رہے ہیں تاہم پورے ملک میں ان کے سہولت کار اور حامی دم توڑتی دہشتگردی کے لئے آکسیجن کی فراہمی کا کام کر رہے ہیں۔ سہولت کاروں کے بغیر دہشتگرد اپنی پناہ گاہوں سے نکل سکتے ہیں نہ کارروائیاں کر سکتے ہیں،اس حوالے سے حکومت اگر مصلحتوں کا شکار نہیں تو اس سنجیدگی کا فقدان ضرور ہے جو اس کاز کی متقاضی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبہ پنجاب سے 800 سے زائد ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر صوبے میں مختلف کالعدم تنظیموں کے ’سہولت کار‘ ہیں۔ انکے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبے میں ایسے 1300 افراد کی نشاندہی کی ہے جو مختلف کالعدم تنظیموں کے ’سہولت کار‘ ہیں اور ان کی گرفتاری کیلئے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں سے زیادہ کا تعلق جنوبی پنجاب کے علاقوں سے ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جو رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوائی گئی ہے اس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ صوبے سے کالعدم جماعتوں کی تیسری یا چوتھی سطح کی لیڈرشپ سے تعلق رکھنے والے 40 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
مگر ان سینکڑوں لوگوں میں ایک بھی اہم اور معروف شخصیت نہیں ہے۔ رپورٹ میں تیسری اور چوتھی سطح کی لیڈر شپ کی گرفتاری کی بات کی گئی ہے۔ پہلی اور دوسری سطح کی قیادت پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جا رہا؟ طالبان کے ساتھ حکومتی مذاکرات کے دوران مذاکرات سے قبل اور بعد ان کے حامی بے نقاب ہو گئے تھے ان میں کچھ پارلیمنٹ کا حصہ رہے اور کوئی اب بھی پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہر مصلحت دبائو اور سیاسی مفاد سے بالاتر ہو کر ہی جیتی جا سکتی ہے۔
ضرب عضب آپریشن کو شروع ہوئے ایک سال ہونے کو ہے فوج کا فوکس شمالی وزیرستان پر ہے۔ فوج کی قربانیوں اور کامیابیوں کی ایک داستان رقم ہو رہی ہے تاہم شمالی وزیرستان کو مکمل طور پر دہشتگردوں سے پاک نہیں کیا جا سکا۔ باڑہ میں پاک فوج نے دہشتگردوں سے خالی کرائے گئے علاقوں پر قومی پرچم لہرا دیا۔ پاکستان کے چپے چپے پر قومی پرچم سایہ فگن ہونا چاہیے۔ جس کے لئے پاک فوج کوشاں ہے۔ فوج کے لئے یہ کام ہر پاکستانی کے مکمل تعاون سے آسان ہو سکتا ہے۔ پاکستانیوں کی طرف سے دہشتگردوں ان کے حامیوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی اور اس پر حکومت کا فوری اور مصلحتوں سے بالا ہو کر ایکشن حالات اور وقت کا ہم ترین تقاضا ہے۔