الطاف کے بیان پر بلوچستان اسمبلی کی قرارداد اور وزیر اعظم کا نیم دلانہ بیان

ایڈیٹر  |  اداریہ
الطاف کے بیان پر بلوچستان اسمبلی کی  قرارداد اور وزیر اعظم کا نیم دلانہ بیان

الطاف حسین کے خلاف سخت کارروائی‘ متحدہ پر پابندی لگائی جائے: بلوچستان اسمبلی۔ انٹرپول کے ذریعے لاکر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے: سرفراز بگٹی۔ سربراہ ایم کیو ایم کی معذرت بہتر اقدام ہے۔ فوج کی ساکھ کا خیال رکھنا حکومتی ذمہ داری ہے۔ غیر محتاط بیانات سے قومی اداروں کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ وزیراعظم۔ ایم کیو ایم میں کچھ شرپسند موجود ہیں۔ فاروق ستار۔
فوج کے حوالے سے الطاف حسین کے بیان پر ابھی عوامی غم و غصہ کم نہیں ہوا تھا کہ عوامی نمائندوں نے بھی اس حوالے سے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کھل کر ایم کیو ایم پر پابندی اور الطاف حسین کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کی بات کی ہے‘ اس کی پوری اسمبلی نے تائید کی ہے۔ سندھ اسمبلی میں بھی ایسی ہی مذمتی قرار داد لانے کیلئے مشاورت جاری ہے۔ سرحد اسمبلی کے ارکان اور وزیراعلیٰ نے بھی اس قسم کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ خود فوج نے بھی ایسے بیانات پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے تو تب کہیں جا کر وزیراعظم نے اس بیان کی مذمت کی مگر ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ الطاف کی معذرت بہتر اقدام ہے۔ فوج کی ساکھ کا خیال رکھنا حکومتی ذمہ داری ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو الطاف حسین کے اس بیان کے فوری بعد وزیراعظم یا کسی حکومتی وزیر نے‘ ادارے نے اس کا منہ توڑ جواب کیوں نہیں دیا یہ خاموش کیوں رہے جب سب طرف سے احتجاج ہوا‘ الطاف حسین نے معافی مانگ لی تو تب جا کر وزیراعظم نے بیان پہ افسوس کا اور معافی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اگر حکومت ہی اپنے اداروں کی عزت و حرمت کا خیال نہیں رکھے گی تو اور کون رکھے گا۔ اب فاروق ستار صاحب کا یہ کہنا کہ ایم کیو ایم میں شرپسند موجود ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ ان کو نکال باہر کریں اور اپنی پارٹی کی بدنامی کا باعث بننے والوں سے جان چھڑائیں۔ کراچی میں رینجرز نہایت جانفشانی سے حالات کو بہتر بنانے میں مصروف ہے۔ انہیں کھل کر اپنا کام کرنے دیا جائے اور رینجرز سمیت تمام سکیورٹی اداروں کا فرض ہے کہ وہ بلا امتیاز ان تمام سیاسی و غیر سیاسی جرائم پیشہ افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے جنہوں نے کراچی کا سکون غارت کر رکھا ہے ۔موجودہ حالات میں کسی کو بھی بلاجواز ان قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے ان کا مورال ڈائون کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس پہ کوئی کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔