کوئٹہ اے پی سی میں راہداری کیخلاف سازشیں ناکام بنانے کا عزم‘ سرتاج عزیز اور نثار کا بھارت کو منہ توڑ جواب----- وزیراعظم بھی بھارتی اشتعال انگیزی پر محض اظہار افسوس نہیں‘ دوٹوک مؤقف اختیار کریں

ایڈیٹر  |  اداریہ
کوئٹہ اے پی سی میں راہداری کیخلاف سازشیں ناکام بنانے کا عزم‘ سرتاج عزیز اور نثار کا بھارت کو منہ توڑ جواب----- وزیراعظم بھی بھارتی اشتعال انگیزی پر محض اظہار افسوس نہیں‘ دوٹوک مؤقف اختیار کریں

وزیراعظم میاں نوازشریف کی زیر صدارت کوئٹہ میں ہونیوالی آل پارٹیز کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں اور بیرونی سازشوں کو ہرقیمت پر ناکام بنایا جائیگا، گوادر کاشغر اقتصادی راہداری پاکستان دشمنوں کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے اور وہ اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ دشمن کی سازشوں کو متحد ہو کر ناکام بنایا جائیگا۔ وزیراعظم نے اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بھارت کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان نے بھارت کے خطے میں اپنی حاکمیت قائم کرنے کے ارادوں کو آشکار کر دیا۔ چین کے تعاون سے بننے والے اقتصادی راہداری منصوبے پر بھارت کے اعتراضات کو رد کرنے پر پاکستان کے وزیر اعظم نے چین کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دشمن پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ اچھے دنوں کی واپسی کی کوشش میں سیاسی اور فوجی لوگ سب شامل ہیں۔ دریں اثناء وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان میں تخریب کاری کرانے والا بھارت، پا ک چین معاشی کاریڈور میں مداخلت نہ کرے۔وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر تنقید اور مخالفت سے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے کھل کر سامنے آ گیا۔ ہماری امن کی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر قوم ایک صفحہ پر ہے اور اس منصوبے کی تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائیگا اور دشمن کی کسی ناپاک سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی اچھے دنوں کی واپسی کی خواہش کی برآوری کیلئے پوری قوم انکے ساتھ ہے تاہم اچھے دنوں کی واپسی کی کوشش حکومتی سطح پر ہی ہو سکتی ہے۔ اچھے دنوں کی واپسی کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ اس میں دہشت گردی کی کارروائیاں جس میں اندرونی عوامل کے ساتھ بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہے‘ فرقہ واریت‘ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی غیرملکی آقائوں کے اشارے پر سرگرمیاں‘ اندرونی خلفشار‘ اس میں کراچی جیسے عروس البلاد میں بیرونی طاقتیں بھی ملوث ہیں۔ کراچی کے حالات کو بگاڑنے میں ’’را‘‘ کی مداخلت کی بات کی جاتی ہے۔ گزشتہ روز حساس اداروں کے چھاپے میں پانچ بھارتی باشندے گرفتار کئے گئے۔ یہ غیرقانونی طور پر کراچی میں قیام پذیر تھے‘ ان میں ایک ’’را‘‘ کا ایجنٹ بھی شامل ہے۔ ملک میں لاقانونیت اور عام آدمی کی بے چینی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جس کی بڑی وجہ حکومتی سطح پر مِس مینجمنٹ ہے جو بیڈگورننس کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
بلاشبہ اس وقت حکومت کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے‘ جن کا مقابلہ بروقت فیصلوں‘ بغیر کسی مصلحت‘ مفادات اور دبائو سے کیا جا سکتا ہے۔ تبھی اچھے دنوں کی واپسی کی خواہش پوری ہو سکتی ہے۔ دہشت گردی سے بڑا ناسور کوئی اور نہیں ہے۔ پاک فوج نے اس کیخلاف اپریشن ضرب عضب شروع کیا۔ حکومت نے مالی اور قانونی حوالے سے فوج کی مکمل سپورٹ کی مگر کہیں کہیں مصلحتیں بھی نظر آرہی ہیں۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے بھارت کا نام لے کر کہا گیا ہے کہ وہ اپریشن ضرب عضب کو ناکام بنانے کیلئے دہشت گردوں کی مدد کررہا ہے۔ اسکے بعد سیاسی حکومت کو ایکشن میں آنا چاہیے تھا مگر برائے نام بیان بازی ہی سننے میں آئی۔ اعلیٰ مقتدر شخصیات پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے حوالے سے بھارت کا نام لینے سے گریز کرتی ہیں۔
بھارت نے چینی صدر کے دورہ پاکستان کے ساتھ ہی راہداری کی مخالفت شروع کر دی تھی۔ چینی سفیر کو دہلی وزارت خارجہ میں بلا کر احتجاج کیا گیا۔ دورہ چین کے دوران وزیراعظم مودی نے چینی قیادت سے ملاقات کے دوران مبینہ طور پر اقتصادی راہداری کو ناقابل قبول قرار دیا اور ساتھ ہی بھارتی وزراء کی پاکستان کیخلاف زہر افشانی شروع ہوگئی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
کاشغر گوادر راہداری کیخلاف پاکستان کے اندر سے بھی آوازیں اٹھی تھیں۔ حکومت کو مخالفت کرنیوالوں کے تحفظات دور کرنے کیلئے دو اے پی سی بلانا پڑیں۔ بلوچستان میں اقتصادی راہداری کے روٹ کی مبینہ تبدیلی کیخلاف مظاہرے ہوئے‘ حکومت کی طرف سے دوسری اے پی سی میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور ہوئے اور وہ اسکی تکمیل کیلئے حکومت کے شانہ بشانہ ہوگئیں۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے بھی راہداری کیخلاف سازشوں کو ناکام بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اب قومی سطح پر یہ اطمینان پایا جاتا ہے کہ اقتصادی راہداری کی اندرونی سطح پر مخالفت نہیں ہو رہی۔ ایسا اتفاق رائے پیدا کرنے پر حکومت کی کوششیں لائق تحسین ہیں مگر راہداری کی تعمیر اور تکمیل کا راستہ ابھی مکمل طور پر صاف نہیں ہوا۔
پاکستان کے بادی النظر میں کئی دوست ممالک کو بھی راہداری کھٹک رہی ہے۔ کچھ ممالک کو گوادر پورٹ کا اپریشنل ہونا اپنے مفادات پر ضرب نظر آتی ہے۔ بھارت سمیت کچھ ممالک کو پاکستان کی ترقی و خوشحالی بھی گوارا نہیں‘ وہ اسکی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کیلئے سرگرداں ہیں۔ اقتصادی راہداری کی تکمیل پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا سنگ میل ہے۔ بھارتی قیادت کا خبث باطن سامنے آنے پر پاکستان کو بھی دفاع کا موقع مل گیا۔ بھارتی قیادت کے زبانی بیانات کا جواب تو ترکی بہ ترکی دیا جارہا ہے‘ مگر بھارت جس طرح راہداری کیخلاف سرگرم عمل ہے‘ اس طرح کی سفارتی سطح پر ہماری طرف سے کوششوں کا فقدان ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور چودھری نثار نے بھارتی لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات کا بھرپور جواب دیا ہے مگر سفارتی سطح پر ہنوز سردمہری پائی جاتی ہے۔ مودی کا چین کا دورہ طے شدہ تھا‘ اس دوران بھی وہ راہداری کی مخالفت کرنے سے باز نہ آئے۔ اب وہ اسرائیل کے دورے پر جارہے ہیں۔ اس میں یقیناً پاکستان کیلئے کوئی خیر کا پہلو تو نہیں ہوگا۔ بھارت کے پاکستان کے حوالے سے تحفظات کو امریکہ نے عموماً سپورٹ کیا ہے‘ وہ بھارت کو چین کے مقابلے میں لاکھڑا کرنے کیلئے بھی کوشاں ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو راہداری کی تعمیر و تکمیل میں پاکستان اور چین ایک طرف جبکہ علاقائی اور عالمی سطح پر اثرورسوخ رکھنے والے کئی ممالک دوسری طرف ہیں۔ گو عملی صورت ’’…کیا کریگا قاضی‘‘ والی ہے۔ مگر راہداری منصوبے کے دشمن کئی قسم کی غلط فہمیاں پیدا کرکے اس عظیم منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرینگے جس سے پاکستان اور چین کو خبردار رہنا ہوگا۔
وزیراعظم نوازشریف کو راہداری کی مخالفت پر بھارت کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے تھا مگر وہ بھارت کے اشتعال اور نفرت انگیز رویے پر محض افسوس کا اظہار کررہے ہیں۔ ایسے محتاط اور دفاعی رویے کی جو بھی وجوہات ہوں‘ خواہ وہ کاروباری اور تجارتی مفادات ہوں‘ قومی و ملکی مفادات ان سے بالاتر ہونے چاہئیں۔ مودی کو مودی کی زبان میں جواب دیں‘ راہداری کی رکاوٹ میں ہر ممکنہ رکاوٹ دور کرنے کیلئے خود متحرک ہوں اور سفارت کاری کو بھی فعال کریں۔ کل کے بجٹ اجلاس میں راہداری کی تکمیل کیلئے بھی اظہار یکجہتی سامنے آنا چاہیے اور راہداری کی تعمیر کے حوالے سے جو رقم مختص کی جائے‘ اس سے بھی واضح ہو ‘ہم اسکی بلاتاخیر تکمیل کیلئے پرعزم ہیں۔