عمران کی فوج کی نگرانی میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات پر آمادگی

ایڈیٹر  |  اداریہ
عمران کی فوج کی نگرانی میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات پر آمادگی

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خاں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملکی تاریخ میں اتنا بڑا بلدیاتی الیکشن نہیں ہوا جیسا خیبر پی کے میں ہوا ہے۔ دھاندلی کے الزامات پر ہم صوبے میں فوج کی نگرانی میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات کرانے کو تیار ہیں۔ انکے بقول ان انتخابات میں تحریک انصاف نے اکثریت حاصل کی تو دھاندلی کا شور مچایا گیا۔ الیکشن کمیشن خود فیصلہ کرے۔ اگر الیکشن ٹھیک نہیں ہوا تو فوج کی نگرانی میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
خیبر پی کے میں اگرچہ سپریم کورٹ کی متعینہ ڈیڈ لائن کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرائے گئے اسکے باوجود وہاں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ہی کا کریڈٹ ہے ۔ یہ الگ بات کہ پولنگ کے دوران خیبر پی کے حکومت کی انتظامی گرفت انتہائی کمزور رہی جس کے نتیجہ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سمیت 20 سے زیادہ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جبکہ پرتشدد مخالفانہ سیاست کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جو گزشتہ روز ایبٹ آباد کے ناخوشگوار واقعہ پر منتج ہوا ہے جس میں پی ٹی آئی کے چار کارکن جاں سے گئے۔ بے شک پری پولنگ اور بعداز پولنگ دھاندلی کے الزامات اور پولنگ کے دوران پرتشدد ہنگامہ آرائی ہی ہمارے انتخابی کلچر کا حصہ ہے جس کی خیبر پی کے بلدیاتی انتخابات میں بھی جھلک نظر آئی اور اب وہاں پی ٹی آئی کی حکومت کیخلاف دھاندلیوں کے الزامات کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے جس میں پی ٹی آئی کی حکومتی اتحادی جماعت اسلامی پیش پیش ہے جبکہ اے این پی، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) بھی دھاندلیوں کے الزامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی اور ان سب کی جانب سے دوبارہ انتخابات کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اکثریت حاصل کر لی تو دھاندلیوں کا شور مچایا جا رہا ہے۔ انکی یہی بات عام انتخابات کے حوالے سے حکمران مسلم لیگ (ن) دہرا سکتی ہے جس کیخلاف عمران کا دھاندلیوں کا شور شرابا جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی نوبت لایا ہے۔ عمران خاں کے حالیہ موقف سے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے کہ ہارنے والی کوئی پارٹی اور کوئی امیدوار خوشدلی سے اپنی شکست تسلیم نہیں کرتا تاہم یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ عمران خاں خیبر پی کے میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات پر آمادہ ہیں البتہ اسے وہ فوج کی نگرانی کے ساتھ مشروط کر رہے ہیں۔ جب وہ خود یہ دلیل دے رہے ہیں کہ انتخابات کرانا اور انکی شفافیت کو یقینی بنانے کے انتظامات کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے تو انہیں دوبارہ انتخابات کیلئے فیصلہ اور اسکے انتظامات کا معاملہ بھی الیکشن کمیشن پر ہی چھوڑ دینا چاہئے جبکہ امن و امان کی ذمہ داری سراسر وہاں کی حکومت کی ہی بنتی ہے جسے یقینی بنایا جانا چاہئے۔ فوج کو ہر مرض کے علاج کیلئے امرت دھارا بنانا مناسب نہیں ہے تاہم الیکشن کمیشن اس کی خدمات حاصل کرنے یا نہ کرنے کے معاملہ میں خود مختار ہے۔ اسی کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے تو امن و امان یقینی بنانے کیلئے خیبر پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کی تجویز دی تھی جو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے خود ہی قبول نہیں کی، اب اگر دوبارہ انتخابات کی نوبت آتی ہے تو پی ٹی آئی کو مزید خون خرابے سے بچنے کیلئے الیکشن کمیشن کی مرحلہ وار انتخابات کی تجویز قبول کر لینی چاہئے۔ بعدازاں یہی پالیسی پنجاب اور سندھ کے بلدیاتی انتخابات کیلئے اپنائی جا سکتی ہے۔