ریٹائرڈ سیکرٹریوں سے گاڑیاں واپس لی جائیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
ریٹائرڈ سیکرٹریوں سے گاڑیاں واپس لی جائیں

پنجاب کے دو سابق چیف سیکرٹری، متعدد وفاقی سیکرٹریوں نے پنجاب سے تبادلوں کے باوجود محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن کی ٹرانسپورٹ پول کی گاڑیاں واپس نہیں کی ہیں۔ بعض ریٹائرڈ افسر اور متعدد پوسٹوں پر لگے محکمے سروسز کے جونیئر افسر خود بھی دو سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔
بیوروکریٹ تبدیل یا ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی اپنے چہیتوں کے ذریعے پہلے والی مراعات سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں، انکے ماتحت کام کرنیوالے افسران میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ ریٹائرڈ ہونے یا تبادلے کے بعد ان سے کوئی گاڑی یا گھر واپس مانگ سکیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری محکمہ سروسز کی ایک گاڑی استعمال کر رہے تھے جو واپس لے لی گئی۔ اسی طرح سابق چیف سیکرٹری پنجاب نوید اکرم چیمہ اس وقت کرکٹ بورڈ میں کام کر رہے ہیں اور کرکٹ بورڈ سے بھی ساری مراعات لے رہے ہیں اسکے باوجود انہوں نے ایک سرکاری گاڑی قبضے میں رکھی ہوئی ہے۔ سابق چیف سیکرٹری جاوید اسلم کے پاس دو گاڑیاں ہیں، اگر ہر بیوروکریٹ ریٹائر ہونے کے بعد گاڑی ساتھ لے جائیگا تو حکومت نئے ترقی پانے والے افسر کو گاڑی کہاں سے دیگی؟ 1300 سی سی سرکاری گاڑی کا ماہانہ خرچ 40 ہزار روپے ہے، یہ سرکاری خزانے پر بوجھ ہے، سردار دوست محمد کھوسہ کو وزارت سے الگ ہوئے اور پھر پارٹی سے علیحدگی اختیار کئے ایک عرصہ گزر گیا لیکن ابھی تک وہ ایک سرکاری ڈالا استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت کو اس سلسلے میں کوئی واضح پالیسی بنانی چاہئے کیونکہ بیوروکریٹ جب ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو وہ ریٹائرمنٹ کے بعدوالی مراعات ہی استعمال کرنے کے حقدار ہیں، دوسروں کے حقوق پر انہیں ڈاکہ نہیں ڈالنا چاہئے۔ حکومت تمام ریٹائرڈ افسروں سے گاڑیاں واپس لے تاکہ سرکاری خزانے کا بوجھ ہلکا ہو سکے۔ ہر افسر کو اس کے عہدے کے مطابق گاڑیاں اور گھر الاٹ کئے جائیں تاکہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔