کامیاب مذاکرات کے بعد مال روڈ دھرنا بھی ختم

ایڈیٹر  |  اداریہ
کامیاب مذاکرات کے بعد مال روڈ دھرنا بھی ختم

دھرنا قائدین اور حکومتی وفد میں مذاکرات کامیاب مال روڈ پر بھی مذہبی جماعت کا دھرنا ختم، رانا ثناء اللہ کے استعفے کا معاملہ حمید سیالوی پر چھوڑ دیا۔ اشرف جلالی۔ فیصلہ نوازشریف کرینگے۔ وزیر قانون، راجہ ظفرالحق کمیٹی رپورٹ 20 دسمبر تک منظر عام پر لائی جائے گی۔ دھرنا مظاہرین بھی اسلام آباد معاہدہ کی پابندی کریں گے۔
حکومت پنجاب سے کامیاب مذاکرات کے بعد مال روڈ پر تحریک لبیک یا رسول اللہؐ (اشرف جلالی گروپ) نے 7 روز سے جاری دھرناختم کردیا۔اسلام آباد میں دھرنے کے خاتمے کے بعد امید تھی کہ لاہور میں بھی جاری دھرنا اختتام پذیر ہوگا۔ مگر لاہور میں دھرنے کے قائد اشرف جلالی نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے بعض مطالبات پیش کئے جس پر حکومت کی طرف سے سعد رفیق، زعیم قادری اور رانا مشہود پر مشتمل وزرا کے وفد نے دھرنے کے قائدین سے مذاکرات کئے جس میں راجہ ظفرالحق کمیٹی رپورٹ، رانا ثناء اللہ کے بیانات اور استعفیٰ کے ساتھ مساجد میں لائوڈ سپیکر کے استعمال اور اسلام آباد دھرنے کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر عملدرآمدپر اتفاق رائے کیا گیا۔ جس کے بعد دھرنے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے مولانا اشرف جلالی نے کہا ہے کہ اگر معاہدے پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو وہ دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے۔ رانا ثناء اللہ نے اپنے استعفے کا معاملہ نوازشریف پر چھوڑ دیا ہے۔ جبکہ مولانا اشرف جلالی نے یہ معاملہ حمید سیالوی کے حوالے کر دیا ہے۔ مساجد میں لائوڈ سپیکر کے حوالے سے امید ہے یہ معاملات بھی احسن طریقے میں حل ہونگے۔ وقت کا تقاضہ بھی یہی ہے ایسے معاملات افہام تفہیم سے حل ہوں۔اور دوبارہ کوئی ایسی نوبت نہ آئے جو دھرنوں کا سبب بنے۔