میاں صاحب!ملی عوامی پارٹی کے نظریات سے کیا تعلق کیسی وابستگی؟

ایڈیٹر  |  اداریہ
میاں صاحب!ملی عوامی پارٹی کے نظریات سے کیا تعلق کیسی وابستگی؟

پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے باور کرایا ہے کہ جسے عوام پلس کریں اسے کوئی مائنس نہیں کر سکتا۔ مائنس پلس کا بڑا کھیل ہو چکا۔ اس سے انتشار پیدا ہوتا اور منزل کھوٹی ہوتی ہے۔ حکومتیں ووٹ سے بنیں اور جائیں۔ وہ گزشتہ روز کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام خان عبدالصمد خان اچکزئی کی 44 ویں برسی کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ سابق وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران انگریز سامراج کے خلاف عبدالصمد اچکزئی کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قرار دیا کہ پشتونخواہ ملی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نظریاتی رشتے میں منسلک ہیں اور محمود خان اچکزئی سے ان کی نظریاتی وابستگی اور تعلق ہے جبکہ محمود خان اچکزئی نے ملک کو خانہ جنگی سے بچانے اور بحران سے نکالنے کے لئے ان کے شانہ بشانہ جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہارکیا۔ 1947ء میں صوبہ سرحد اور بلوچستان میں کانگریس کی نمائندگی کرنے والے عبدالغفار خان اور خان عبدالصمد اچکزئی، جنہوں نے اپنی خدمات کے حوالے سے ’’سرحدی گاندھی‘‘ اور ’’بلوچی گاندھی‘‘ کا نام پایا کی تمام تر کوششوں کے باوجود برصغیر کی مسلم آبادی نے بھاری اکثریت سے قیام پاکستان کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ ان کی باقیات کی ہمدردیاں آج بھی سرحد پار سے وابستہ ہیں اور ان کی زبانیں اپنوں سے زیادہ غیروں کی تعریف کرتے نہیں تھکتیں۔ ایسے میں پاکستان کی ایک اہم بڑی اور قائداعظم کی وراثت کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعت کے سربراہ کا نظریاتی مخالفین سے یکجائی کا بیان تاریخی حقائق جھٹلانے اور مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بیان ایک مقبول سیاستدان کی عوامی جذبات سے بے خبری ہی نہیں پاکستان کی سیاسی ، مذہبی تاریخ سے عدم واقفیت بھی ہے۔ ایسے سیاسی مسائل پر بیان بازی سے گریز لازم ہے جن کا تعلق پاکستان کی تاریخ اور قیام سے ہو، میاں محمد نواز شریف نے کچھ ایسا ہی بیان لاہور میں دیا تھا۔ جب کہا کہ پاکستانیوں اور بھارتیوں کا کلچر ایک ہے، وہ سب آلو گوشت کھاتے ہیں۔ طرفہ تماشا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نظریاتی مخالفین کو اپنے ساتھ قومی دھارے میں لانے کے بجائے خود ان کی بچھائی ہوئی بساط پر کھیلنے لگے ہیں۔