پاکستان بھارت تین تجارتی معاہدوں کیلئے پیشرفت اور بھارت سے بجلی کی درآمد کا بھی عندیہ یہ ملکی معیشت کے استحکام کا ایجنڈا ہے یا اسکی تباہی کا؟

پاکستان نے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے بعد دونوں ممالک کے مابین تجارت کو فروغ دینے کے انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کے سیکرٹریز تجارت کے مابین اس ماہ 12، 13 ستمبر کو مذاکرات ہونگے۔ اس سلسلے میں ”وقت نیوز“ کو موصول ہونیوالی دستاویزات کے مطابق پاکستان، بھارت مذاکرات میں پیشرفت جاری ہے اور ابتدائی معاملات طے پانے کے بعد دونوں ممالک تین معاہدوں پر دستخط کریں گے جن میں کسٹمز معاملات میں تعاون، تجارت سے متعلق شکایات پر کارروائی اور کوالٹی کنٹرول سے متعلق پاکستان اور بھارت کے اداروں، پی ایس کیو سی اے اور بی آئی ایس کو باہم تسلیم کرنے کے معاہدے شامل ہیں۔ اسکے علاوہ بھارت نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھارت میں سرمایہ کاری کی اجازت دیدی ہے تاہم یہ سرمایہ کاری بھارتی حکومت کے ذریعے ہوسکے گی اور وہ دفاع، خلاءاور اٹامک انرجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری نہیں کرسکیں گے۔ اسی طرح بھارت نے زراعت اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات کئے ہیں اور بھارتی کابینہ نے سافنا معاہدے کی حساس اشیاءکی فہرست میں 30 فیصد تک کمی کی ہے جس سے ٹیکسٹائل کے شعبے کی 106 اور زرعی سیکٹر کی 155 اشیاءحساس فہرست سے نکل گئی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق تجارت کے فروغ کیلئے دونوں ممالک واہگہ بارڈر پر انفراسٹرکچر کی تعمیر کا کام کررہے ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو پانچ سو میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کیلئے بھی دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کے دو ادوار ہوچکے ہیں اور اس معاملہ پر مذاکرات کا تیسرا دور اکتوبر میں متوقع ہے۔ اسی طرح پاکستان کو پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کیلئے بھی پاکستان، بھارت مذاکرات کا ایک دور جولائی میں ہوچکا ہے جبکہ بھارت پاکستان کو ایل این جی برآمد کرنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔
ہمارے حکمران اپنے اقتدار کے آخری دور میں جس سرعت کے ساتھ بانہیں پھیلائے اپنی موت کے ساتھ بغلگیر ہونے کیلئے دوڑے چلے جا رہے ہیں اس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی تجارت و معیشت پر بھارتی غلبے کی اس ماہ ستمبر میں راہ ہموار ہوتی نظر آرہی ہے۔ یہ مہینہ پاکستان کی سرزمین پر مختلف حوالوں سے پاکستان بھارت مذاکرات کے ادوار کا مہینہ ہے۔ موجودہ ہفتے کے آخری روز 7 ستمبر کو بھارتی وزیر خارجہ دو روزہ دورے پر پاکستان آرہے ہیں جن کے اپنے ہم منصب پاکستانی وزیر خارجہ سے پاکستان بھارت تنازعات پر مذاکرات ہوں گے جو 9 ستمبر تک جاری رہیں گے جبکہ اس سے قبل 7 ستمبر کو پاکستان بھارت خارجہ سیکرٹریوں کے بھی مذاکرات شیڈول میں شامل ہیں۔ اسی طرح تین تجارتی معاہدوں پر دستخطوں کیلئے بھی پاکستان بھارت تجارتی سیکرٹریوں کے دو روزہ مذاکرات اسی ماہ 12 ستمبر سے اسلام آباد میں شروع ہورہے ہیں جبکہ بھارت سے ایل این جی کی درآمد کے سلسلہ میں پہلے ہی دو روزہ مذاکرات ہوچکے ہیں جن کی بنیاد پر وفاقی مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے گزشتہ ہفتے قوم کو ”خوشخبری“ سنائی تھی کہ ہم بھارت کے ساتھ ایل این جی (لیکویڈ نیچرل گیس) کی درآمد کے معاہدہ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اب ہم بھارت کے ساتھ تھرمل بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے بھی معاہدے کرنے جا رہے ہیں جس کے بعد ہمارے توانائی کے سیکٹر سمیت ہماری معیشت بھارت کی مکمل دسترس میں آجائیگی اور ہماری منڈیوں میں ہماری اپنی مصنوعات کی جگہ بھی بھارتی مصنوعات فروخت ہوتی نظر آئیں گی۔
اصولی طور پر تو ہمیں بھارت کے ساتھ کشمیر اور پانی کے بنیادی تنازعات طے کرنے کیلئے مذاکرات پر زور دیناچاہئے۔آخر نتیجہ خیز بحث کے بعد ہی شاید بھارت سے دوستانہ مراسم اور تجارتی روابط بڑھانے کا سوچا بھی جاسکتا ہے۔ بھارت کا کشمیر ایشو پر قطعاً بات نہ کرنے کا تہیہ صرف اس ہی بات کا ثبوت ہے کہ اسکی اصل نیت ہماری شہ رگ پر مستقل قابض ہو کر اس جانب سے آنیوالے ہمارے دریاﺅں کے پانی کے ایک ایک قطرے کو روکنے اور سونا اگلتی ہماری زرخیز زرعی دھرتی کو ریگستان میں تبدیل کرکے ہمیں ایتھوپیا، صومالیہ جیسے قحط اور خشک سالی والے انجام سے دوچار کرنے کی ہے۔بھوکے، پیاسے کمزور پاکستان کو بغیر کسی تردد کے ہڑپ کرنے میں اس صورت میں پھر اسے آسانی پیش آئےگی۔ اسی حکمت عملی کے تحت بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنی ایک ریاست کا درجہ دیکر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رہا ہے اور اب اسکی نظریں پاکستان سے ملحقہ آزاد کشمیر پر بھی جمی ہیں جسے وہ بزعم خویش مقبوضہ کشمیر قرار دیکر دنیا کو یہ تاثر دے رہا ہے کہ پاکستان نے اس پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے۔ اس معاملہ میں دو ہفتے قبل بھارتی وزیر داخلہ ہرزہ سرائی بھی کرچکے ہیں چنانچہ بھارت کشمیر پر مذاکرات کیلئے آمادگی کا اظہار کرتا ہے تو اسکے پیش نظر بھارتی مقبوضہ کشمیر ہرگز نہیں ہوتا جبکہ بھارتی فوجوں کے زیرتسلط آنیوالی مقبوضہ وادی میں یو این قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرانے کے کسی تقاضے کو وہ سننے کا بھی روادار نہیں ہوتا اور اس حوالے سے جب بھی پاکستان بھارت مذاکرات ہوں، چاہے وہ جس بھی سطح پر ہوں، مقبوضہ کشمیر کا تذکرہ ہوتے ہی بھارت رعونت کے ساتھ مذاکرات کی میز الٹا دیتا ہے اور پاکستان پر دراندازی اور دہشت گردوں کی سرپرستی کے الزامات کی بوچھاڑ کردیتا ہے۔ اس صورتحال میں بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو بھارت ہمیں بھوکا پیاسا مارنے کیلئے ہماری شہ رگ کشمیر کو دبوچے رکھنا چاہتا ہے، کیا وہ ہماری معیشت کے استحکام کیلئے کسی قسم کی معاونت کرنے میں مخلص ہوسکتا ہے۔ اسکی نیت سپر پاور بنے کی ہے، پاکستان کی خوشحالی سے بھارت کو کیا غرض ہوسکتی ہے؟ اسلئے اگر وہ ہمیں پٹرولیم مصنوعات، ایل این جی، بجلی اور اجناس و خوراک سمیت اپنی مصنوعات برآمد کرنے کی پیشکشیں کررہا ہے تو یقینااس میں بھی کوئی ٹریپ ہوگا جس میں اسکی بہتری اور پاکستانی ٹیکس پیئر کا نقصان ہوگامگر ہمارے حکمرانوں کو ایسی بھارتی چالبازیوں کی سمجھ ہی نہیں آرہی اور وہ ہاتھ پھیلائے بھارت کی جانب بھاگے چلے جا رہے ہیں۔
بھارت نے پہلے چالبازی کے ساتھ ہم سے ”موسٹ فیورٹ“ کا سرٹیفکیٹ حاصل کرکے اسکی بنیاد پر یورپی منڈیوں میں اپنی جگہ بنائی اور ہمارے لئے ان منڈیوں کے دروازے بنگلہ دیش کے ہاتھوں اٹھائے گئے اعتراض کے ذریعے بند کرادئیے جبکہ اب وہ تجارتی معاہدوں کی بنیاد پر ہماری تجارت و معیشت پر قابض ہونے کی منصوبہ بندی بھی مکمل کئے بیٹھا ہے جسکے باعث ہم ایک زرعی ملک ہو کر بھی بھارت سے سبزیاں، پھل، گوشت اور اجناس تک درآمد کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اسکے مقابلے میں بھارت کیلئے ہماری برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں اور گزشتہ دو سال سے ہم بھارت کے ساتھ مسلسل خسارے کی تجارت کئے چلے جا رہے ہیں جس کا اندازہ اس سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ سال 2010-2011ءمیں بھارت کی ایک ارب 95 کروڑ ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں بھارت کیلئے ہماری برآمدات صرف 28.7 کروڑ ڈالر رہیں جبکہ سال 2011-2012ء کے دوران بھارتی ایک ارب 25 کروڑ ڈالر کی درآمدات کے مقابلہ میں ہم نے اب تک صرف 33.3 کروڑ ڈالر کی اشیاءبھارت بھجوائی ہیں۔ توانائی کے بحران سے ہماری معیشت ویسے ہی تباہ حال ہے اور صنعتوں کا پہیہ جام ہونے کے باعث ہماری برآمدی مصنوعات نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ اس صوتحال میں جب بھارت سے تجارتی معاہدے کرکے اسکی مصنوعات کیلئے ملکی منڈیوں کے دروازے کھول دئیے جائینگے تو ہماری سسکتی ہوئی معیشت اپنی موت آپ مرجائیگی چنانچہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے تو اعلانیہ اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہیں۔ یہ طرفہ تماشہ ہے کہ قطر، ترکی، ایران اور چین کی جانب سے ہمیں بجلی، گیس، پٹرول درآمد کرنے کی کئی پیشکشیں موجود ہیں اور پاکستان، ایران گیس پائپ لائن اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جسکے بعد ہمیں کہیں اور سے گیس درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، اسکے باوجود ہمارے مشیر پٹرولیم ہمیں گیس، بجلی، پٹرول میں بھارت کا مرہون منت بنانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ نہ جانے وہ کس کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں تاہم توانائی کے سیکٹر میں بھارت پر تکیہ کرنا ہمارے قومی مفادات والے ایجنڈے کی تکمیل ہرگز نہیں۔
اس صورتحال میں اب بھی بہتر یہی ہے کہ بھارت سے تجارت اور توانائی کے شعبے میں اسکی معاونت حاصل کرنے کا ارادہ ترک کردیا جائے اور برادر اسلامی ممالک اور چین کی معاونت سے توانائی کے حصول کیلئے اپنے وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔ بھارت سے اگر مذاکرات ہوں تو مسئلہ کشمیر اور آبی جارحیت کے نتیجہ خیز حل کی نیت سے ہوں۔فی الحال اور کوئی بھی بحث محب وطن پاکستانیوں کو مناسب معلوم نہیں ہوگی۔



3