مہنگائی کا نیا طوفانحکمران کیاچاہتے ہیں؟

 پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے ہی مہنگائی کا نیا طوفان، کرایوں میں اضافہ ۔ اے این پی نے مطالبہ کیا ہے مشیر پٹرولیم استعفیٰ دیں جبکہ متحدہ کا کہنا ہے:اوگرا کو ختم کیاجائے، اسکے ساتھ ہی مہنگائی کا ایک رخ یہ ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کردی گئی ہے،مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا، پٹرولیم کی قیمتیں بڑھتے ہی دیگر اشیاءکے نرخوں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوںمیں اضافہ ہوگیا اور عوام پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان ٹوٹ پڑا، آخر ان پانچ مہینوں میں حکومت کیوں پانچ سال کے برابر لوٹ مار کرنے کے درپے ہے اور کیوں لوگوں کو نرخوں میں ریلیف نہیں دیاجاتا پھر تیل کی حالیہ مہنگائی نے زندگی کے ہر شعبے کو ہلاکر رکھ دیا ہے ۔اے این پی اور متحدہ نے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرادیا ہے جو کم از کم ریکارڈ پر تو رہے گا کہ انہوں نے حکومت کا زبانی ساتھ تو نہیں دیا تھا، ویسے یہ دو اتحادی اگر پسند کرتے تو حکومت کی اتنی بڑی زیادتی پر اُس سے علیحدگی بھی اختیار کرسکتے تھے اس سے اُنکی سیاسی ساکھ کسی حد تک تو محفوظ رہ جاتی، بہرحال وہ بہتر جانتے ہیں، کیا پٹرولیم مصنوعات کی ہولناک گرانی کمی تھی کہ ساتھ ہی جان بچانے والی ادویات کی بھی مصنوعی قلت پیدا کردی گئی تاکہ کوئی بچناچاہے تو بھی موت سے نہ بچ سکے، آخر عام لوگ جو اس طوفان گرانی کا براہ راست ہدف ہیں اور اُنکے شب و روز تنگ ہوگئے ہیں کیا کسی آسمانی امداد کا انتظار کر رہے ہیں ،آسمان بھی زمین والوں کی حرکت کے بعد متحرک ہوتا ہے۔ یہ مہنگائی جو تیل فروش لابی کو فائدہ اور خود کو بھتہ پہنچانے کی سوچی سمجھی مہم ہے اسے کون ختم کرےگا،وسائل سے مالا مال ملک اس درجہ غربت مہنگائی بیروزگاری کا شکار ہو، یہ بات سمجھ سے بالا ہے،البتہ ہماری اپنی کوششوں سے بالا نہیں، چاہیں تو اپنی حالت بدل سکتے ہیں ،پھر اللہ تعالیٰ بھی مدد فرمائے گا۔مہنگائی ہفتہ وار بنیادوں پر نافذ کردی گئی ہے،اسکے باوجود 18کروڑ منہ بند اور زبانیں خاموش ہیں۔ حکومت پٹرولیم کی وزارت کو لگام دے، اضافہ واپس لے اور اُن با اثر و با اختیار افراد پر ہاتھ ڈالے جو زندگی بچانے والی ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرکے فرعون کا کردارادا کر رہے ہیں۔