بلوچستان میں بد امنی پھیلانے والے خفیہ ہاتھ

 وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں۔ بلوچستان صوبے کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے اور گوادر پورٹ کو ناکام بنانے میں کئی طاقتوں کا فائدہ ہے، یہ درست ہے لیکن وزیراعلیٰ اتنا اعلان کرکے اپنے آپ کو ذمہ داری سے بالاتر نہ سمجھیں۔ اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور فائرنگ کے واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور امن و امان قائم کرنا حکومتی اداروں کیلئے بدستور مسئلہ بنا ہوا ہے۔پورے بلوچستان پر ڈر اور موت کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ ہر روز کئی افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں حکومت کا دعویٰ ہے کہ حالات کنٹرول میں ہیں اور امن و امان قائم کرنے کیلئے تمام تر اقدامات کیے جارہے ہیں جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے صوبائی حکومت مکمل طورپر مفلوج ہوچکی ہے۔ بلوچستان میں اس وقت امن و امان کی صورت حال قومی اور صوبائی لیڈروں کی سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی کا کڑا امتحان ہی نہیں بلکہ ان کی کل وقتی اور بھرپور توجہ بھی چاہتی ہے تاکہ صوبے میں بڑھتے ہوئے لاقانونیت کے رجحان کے آگے بند باندھا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے حالات خراب کرنے کیلئے غیر ملکی طاقتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کیلئے سرگرم عمل ہیں جبکہ وفاقی وزیر داخلہ بھی ماضی میں ایک تو اتر سے اس سمت اشارہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ان بیانات کے بعد یہ بات یقینا ناقابل فہم ہے کہ مرض کی نشاندہی کے بعدصوبے میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے والی طاقتوں کے خلاف کوئی ٹھوس اور موثر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ انہیں من مانی کرنے کی کھلی چھٹی دینے میں آخر کیا مصلحت کار فرماہے؟ مار دھاڑ کرنے اور اغوا کے مواقع میں ملوث دہشت گرد عناصر کو ان طاقتوں سے حوصلہ افزائی بھی ملتی رہتی ہے، چونکہ دشمن کا دشمن دوست سمجھا جاتا ہے۔رہی بات ایف سی اور خفیہ اداروں کی، تو اُن پر کسی کا حکم چلتا ہے نہ اُن کی کارروائیوں پر جانچ پڑتال کی کوئی قدرکی جاتی ہے۔بلوچستان کے حالات ہر محب وطن پاکستانی کیلئے دکھ اور اضطراب کا باعث ہیں، معدنی وسائل سے مالا مال ملک کا سب سے بڑا صوبہ اگر اسی طرح امن و امان کی خراب صورت حال کا شکار رہا اور مسائل کی آگ میں سلگتا رہا تو اس کی شدت خدانخواستہ مستقبل میں ملک کے دوسرے حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ تب حالات کنٹرول کرنے کی ساری کوششیں بے سود ثابت ہوںگی اور پھر وزیراعلیٰ کی حالات کی ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی خواہش بھی شائد پور ی نہ ہوسکے۔